Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / قلبی و ذہنی پاکیزگی سے انسان میں مثبت تبدیلی

قلبی و ذہنی پاکیزگی سے انسان میں مثبت تبدیلی

ظاہری شخصیت سے منفی رجحانات، ڈبلیو سعادت اللہ خان
حیدرآباد۔4۔ڈسمبر (سیاست نیوز) انسان کی قلبی و ذہنی پاکیزگی کے ذریعہ ہی انسان کے اندر مثبت تبدیلی ممکن ہے لیکن عام طور پر ظاہری شخصیت کو بہتر بنانے پر توجہ مبذول کی جانے لگی ہے جو کہ انسان کے منفی رجحانات اور اس کے اندر تیزی سے بڑھتی جا رہی غیر واضح سونچ اسے ناکام بنارہی ہے۔ جناب اے۔ ڈبلیو سعادت اللہ خان ایڈیٹر اسلامک وائس نے آج خصوصی ملاقات کے دوران یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ مثبت فکر کے حامل نوجوان ہی معاشرتی تبدیلی کے نقیب ثابت ہو سکتے ہیں اور مثبت فکر کی تعلیم مذہب اسلام نے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں میں فکر کا ٹکراؤ ان کی ذہنی نشوونما میں رکاوٹ بننے لگا ہے جسے پاک کرتے ہوئے انہیں دینی و دنیاوی اعتبار سے کامیاب بنانا ناگزیر ہے۔جناب سعادت اللہ خان جو حیدرآباد میں سہ روزہ سیشن کے دوران مثبت و اسلامی فکر کے رجحانات سے واقف کروارہے تھے نے بتایا کہ انسان جسم‘ قلب اور دماغ سے مکمل ہوتا ہے اور جب تک پاکیزہ قلب دماغ پر کنٹرول کا متحمل نہیں ہوتاانسان کی جسمانی شخصیت و اخلاقیات میں نکھار پیدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شخصیت سازی دراصل انسان کے قلب کو پاکیزہ بنانے اور اسے رجوع الی اللہ کرنے کا نام ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے انسان کو زمین پر اپنا خلف بنایا ہے تو انسان ان پیمانوں پر پورا اترنے کے لئے اس کے احکامات کو ماننے کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو اس طرح تیار کرے کہ اس سے نہ صرف دنیا خوش ہو بلکہ اللہ بھی راضی ہو جائے۔ جناب سعادت اللہ خان نے کہا کہ انسان کے ساتھ برائی اور اچھائی دونوں ہیں لیکن جب برائی اس پر غالب آجاتی ہے تو وہ ظاہری اعتبار سے کتنا ہی جاذب نظر کیوں نہ ہوجائے لیکن اس کے خیالات منفی فکر اور دیگر لغویات سے پاک نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے انسان کے نظریاتی اصولوں کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے اور یہ اسی وقت تبدیل ہو سکتے ہیں جب اس کے قلب میں پاکی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو منفی فکر سے نہ صرف نکالا جائے بلکہ اس میں مثبت فکر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کامیاب زندگی گذارنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اس پروگرام کا انعقاد عوامی انصاف موومنٹ کی جانب سے عمل میں لایا گیا تھا ۔ پروگرام میں جناب ای ۔اسمعیل ‘ ڈاکٹر سید امام شوکت علی‘ جناب سید بشیر الدین عمران ‘ محترمہ عالیہ بیگ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ محترمہ عالیہ بیگ اسسٹنٹ پروفیسر کیمسٹری جامعہ عثمانیہ نے بتایا کہ وہ طویل مدت سے اس پروگرام میں شرکت کررہی ہیں جو ان کیلئے کافی مددگار و معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام میں دی جانے والی مثبت فکر کے سبب وہ اپنے لکچر کے دوران اپنے طلبہ پر مکمل توجہ اور انہیں مضمون میں متوجہ رکھنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہیں۔ جناب سید بشیر الدین انسٹیٹیوٹ آف ہیومن ایکسلنس اینڈ پروفیشنل منیجمنٹ نے بتایا کہ یہ سہ روزہ پروگرام کے علاوہ طویل مدتی پروگرامس بھی ہیں جو حیدرآباد میں چلائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ شخصیت سازی اور نظریاتی تبدیلی کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ محمد فردوس علی شاداب نے بتایا کہ ان پروگرامس میںشرکت کے دوران انہوں نے تربیت کے مختلف مراحل میں اپنی شخصیت میں تبدیلی محسوس کی ہے کیونکہ اندر سے جب تبدیلی رونما ہونے لگتی ہے تو اس کے معاشرتی اثرات ظاہری طور پر بھی نظر آنے لگتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT