Sunday , June 25 2017
Home / اداریہ / قومی پارٹیوں کا متبادل

قومی پارٹیوں کا متبادل

خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
وہی ہے مملکتِ صبح و شام سے آگاہ
قومی پارٹیوں کا متبادل
دہلی کی حکومت کے خلاف ایک زبردست مہم چھیڑکر چیف منسٹر اروند کجریوال پر دباؤ ڈالنے کی کوشش یہی ہوسکتی ہے کہ مرکز کی حکمراں پارٹی کو دہلی کے حالیہ بلدی انتخابات میں کامیابی کا فائدہ حاصل ہوسکے ۔ عام آدمی پارٹی کے اندر پھوٹ پیدا کرتے ہوئے سیاسی جنگ کو ہوا دی جارہی ہے۔ اروند کجریوال پر رشوت کے الزامات عائد کرنے والے دہلی کے وزیر کپل شرما کے خلاف کارروائی کی گئی تو انھوں نے اروند کجریوال اور پارٹی کے دیگر سینئر قائدین کے خلاف سی بی آئی میں شکایات داخل کردی ہیں۔ اروند کجریوال پر سنگین الزامات ہیں کہ وہ رشوت خوری میں ملوث ہیں ۔ اروند کجریوال کے رشتہ داروں کی 50 کروڑ روپئے کی اراضی معاملت کو لیکر بھی سی بی آئی سے شکایت کی گئی ہے ۔ دوسرا الزام یہ بھی تھا کہ کجریوال اور ستیندر جین کے درمیان 2 کروڑ روپئے کی لین دین ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر کجریوال پر رشوت کے الزامات اس وقت لگائے جارہے ہیں جبکہ پارٹی سے دھتکارے گئے کپل مشرا نے حکومت میں رہنے تک زبان نہیں کھولی ۔ عام آدمی پارٹی کے داخلی معاملوں میں مداخلت نہ کرنے کا بیان دینے والی بی جے پی کو واضح طورپر دہلی حکومت کے اُمور میں دلچسپی دکھائی دے رہی ہے ۔ چیف منسٹر دہلی کی رہائش گاہ کے باہر بی جے پی کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی حکومت کو بیدخل کرنے کیلئے عام آدمی پارٹی کے اہم قائدین کو اُکسایا گیا ہے ۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں کامیابی کے بعد یہ سمجھا جارہا ہے کہ بی جے پی کو اپنے اسمبلی کا اقتدار حاصل کرنے کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ سودے بازی اور پارٹیوں میں پھوٹ ڈالنے کی ترکیب و حربے اختیار کرنے والی پارٹی سے چوکنا رہنا ضروری ہے ۔ چیف منسٹر کجریوال کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے اخلاقی جواز کا سوال اُٹھایا جائے تو بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں کئی اسکامس اور دھاندلیاں ہونے کی میڈیا اطلاعات کو نظرانداز کیا جارہا ہے تو صرف دہلی حکومت میں خرابیاں پیدا کرنے کی کوشش کیوں ہورہی ہے ۔ چیف منسٹر کجریوال نے اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی کوششوں کو ’’بہت بڑی سازش‘‘ قرار دیا ہے کیوں کہ عام آدمی پارٹی حکومت کے برطرف وزیر کپل مشرا نے اروند کجریوال کے خلاف سی بی آئی کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ انتخابات کے دوران الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی اور مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہونے کی شکایت کرنے والی عام آدمی پارٹی کی اس شکایت کو دبانے کے لئے بی جے پی قائدین نے چاروں طرف سے دہلی حکومت پر یلغار کیا ہے ۔ رشوت و الزامات پر کوئی جواب دینے سے گریز کرنے والے اروند کجریوال کو اپنے سیاسی کیرئیر کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ان کی گزشتہ کامیابیوں کے بعد حالیہ ناکامیوں نے پارٹی کیڈر کو مایوس کردیا ہے ۔ ایسے میں اپنی ہی کابینہ کے لوگوں کی جانب سے الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی سے دشمنی رکھنے والی طاقتوں کو یہ پھوٹ کے حالات کا فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا ۔ اروند کجریوال نے چند سال قبل سماجی جہد کار انا ہزارے کے ساتھ رشوت کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی ۔ سیاسی میدان کے بڑے بڑے رشوت خور اور بدعنوان شارکوں کے خلاف ان کی جنگ نے انھیں بے حد مقبول کردیا تھا ۔ لوک پال جیسے اداروں کیلئے مہم چلاکر رشوت کا خاتمہ کرنے کاعزم رکھنے والے کجریوال کیلئے ہندوستانی سیاست میں ہونے والی اُلٹ پھیر اور سازشوں کا شکار ہونا پڑ رہا ہے ۔ سوال یہ اُٹھایا جارہاہے کہ کپل مشرا کی موجودگی میں ہی کجریوال نے 2 کروڑ روپئے کی رشوت کیوں قبول کی اور اس کا اب تک کجریوال کی جانب سے کوئی قابل اعتبار جواب دنہیں دیا گیا ۔ عام آدمی پارٹی میں جب بھوشن اور یوگیندر یادو نے بغاوت کی تھی تو اس وقت کپل مشرا ہی نے کجریوال کے مضبوط سپاہی بن کر اُن کی حکومت کی حفاظت کی تھی اب انھوں نے کجریوال کو ہی نشانہ بنایا ہے تو اس میں کئی باتیں پوشیدہ ہوسکتی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے قومی بڑی پارٹیوں کے متبادل کے طورپر خود کو سرگرم کردیا تھا مگر اب دہلی کی حکمرانی کا ہی خطرہ پیدا کردیا جارہا ہے تو عام آدمی پارٹی کو قومی سطح پر دیگر پارٹیوں کا متبادل بنانے کا خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ کجریوال بھی اب اپنا سحر کھورہے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی کے اندر ہی جب اعتماد اور حوصلہ کا فقدان پیدا ہوجائے تو پھر وہ قومی پارٹیوں کا متبادل ثابت ہونے میں کس طرح کامیاب ہوگی ۔ پنجاب میں پارٹی کی ناکامی کے بعد اس کی مشکلات کو مزید ہوا دی گئی ہے ۔ اب دہلی میونسپل انتخابات میں شکست نے عام آدمی پارٹی کو عام آدمی سے د ور کرنے کی سازشوں کو تقویت دی جارہی ہے ۔ کمار وشواس کے بعد اب کپل مشرا کی بغاوت عام آدمی پارٹی کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ ایسے میں اروند کجریوال سچائی سامنے لاکر باغیوں کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی ساکھ متاثر ہونے سے بچ جائے گی ۔ قومی پارٹی کا متبادل بنانے کی کوششوں کو کمزور کرنے والی پارٹیوں کے خلاف عام آدمی پارٹی کو اپنے کیڈرس اور لیڈروں میں اعتماد بحال کرنا ہوگا ۔ پارٹی کیڈر کو منتشر کرنے کی سازشیں ہوسکتیں ہیں ان سے بچنے کیلئے سیاسی فارمولہ پر غور کرنا بھی ایک حکمت عملی ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT