Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / قطر کے این آر آئز دیہی تلنگانہ میں اسکولی طلبہ کی مدد کے خواہاں

قطر کے این آر آئز دیہی تلنگانہ میں اسکولی طلبہ کی مدد کے خواہاں

تنظیم ویکوا کا قیام ، 100 اسکولس کا احاطہ ، نوٹ بکس ، پینس ، اسٹیشنری کی فراہمی
حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : قطر میں مقیم غیر مقیم ہندوستانیوں ( این آر آئیز ) کے ایک گروپ نے ایک تنظیم ، ویکووا کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ ریاست تلنگانہ میں دیہی علاقوں کے اسکولوں تک پہنچا جاسکے ۔ ویکوا نے دیہی تلنگانہ میں اسکولس کا انتخاب کیا ہے اور طلبہ کو نوٹ بکس ، پینس ، اور دیگر اسٹیشنری فراہم کرتی ہے ۔ ویکوا کی جانب سے 100 سے زائد اسکولس کا احاطہ کیا جارہا ہے جس میں تقریبا دس ہزار طلبہ ہیں ۔ یہ گروپ اب سافٹ اینڈ کمیونیکیشن اسکلس کی ٹریننگ فراہم کرنے کے لیے ایک پروگرام ، پریرنا کا اہتمام کررہا ہے ۔ اس کی پہل کس طرح کی گئی اس کے بارے میں بتاتے ہوئے قطر میں کام کرنے والے ورنگل کے متوطن راجو کونتھم نے کہا کہ وہ ان کے دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ کس طرح وہ ان کی ریاست کے لیے کچھ کرسکتے ہیں جسے قائم ہوئے صرف ایک سال کچھ ماہ کا عرصہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے بہت سارے دوست اس میں مدد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ لیکن سپورٹ بیس کا فقدان ان کے لیے مانع بن گیا ہے ۔ تلنگانہ ڈیولپمنٹ فورم ( قطر ) قائم کرنے والے تین لوگوں کے ایک گروپ میں جلد ہی تلنگانہ کے 100 این آر آئیز بطور ممبرس شامل ہوگئے ہیں ۔ حکومت قطر کے ایکسپریس وے پراجکٹ میں کام کرنے والے مسٹر کونتھم نے کہا کہ ہم بھی گورنمنٹ اسکولس میں تعلیم حاصل کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ طلبہ کو کیا چیز کی کمی ہوتی ہے ۔ ہم نے ویکوا کا قیام عمل میں لایا ہے جو ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے اور یہ دیہی تلنگانہ میں گورنمنٹ اسکولس پہنچ کر طلبہ کی مدد کرے گی ۔ مسٹر کونتھم نے کہا کہ اسکلس ٹریننگ اینڈ موٹیویشنل پروگرام کے لیے ہم نے انٹریو لئے اور چھ اشخاص کو شارٹ لسٹ کیا ہے جو اس کام کو شروع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے اخراجات تنظیم برداشت کرے گی ۔ اس پروگرام کا پہلا مرحلہ جاری ہے اور ریاست تلنگانہ کے تقریبا 200 اسکولوں کا رجسٹریشن کیا گیا ہے ۔ آئندہ مرحلہ میں یہ پروگرام مزید 250 اسکولس میں منعقد کیا جائے گا ۔ جس کا آغاز اس سال ماہ اکٹوبر سے ہوگا ۔ مسٹر کونتھم نے بتایا کہ ہم بے روزگار گریجویٹس کی جو ہندوستان یا بیرون ملک میں جابس تلاش کررہے ہیں مدد کرنے میں بھی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ فنڈس کا غلط استعمال ہو یا ہماری کاوشوں کو غلط سمجھا جائے ۔ ہم ایک غیر سیاسی گروپ کے ارکان ہیں اور سماج کی بہتری کے لیے خدمت کرنے کوشاں ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT