Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / قندھار ایرپورٹ پر طالبان حملہ، 37 افراد ہلاک

قندھار ایرپورٹ پر طالبان حملہ، 37 افراد ہلاک

طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی، 150 سپاہیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
قندھار ۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) افغان وزارت دفاع نے کہا ہیکہ قندھار ایرپورٹ پر طالبان عسکریت پسندوں کے حملے میں آج کم سے کم 37 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوگئے۔ وزارت نے کہا کہ ’’9 تخریب کار ہلاک کردیئے گئے ہیں لیکن آخری اطلاعات ملنے تک ایک تخریب کار ہنوز ہمارے فورسیس کے خلاف مزاحمت کررہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’لڑائی کے دوران بدقسمتی سے 37 بے گناہ افغان ہلاک اور دیگر 35 زخمی ہوگئے‘‘۔ تاہم انہوں نے ان ہی سویلئنس کی تعداد کی وضاحت نہیں کی۔ مقامی شہریوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ افغان سپاہی اس لڑائی کے دوران تخریب کاروں سے بار بار یہ درخواست کررہے تھے کہ خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا جائے جو (خواتین اور بچے) پریشانی و سراسیمگی کی حالت میں چیخ و پکار کررہے تھے۔ ایک سیکوریٹی عہدیدار نے کہا کہ حملہ آوروں نے اپنے بچاؤ کیلئے چند شہریوں کو ’’انسانی ڈھال‘‘ بنا لیا تھا، جس کے نتیجہ میں حملہ آوروں کا صفایا کرنے کی کارروائی پیچیدہ ہوگئی۔ جنوبی شہر قندھار کو طالبان کا مقام پیدائش سمجھا جاتا ہے، جہاں حالیہ عرصہ کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ ایرپورٹ کے وسیع و عریض احاطہ میں افغان اور ناٹو کا مشترکہ فوجی اڈہ بھی ہے۔ منگل کو غروب کے بعد عسکریت پسندوں نے سخت ترین مقام پر باب الداخلہ کا پہلا گیٹ توڑ کراحاطہ میں رسائی حاصل کی تھی۔ بعدازاں قدیم اسکولی عمارت پر مورچہ سنبھالتے ہوئے سیکوریٹی فورسیس کے ساتھ گھمسان لڑائی شروع کی تھی۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اس کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’150 سے زائد افغان اور بیرونی سپاہی گھمسان لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔
تخریب کار اپنی اکثر کارروائیوں میں لڑائی کے بارے میں بڑھا چڑھا کر دعوے کیا کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہیکہ افغان صدر اشرف غنی اسلام آباد میں آج سے شروع ہوئی ’قلب ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں، جس کا مقصد علاقائی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ طالبان لیڈر ملااختر منصور کے حشر کے بارے میں متضاد دعوؤں کے درمیان یہ حملہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT