Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی

قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی

بے قاعدگیوں کو پوشیدہ رکھنے بعض ادارے اچانک معائنوں کے مخالف
حیدرآباد۔/19اپریل، ( سیاست نیوز)  ٹی آر ایس کے ارکان قانون ساز کونسل بھانو پرساد اور کے پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ بعض تعلیمی ادارے قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعہ طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کررہے ہیں اور اپنی بے قاعدگیوں کو چھپانے کیلئے تعلیمی اداروں کے اچانک معائینوں کی مخالفت کی جارہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھانو پرساد نے کہا کہ حکومت  ایسے اداروں پر دھاوے کرتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے طلباء کو بہتر تعلیم فراہم کرتے ہوئے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے جنہوں نے قواعد کی تکمیل نہیں کی ان سے تعلیمی نظام کو خطرہ لاحق ہوگا اور طلباء کا مستقبل خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام تعلیمی ادارے معیار اور انفراسٹرکچر کے ساتھ کام کریں تاکہ حکومت کے بہتر تعلیم کی فراہمی کے منصوبہ میں کامیابی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارروائیوں کی تعلیمی اداروں کی جانب سے مخالفت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کو عوامی تائید حاصل ہے جبکہ کانگریس قائدین غیر ضروری طور پر تنقیدیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانا حکومت کا مقصد ہے اور اس سلسلہ میں کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے ہڑتال کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ وہ  انفراسٹرکچر اور فیکلٹیز کی کمی کو پورا کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کریں۔ اسی دوران عثمانیہ یونیورسٹی طلباء جے اے سی نے کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے صدرنشین پاپی ریڈی کو یادداشت پیش کرتے ہوئے کالجس کے خلاف دھاوؤں کا سلسلہ جاری رکھنے کی اپیل کی۔ طلباء جے اے سی کا کہنا ہے کہ کئی کالجس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور حکومت کی جانب سے دی جارہی فیس باز ادائیگی اسکیم کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ جے اے سی نے کالجس کے خلاف کارروائیوں کی تائید کی ہے۔ کے پربھاکر نے وضاحت کی کہ حکومت کا مقصد تعلیمی اداروں کو ہراساں کرنا نہیں ہے بلکہ وہ بہتر تعلیمی سہولتوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کالجس کے معائنہ کا مقصد بنیادی سہولتوں کی جانچ ہے جبکہ کئی ادارے طلباء کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض کالجس کی بے قاعدگیوں کو کانگریس کی تائید افسوسناک ہے۔ کانگریس قائدین کو یہ طئے کرنا چاہیئے کہ وہ طلباء کے ساتھ ہیں یا پھر خانگی اداروں کے ساتھ۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت بنیادی سہولہتوں سے محروم کالجس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT