Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / قومی مالی سال کی تبدیلی تانا شاہی کے مترادف ، وزیراعظم خود نمائی کا شکار

قومی مالی سال کی تبدیلی تانا شاہی کے مترادف ، وزیراعظم خود نمائی کا شکار

جمہوریت کو خطرہ ، گاندھی خاندان کے کارنامے فراموش ، کرنسی کی تنسیخ کے بعد اہم فیصلے
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) ملک کے قومی مالی سال میںتبدیلی کا فیصلہ اور اسے جنتری کے مطابق بنانے کے فیصلہو دیگر امور پر حکومت کے موقف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں تانا شاہی جاری ہے۔ سابق میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آمر حکمراں اپنے اقتدار کے دوران سابقہ حکمرانوں کو فراموش کروانے کی بھر پور کوشش کیا کرتے تھے تاکہ عوام میں سابق حکمرانوں کی کوئی اچھائیاں یاد نہ رہنے پائیں اسی طرح نریندر مودی اپنے حرکات سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ملک سے گاندھی خاندان کا نام اور ان کے کارناموں کو مٹانے کی کوشش میں ہیں۔نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ملک میں جمہوریت نہیں آمریت کا دور چل رہا ہے اور جمہوری طریقہ سے منتخبہ شخص آمریت پر اتر آیا ہے۔ راتوں رات کرنسی کی تنسیخ کا معاملہ ہو یا ملک میں جاری دیگر مسائل کے متعلق وزیر اعظم کی خاموشی کا مسئلہ ہو ان تمام امور کا جائزہ لینے پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مودی اپنی من مانی کرنے کا بھر پور تجربہ رکھتے ہیں ان کے سٹ کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اس بات کی توثیق ہو چکی تھی کہ نریندر مودی خودنمائی کا شکار ہیں۔کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے بعد اب مالی سال میں تبدیلی کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک تیز معاشی اصلاحات کی سمت گامزن ہے۔ سابق میں آنجہانی اندرا گاندھی‘ مرارجی دیسائی‘پی وی نرسمہا راؤ ‘ چندر شیکھر کے اصلاحات کو جس طرح اب تک یاد کیا جاتا ہے نریندر مودی بھی اپنے آمرانہ طرز عمل کے ذریعہ ملک کی تاریخ میں خود کو نمایاں برقرار رکھنے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں دیگر ممالک میں حاصل ہونے والے پروٹوکول کو وہ اپنی عزت سمجھ رہے ہیں

جبکہ وہ 125کروڑ عوام کی مستحکم جمہوریت کو حاصل ہونے والا اکرام ہے۔ ان کے اس فیصلہ کے بعد اب ملک میں مالی سال جنوری تاڈسمبر ہو جائے گا اور اس طرح ملک میں جاری سینکڑوں برس قدیم تہذیبی روایات کا خاتمہ ہونے کو ہے۔دنیا بھر میں ساؤتھ افریقہ‘ ہانک کانگ ‘ کینیڈا‘ برطانیہ‘ سنگاپور اور جاپان ایسے ممالک تھے جن کا مالی سال ہندستانی مالی سال اپریل تا مارچ کے ساتھ ہوا کرتا تھا اب مرکزی حکومت کے فیصلہ کے بعد ہندستانی مالی سال جو جنوری تا ڈسمبر ہو جائے گا اس کے ساتھ جو ممالک میں یہ مالی سال ہے ان میں ملیشیاء‘ زمبابوے‘ سری لنکا‘آسٹیریا‘ بلجیم‘ فرانس ‘ ناروے‘ ڈینمارک سویڈن‘ فلپائن ‘ چین ‘ انڈونیشیاء‘ روس ‘ برازیل‘ سعودی عرب اور دبئی وغیرہ شامل ہیں۔ امریکہ اور تھائی لینڈ میں مالی سال کا آغاز اکٹوبر میں ہوتا ہے ۔جن ممالک میں مالی سال جولائی سے شروع ہوتا ہے ان میں آسٹریلیا‘کینیا ‘ پاکستان اورمراقش شامل ہیں۔ حکومت کے اس منصوبہ کو نیتی آیوگ کی حمایت حاصل ہونے کے بعد حکومت نے بجٹ 2017-18فروری میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال جنتری کے مطابق ہونے کے بعد جنوری تا ڈسمبر مالی سال ہو جائے گا۔کرنسی کی تبدیلی کے بعد مالی سال کی تبدیلی حکومت کے بڑے اور اہم فیصلوں میں تصور کی جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے اختیار کردہ مالی سال اور منفعت کو دیکھتے ہوئے اس پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں 1984میں مالی سال کو جنتری کے مطابق بنانے کے لئے کی گئی کوششوں کے تحت تشکیل دیئے گئے ایل کے جھا کمیشن کی تشکیل کا تذکرہ موجود ہے جس نے ملک میں مالی سال کو جنتری کے مطابق بنانے کی سفارش کی تھی۔لکشمی کانت جھا کمیشن کی سفارشات کے علاوہ موجودہ حصص و صرافہ بازار پر پڑنے والے مثبت اثرات کے علاوہ زرعی شعبہ کو ہونے والے فائدوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔وزیر اعظم اپنی شخصیت کو منوانے میں ملک کے عوام کو مشکلات میں تو نہیں ڈال رہے ہیں؟ کیونکہ 1984سے جس رپورٹ پر عمل نہیں کیا گیا اس کی کچھ تو وجہ رہی ہوگی؟

TOPPOPULARRECENT