Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / قومی و ریاستی شاہراہوں پر شراب کی فروخت پرامتناع‘ سپریم کورٹ

قومی و ریاستی شاہراہوں پر شراب کی فروخت پرامتناع‘ سپریم کورٹ

نرمی دینے حکومت پنجاب کی درخواست پر سرزنش۔ شاہراہوں سے سائن بورڈز بھی ہٹا دئے جائیں گے

نئی دہلی 15 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) سپریم کورٹ نے آج ملک بھر میں تمام قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کی دوکانات پر امتناع عائد کردیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ آئندہ سال 31 مارچ کے بعد ان دوکانوں کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوگی ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی ایک سہ رکنی بنچ نے قومی اور ریاستی شاہراہوں پر ایسے تمام سائن بورڈز پر امتناع عائد کردیا جائیگا جن پر شراب کی موجودگی کے اشارے ہونگے ۔ اس بنچ میں جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور ایل ناگیشور راو بھی شامل تھے ۔ بنچ نے کہا کہ 31 مارچ 2017 کے بعد قومی اور ریاستی شاہراہوں پر موجود شراب کی دوکانات کے لائسنس کی تجدید عمل میں نہیں آئیگی ۔ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ہر سال سڑک حادثات میں ہونے والی 1.5 لاکھ اموات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت کی جانب سے قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کی فروخت پر امتناع عائد کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے سائن بورڈز بھی ہٹائے جاسکتے ہیںجن پر شراب ملنے کی جگہوں کا پتہ درج ہو۔ عدالت نے 7 ڈسمبر کو کئی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا ۔ ان درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ شاہراہوں پر کوئی شراب فروخت نہ کرنے کی ہدایت دی جائے ۔ عدالت نے خاص طور پر حکومت پنجاب کی سرزنش کی جس نے عدالت سے استدعا کی کہ ہائی وے کے قریبی علاقوں میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے حکومت پنجاب کے وکیل سے کہا کہ آپ کے جاری کردہ شراب کے لائسنس دیکھئے ۔

چونکہ شراب کی لابی طاقتور ہے اس لئے ہر کوئی خوش ہے ۔ اکسائز محکمہ خوش ہے ‘ اکسائز وزیر خوش ہیں ‘ ریاستی حکومت بھی خوش ہے کیونکہ انہیں رقم مل رہی ہے ۔ اگر کوئی فرد اس کی وجہ سے فوت ہوتا ہے تو آپ ایک دیڑھ لاکھ روپئے دیدیتے ہیں۔ بس ۔ آپ کو ایسا موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو سماج کیلئے معاون ہو۔ شراب کی فروخت پر پابندی عائد کرنے ریاستی حکومت کو اس کی دستوری ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے بنچ نے ریاست سے کہا کہ وہ عوام کیلئے کچھ کرے کیونکہ ہر سال حادثات میں 1.5 لاکھ افراد فوت ہوجاتے ہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ کئی ریاستیں سڑک کے قریب سے شراب کی دوکانات ہٹانے میں ناکام ہوگئی ہیں جس کے نتیجہ میں نشہ میں ڈرائیونگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور پھر حادثات میں اموات ہو رہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی ریاست یا مرکزی زیر انتظٓم علاقہ کیلئے شراب کی دوکانات کیلئے لائسنس جاری کرنے کیلئے مالیہ کی دستیابی کوئی اصل وجہ نہیں ہوسکتی ۔ حکام کو چاہئے کہ وہ اس لعنت کا خاتمہ کرنے کیئے مثبت رویہ اختیار کریں۔ بنچ نے مرکز کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے گذشتہ 10 سال میں کچھ نہیں کیا ہے جس کے نتیجہ میں عدالت کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے ۔ قبل ازیں عدالت نے ان درخواستوں پر مرکزی حکومت ‘ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے ان کا جواب طلب کیا تھا تاکہ یہ ہدایت دی جاسکے کہ شاہراہوں کے قریب کوئی شراب فروخت نہ کی جاسکے ۔ اس مسئلہ پر عدالت میں کئی درخواستوں کی سماعت جاری تھی جس کے بعد بنچ نے یہ رولنگ جاری کی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT