Thursday , September 21 2017
Home / اداریہ / قومی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر

قومی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر

ذرا بتلاؤ قصہ کیا ہوا ہے
ستمگر تم سے جو بدلا ہوا ہے
قومی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر
ہندوستان کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں لاقانونیت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ طالب علموں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والی سیاسی طاقتوں کے بارے میں ایک منظم مہم چلانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ ملک میں جب سے فرقہ پرستوں کا غلبہ ہوا ہے حکمراں طبقہ اپنی من مانی پالیسیوں اور مطلب پر مبنی تعلیمی سرگرمیوں پر زور دینے کی کوشش کررہا ہے۔ نتیجتاً یونیورسٹیوں میں حالات متواتر ابتر بنائے جارہے ہیں۔ کچھ طاقتیں یونیورسٹیوں میں انتہاء پسندی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سرینگر میں نشینل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں گذشتہ کئی دنوں سے مقامی طلباء اور غیرمقامی طلباء کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے۔ قوم پرستی کے مسئلہ پر طلباء کو نشانہ بنانے کا عمل افسوسناک رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ زائد از 1000 غیر کشمیری طلباء نے کیمپس چھوڑ دیا ہے۔ انسٹیٹیوٹ میں پیر سے امتحانات کا آغاز ہوا ہے مگر سیاسی طاقتوں نے اس تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے اور امتحانات تحریر کرنے جیسا ماحول نہیں رکھا۔ 31 مارچ سے کیمپس میں بدامنی پیدا کردی گئی ہے۔ مقامی طلباء اپنے کشمیری ہم منصب طلباء کے ساتھ تصادم پر اتر ائے یہاں ورلڈ ٹی 20 سیمی فائنس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی ناکامی پر مبینہ طور پر جشن منانے پر احتجاج کیا گیا۔ تب سے اب تک اس انسٹیٹیوٹ میں صورتحال دن بہ دن ابتر بنا دی گئی۔ غیر کشمیری طلباء نے مبینہ طور پر قومی پرچم کے ساتھ بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس طرح کی قوم پرستی کے تنازعہ کو طلباء برادری میں پھیلانے کی سازش افسوسناک ہے۔ اس طرح کی قوم پرستی کی بدشکل تحریک کو ملک کے دیگر حصوں میں پھیلا کر بدامنی پھیلائی جارہی ہے۔ راجستھان کے ایک کالج میں کشمیری طلباء کے ایک گروپ کے ساتھ جھگڑا کیا گیا۔ این آئی ٹی سرینگر کو بھی فرقہ پرستوں نے اپنے مقاصد کی بھٹی میں جھونک کر مزے لینے کی کوشش شروع کی ہے۔ این آئی ٹی سرینگر میں جو کچھ واقعہ رونما ہوا وہ نازک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔ سرینگر کے طلباء کی شکایت کی سنجیدگی سے سماعت کرنا ضروری ہے۔ کشمیری طلباء نے وزیر فروغ انسانی وسائل ٹیم کو مطلع کردیا تھا کہ فیکلٹی کے ارکان کشمیری طلباء کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرچکے ہیں۔ اگر سیاسی مقصد براری کیلئے تعلیمی اداروں کو دنگل میں تبدیل کردیا گیا تو پھر اس ملک کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی۔ نریندر مودی حکومت اور اس کی سرپرست طاقتیں اگر خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگی ہیں تو یہ ان کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنانے کیلئے تعلیمی اداروں کے واقعات ہی کافی ثابت ہوں گے۔ نریندر مودی نے 2014ء کے انتخابات کے موقع پر ملک کے عوام کے سامنے جو وعدے کئے تھے وہ پورا نہ کرسکے یعنی کئی ایسے مسائل جوںکا توں برقرار ہیں۔ معیشت کو بحال کرکے کئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے طلباء کے مستقبل کو ہی خراب کرنے والے اسباب بنائے جارہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کشیدگی پیدا کرتے ہوئے مودی حکومت اپنی گرتی ساکھ کو سنبھالنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے تو اس کے نتائج برعکس نکلیں گے۔ کشمیری طلباء کو نشانہ بنانے کی سازش نازک رخ اختیار کرسکتی ہے۔ کرکٹ میچ کے بہانے تعلیمی اداروں کو بدامنی کی آگ میں جھونک دینا غیرمناسب عمل ہے۔ پولیس کا رول بھی کشمیری طلباء کیلئے زیادتی کا باعث سمجھا گیا ہے۔ طلباء کو قوم پرستی کے مسئلہ پر الجھا کر ان کے تعلیمی مستقبل کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ جب طلباء اپنے تعلیمی اداروں کے ماحول کو ’’دم گھٹنے‘‘ سے تعبیر کریں تو تعلیمی ادارہ کی اہمیت و افادیت پر آنچ آئے گی۔ ملک کے تعلیمی اداروں کے تعلیمی اور داخلی حالات میں جو گرما گرمی پیدا کردی گئی ہے اس کو فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کی صورتحال کو یوں ہی نظرانداز کرلیا گیا تو یہ معاملہ مزید پیچیدہ بھی ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہیکہ آخر تعلیمی اداروں میں تصادم پیدا کرکے سیاسی حکمراں طبقہ کیا نتائج برآمد کرنا چاہتا ہے۔ حکمرانی کے فرائض اور ذمہ داریاں بنیادی طور پر دور دکھائی دینے لگی ہیں۔ تعلیمی اداروں کو تصادم کی راہ پر لے جاکر قوم پرستی کے نام سے طلباء کو نشانہ بنائے جانے کا عمل شدت اختیار کردیا گیا تو پھر مسائل کا انبار لگ جائے گا اور ان مسائل کی یکسوئی ناقابل یقین حد تک ناکام ہوجائے گی۔ ماہرین تعلیم اور ذمہ داران قوم کو ان واقعات کا نوٹ لے کر یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں میں حسب سابق تعلیمی ماحول بحال کرنے کی جانب کوشش کرنی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT