Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / قومی غذائی سلامتی قانون میں خامیوں کیخلاف احتجاج

قومی غذائی سلامتی قانون میں خامیوں کیخلاف احتجاج

سی پی آئی ایم کے سینکڑوں کارکنوں کا جموں ڈیویژنل کمشنر آفس پر دھرنا
جموں 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ایم کے کارکنوں نے آج احتجاجی مارچ نکالا۔ قومی غذائی سلامتی قانون (NFSA) میں بے قاعدگیوں اور بے شمار خامیوں کے خلاف جموں و کشمیر ڈیویژنل کمشنر آفس کے روبرو دھرنا دیا۔ ان کارکنوں کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں غذائی سلامتی قانون کی عمل آوری میں مبینہ بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ سی پی آئی ایم کے سینکڑوں کارکنوں نے گاندھی نگر میں گرین بیلٹ پارک سے ڈیویژن کمشنر آفس تک مارچ نکالا۔ سی پی آئی ایم ریجنل سکریٹری شیام پرساد کیسر نے کہاکہ قومی غذائی سلامتی قانون کو روبہ عمل لانے میں کوتاہی سے کام لیا جارہا ہے۔ ریاست کی بڑی آبادی کو اس غذائی سلامتی کے فوائد سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس غذا کی تقسیم کے لئے جامع رپورٹ تیار کرکے استفادہ کنندگان کی فہرست تیار کی جانی چاہئے۔ کیسر نے کہاکہ سی پی آئی ایم کارکنوں نے گورنر این این ووہرا پر زور دیا کہ قومی غذائی سلامتی قانون کے تحت عوام کے پسماندہ طبقہ کی اکثریت کو بھی شامل کیا جائے۔ انھوں نے مطالبہ کیاکہ سی پی آئی ایم رکن اسمبلی ایم وائی تیرگامی کی جانب سے خانگی ارکان کی قرارداد پیش کی۔ جس کو متفقہ طور پر اگسٹ 2014 ء میں منظور کیا گیا۔ اس قرارداد میں زور دیا گیا تھا کہ ریاست میں غذائی سلامتی قانون کو روبہ عمل لاتے ہوئے غریبوں کو ہر خاندان کو 2 روپئے کیلو گرام کے حساب سے 35 کیلو گرام اناج سربراہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT