Tuesday , September 26 2017
Home / ادبی ڈائری / قومی یکجہتی کے تناظر میںاختر الایمان کی شاعری (اختر الایمان کی 100ویں یوم پیدائش کے موقع پر)

قومی یکجہتی کے تناظر میںاختر الایمان کی شاعری (اختر الایمان کی 100ویں یوم پیدائش کے موقع پر)

صدیق محی الدین ۔ اورنگ آباد مہاراشٹرا
اختر الایمان  بیسویں صدی کی اردو شاعری میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔ جس دور میں انھوں نے شاعری شروع کی ، ہندوستانی سماج میں انگریزی سامراجیت کے خلاف تحریک آزادی کی جد وجہد شدید ہوچکی تھی ۔ اگرچہ ان سے پہلے اقبال ، چکبست ، جوش ، تلوک چند محروم وغیرہ نے ہندوستان کی آزادی اور قومی یکجہتی کے تصورکو اپنے مخصوص انداز میں عام کیا تھا  ۔ بعد کے شعراء میں بھی قومی یکجہتی کا یہ تصور بدلے ہوئے سماجی اور سیاسی پس منظر میں قائم رہا ۔ یہاں تک کہ حصول آزادی اور اس کے بعد بھی اردو شاعری میں اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اختر الایمان کی شاعری کا مطالعہ کریں تو ان کی شاعری میں بھی قومی یکجہتی کے تصورات شدید طور پر پائے جاتے ہیں ۔
اختر الایمان  کی شاعری کا آغاز رومانی افسردگی ، ناکامی اور حرماں نصیبی کی کیفیات و جذبات سے ہوا اور یوں اس میں غم ذات کا پرتو زیادہ نظر آتا ہے ۔ ان کے پہلے مجموعے ’’گرداب‘‘ کی نظموں سے یہی تاثر قائم ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی اس مجموعے کی نظمیں ’’مسجد‘‘ ’’پرانی فصیل‘‘ اور ’’قلوپطرہ‘‘ ان کے سماجی اور قومی شعور کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ یہ نظمیں ان کی قومی اخوت ، انسان دوستی اور انسانی دردمندی کی ترجمان ہیں ۔ شاعر عصری معاشرے کے تضادات ، مادیت پرستی ، غربت اور معاشی پسماندگی و عدم مساوات کے خلاف احتجاج کرتا ہے ۔ مسجد مذہبی اقدار کے معدوم ہونے کی علامت ہے ۔ آج کا انسان مادیت پرستی اور حصول زر کے پیچھے دیوانہ ہے ۔ مذہبی ،اخلاقی اور اعلی انسانی اقدار بے معنی اور غیر اہم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ نظم مسجد کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے :
آچکے صاحب افلاک کے پیغام و سلام
کوہ و در اب نہ سنیں گے وہ صدائے جبریل
اب کسی کعبے کی شاید نہ پڑے گی بنیاد
کھوگئی دشت فراموشی میں آواز خلیل
نظم ’پرانی فصیل‘ عصری معاشرے کے تضادات کو ظاہر کرتی ہے ۔ یہ تضادات مختلف صورتوں میں سامنے آتے ہیں ۔ بے روزگاری غربت ، معاشی بدحالی ، جہالت ، بڑھتی آبادی اور شہری زندگی کے مسائل سے معاشرہ بھی تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہوتا ہے ۔ معاشرے کی ایک تصویر ملاحظہ کیجئے :

وہاں سہمی ہوئی ٹھٹھری ہوئی راتوں نے دیکھے ہیں
دریدہ پیرہن عصمت نگوں سر ، بال آوارہ
گریباں چاک ، سینہ وا ، بدن لرزاں ، نظر خیرہ
خمِ ابرو میں درماندہ جوانی محو نظارہ
غربت ، معاشی پسماندگی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بے روزگاری عصری معاشرے کے سنگین مسائل ہیں ۔ شاعر کی یہ انسانی ہمدردی اور غمخواری ہے کہ یہ مناظر دیکھ کر وہ رقت آمیز انداز میں ان کا اظہار کرتا ہے ۔ اس بدحالی کو خوش حالی میں بدلنے کی شدید خواہش ہے ۔ یہ قومی دردمندی اور اہل وطن سے محبت ہی ہے جس کا اظہار شاعر نے اس طرح کیا ہے :
کہیں روتے بھٹکتے پھررہے ہیں ، ہر طرف ہرسو
غلاظت آشنا ، جھلسے ہوئے انسان کے پلّے
یہ وہ ہیں جو نہ ہوتے کوکھ پھٹ جاتی مشیت کی
تمناؤں میں ان کی رات دن کھینچے گئے چلے
غرض اک دور آتا ہے کبھی اک دور جاتا ہے
مگر میں دو اندھیروں میں ابھی تک ایستادہ ہوں
’’گرداب‘‘ کے بعد اختر الایمان  کے شعری رویے اور فکر میں نمایاں تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے ۔ انفرادی محرومی ، شکستگی اور رومانی فکر سے صرف نظر کرتے ہوئے اب وہ سماجی اور عصری زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرتے ہیں ۔ ان کے مجموعے ’’تاریک سیارہ‘‘ میں شامل بہت سی نظمیں عصری شعور اور معاشرے کے عصری مسائل کی ترجمان نظر آتی ہیں ۔ تاریک سیارہ کی اشاعت 1952 میں عمل میں آئی ۔ ظاہر ہے اس میں آزادی سے پہلے اور بعد کا کلام بھی ہے ۔ اس دور میں ملکی اور عالمی طور پر غیر معمولی تغیرات رونما ہوئے ہیں ۔ ملکی سطح پر جہاں تحریک آزادی کی شدت ، سیول نافرمانی ، 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک ، اور پھر ملکی آزادی کا حصول اور اس کے ساتھ ہی تقسیم  ملک کا سانحہ ، پھر برصغیر ہند و پاک میں فسادات اور قتل و غارت گری ، ہجرت جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے ۔
’تاریک سیارہ‘ میں اختر الایمان نے اپنے عہد کی اسی بدحالی اور بنی نوع انسان کے درد و کرب کو پیش کیا ۔ آزادی کے پہلے جو حسیں خواب اس ملک کے لوگوں نے دیکھے تھے وہ اچانک خاک و خون میں ڈوب گئے ، لوگوں کو اپنی جان کا تحفظ غیر یقینی معلوم ہونے لگا ۔ بقول شاعر :

ہر نفس خواب ہے ہر خواب حقیقت کا فریب
اک تماشا ہے نگاہوں کا ، نہ ماضی ہے نہ حال
آج ماضی ہے وہی دور ، جو فردا تھا کبھی
موت ملتی ہے تمناؤں کے چہرے پر گلال!
لیکن اختر الایمان  ایک عظیم تخلیق کار ہیں ، ان کے تخلیقی عمل میں ایک نوع کا رجائی پہلو واضح ہوجاتا ہے ، وہ قاری کو مایوس اور افسردہ نہیں کرتے ، بلکہ خوش آیند مستقبل کی نوید سناتے ہیں ۔ اگرچہ اس زمین کو انسان نے تیرہ و تار کردیا ہے لیکن ظلمت شب سے سحر کے آثار نمایاں ہیں ۔ اب یہ انسانیت کے خیر خواہوں کا فریضہ ہے کہ انسان اور انسانیت کی خدمت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ، قومی اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں ، انسانوں سے نفرت اور عداوت کی بجائے محبت اور مذہبی رواداری کو عام کریں ۔ نظم کے اس آخری حصے میں شاعر نے قومی اخوت کا پیغام دیا ہے :
ظلمت خاک میں پوشیدہ ہے آب حیواں
قسمت سوختہ ساماں ہے بدلنے ہی کو رنگ
اور کچھ دیر لہو ہولے دل خانہ خراب
محفل درد سے اٹھنے ہی کو ہے نغمۂ چنگ
پھر تصور نے تراشی ہے پنہ گاہ نئی
تودۂ خاک ہے کیا سامنے سیاروں کے
زندگی اب تو حنائے سرِ ناخن بھی نہیں
موت لَو دینے لگی چہرے پہ بیماروں کے
’’آسماں دور ہے اب خواب گراں سے اٹھیے
ظلمت شب سے ہویدا ہیں سحر کے آثار
ایک سیارہ ہے یہ اپنی زمیں بھی لیکن
اس کو انسان نے کررکھا ہے خود تیرہ و تار‘‘
’تاریک سیارہ‘ اس مجموعے کی ایک اور نظم پندرہ اگست‘ ظاہر ہے آزادی وطن کے موضوع پر لکھی گئی ہے ۔ ہندوستان کی آزادی اس ملک کے عوام کی طویل جد وجہد کا نتیجہ ہے ۔ ملک کے سب ہی فرقوں نے حصول آزادی کی خاطر برطانوی سامراج سے ٹکر لی تھی ۔ سب نے حسین خواب دیکھے تھے کہ آزادی کے بعد برطانوی سامراج کے ظلم و ستم سے نجات مل جائے گی ۔ سب امن و امان اور سکون سے رہیں گے ۔ لیکن یہ سب خواب معاً ٹوٹ گئے اور آزادی ملتے ہی تقسیم وطن کے نتیجے میں ہر طرف انسانیت کش فسادات کا سلسلہ شروع ہوا ، اس ناگہانی انسانی المیے سے متاثر ہو کر نظم ’پندرہ اگست‘ میں اختر الایمان کہتے ہیں :
وہی کسمپرسی وہی بے حسی آج بھی ہر طرف کیوں ہے طاری
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے یہ میری محنت کا حاصل نہیں ہے
ابھی تو وہی رنگ محفل ، وہی جبر ہے ہر طرف زخم خوردہ ہے انساں
جہاں تم مجھے لے کے آئے ہو یہ وادی رنگ بھی میری منزل نہیں
ہے
شہیدوں کا خوں اس حسینہ کے چہرے کا غازہ نہیں ہے
جسے تم اٹھائے لئے جارہے ہو یہ شب کا جنازہ نہیں ہے
غرض آزادی خاک و خون میں ڈوبی ہوئی آئی اور یہ اس ملک کے عوام کے لئے سخت تکلیف اور اذیت کا باعث ہوا ۔ انسانیت آج بھی زخم خوردہ ہے ۔
شاعر وطن دوستی ، قومی اخوت کے جذبات سے سرشار ہے ۔ یہ دراصل ایک دردمند دل کی آواز ہے جو بلا امتیاز مذہب و ملت انسانیت کے دکھ سے غمگین ہے  ،آزادی کے بعد فساد کا سلسلہ ، ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ، یہ مورخ کے سامنے جواب دہ ہے  ، نہ جانے کیسے کیسے لوگ خاک میں مل گئے ، دردمند شاعری کی آواز نظم کے آخر میں اس طرح ابھرتی ہے :
گلوں سے الجھتی ہوئی شوخ کرنو
نئے نرم پودوں کی معصوم روحو !
یہاں سے ذرا اور آہستہ گزرو
وہ درماندہ شاعر جسے آدمی نے
کئی بار چاہا کہ مایوس کردے
تمہارے لئے ہی جو تڑپا ہے برسوں
تمہاری اسی روز کی رہگذر میں
اسی دامن خاک میں سورہا ہے
اختر الایمان کے مجموعے ’’یادیں‘‘ میں شامل ان کی نظم ’ایک لڑکا‘ ان کی معروف اور بے حد اہم شعری تخلیق ہے ۔ یہ نظم اس دور کی اہم نظموں میں شمار کی جاسکتی ہے ۔ یوں تو یہ نظم شاعر کی اپنی ذاتی اور شخصی زندگی کے پس منظر سے شروع ہوتی ہے ۔ نظم میں شاعر کا ہمزاد ’ایک لڑکا‘ اپنی گزشتہ زندگی کی روداد بیان کرتا ہے اور وہ شاعر سے سوال کرتا ہے کہ کیا وہ اختر الایمان تم ہی ہو ؟ ملاحظہ کیجئے :
مجھے اک لڑکا ، آوارہ منش ، آزاد سیلانی
مجھے اک لڑکا ، جیسے تند چشموں کا رواں پانی
نظر آتا ہے ، یوں لگتا ہے ، جیسے یہ بلائے جاں
مرا ہمزاد ہے ، ہر گام پر ، ہر موڑ پر جولاں
اسے ہمراہ پاتا ہوں ، یہ سائے کی طرح میرا
تعاقب کررہا ہے ، جیسے میں مفرور ملزم ہوں
یہ مجھ سے پوچھتا ہے اختر الایمان تم ہی ہو ؟
نظم کے اگلے حصے میں شاعر خدائے بزرگ و برتر کی تمام نعمتوں اور بخششوں کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی یہ بخششیں سب انسانوں کے لئے عام ہیں ۔ لیکن ایک بے نوا اور مجبور شاعر جب کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے تو اسکا ہمزاد یہ سوال کرتا ہے کہ اختر الایمان تم ہی ہو ؟ دراصل اس نظم کے سماجی اور قومی سروکار یہ ہیں کہ یہ نظم سماج کے اور انسانوں کے بنیادی مسائل کی ترجمانی کرتی ہے ۔ سماج میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم ، بے روزگاری ، بدعنوانی اور غربت و افلاس  جیسے مسائل سے لوگوں کی زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔ سیاست دانوں کی فریب کاری اور خود غرضانہ حکمت عملی کے سبب بہت سے سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں ، جو عوام الناس کے لئے تکلیف کا سبب بنتے ہیں ۔ بقول شاعر:

معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضے میں
جز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں ، پھر بھی مگر مجھ کو
خروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہے
عناص منتشر ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہے
ظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر
کبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہے
غرض یہ نظم بھی شاعر کی انسان دوستی اور قومی اخوت کی ترجمانی کرتی ہے ۔ جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ، وہ معاشرہ ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں ہوسکتا ۔ اختر الایمان کی اس نظم کا بنیادی سروکار یہی انسانی ہمدردی ہے ، اس لئے یہ نظم وطنی اور قومی مسائل کی ترجمان ہے ۔
کچھ اسی قسم کی نظم ’یادیں‘ بھی ہے ۔ یہ نظم نسبتاً طویل ہے ۔ اس نظم میں بھی بنیادی طور پر معاشرے کے تضادات ، عدم مساوات ، غربت ، استحصال اور انسان کی خود غرضی کے رویوں کو پیش کیا گیا ہے ۔ نظم کی ابتداء میں ایک میلے کا منظر پیش کیا گیا ہے ۔ جس میں ہر چیز بکتی ہے ، ایک بالک اپنے باپ کی انگلی سے چھوٹ گیا ہے اور وہ میلے کو حیرت و استعجاب سے دیکھتا ہے :
وہ بالک ہے آج بھی حیراں میلہ جوں کا توں ہے لگا
حیراں ہے بازار میں چپ چپ کیا کیا بکتا ہے سودا
کہیں شرافت ،کہیں نجابت  ،کہیں محبت ، کہیں وفا
آل اولاد کہیں بکتی ہے ، کہیں بزرگ اور کہیں خدا
ہم نے اس احمق کو آخر اسی تذبذب میں چھوڑا
اور نکالی راہ مفر کی اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
دراصل یہ نظم انسان دوستی ، قومی اخوت، کے عظیم افکار پر مبنی ہے ۔ ’بالک‘ کے روپ میں شاعر کا ہمزاد اس نظم میں بھی ابھرتا ہے ۔ شاعر اپنے عہد کی تمام سماجی ، معاشرتی ، سیاسی صورت حال کو پیش کرتا ہے ۔ غربت اور بدحالی اب بھی عام ہے ۔ معاشرہ خوشحال اور ترقی یافتہ اسی وقت ہوسکے گا جب سب کے ساتھ مساویانہ اور عدل و انصاف کا معاملہ ہوگا ۔ بدعنوانی ، رشوت ستانی اور خود غرضی پر مبنی معاشرے میں قومی اخوت اور یکجہتی جیسے تصورات کوئی معنی نہیں رکھتے  ، اس لئے شاعر کہتا ہے :
زیست خدا جانے ہے کیا شے ، بھوک ، تجسس ، اشک ، فرار
پھول سے بچے زہرہ جبینیں ، مرد مجسم باغ و بہار
مرجھا جاتے ہیں اکثر کیوں  ،کون ہے وہ جس نے بیمار
کیا ہے روح ارض کو آخر اور یہ زہریلے افکار
کس مٹی سے اُگتے ہیں سب ، جینا کیوں ہے اک بے گار
ان باتوں سے قطع نظر کی اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
شاعر کی فکر قومی جذبات اور حب الوطنی کے خیالات کی ترجمان ہے ۔ وہ انسان دوستی کے ماحول کو عام کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن سماج دشمن عناصر اپنی خودغرضی اور فرقہ پرستی کی خاطر انتشار پیدا کرتے ہیں ۔ شاعر کے پیش نظر وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے میں ناکام رہا ہے ، اور اس کی گویائی اس کے کچھ کام نہیں آئی ، اسی لئے وہ اپنی گویائی ’گونگی عورت‘ کو دینا چاہتا ہے ، ممکن ہے وہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے :
لے میں تجھ کو اپنی گویائی دیتا ہوں!
یہ میرے کام نہیں آئی کچھ
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اختر الایمان نے اپنی مختلف نظموں میں قومی یکجہتی ، اتحاد اور انسان دوستی کے رجحانات کو فروغ دیا ہے ۔ جس ماحول اور زمانے میں انھوں نے شاعری کی ، وہ خود بحران ، خلفشار اور مختلف النوع سماجی مسائل سے دوچار تھا ۔ آزادی سے قبل تحریک آزادی کی جد وجہد ، آزادی کے بعد تقسیم ملک ، فسادات  ،نقل مکانی ، ہجرت ، بے روزگاری ، غربت جیسے مسائل بھیانک صورت اختیار کرگئے ۔ اگرچہ آزادی کے بعد ہندوستان نے جمہوری نظام کو اختیار کیا لیکن ہندوستان میں فرقہ پرستی ، خود غرضانہ سیاست ، اقتدار کی ہوس اور بدعنوانی جیسے مسائل نے یہاں کے جمہوری نظام کو عوام کے لئے ناکارہ اور بے فیض بنادیا ہے ۔ ٹیکس ، مہنگائی اور رشوت ستانی جیسے مسائل سے ملک کے عوام کی زندگی بے حد مصائب کا شکار ہوگئی ہے ۔ سماج کے ان سنگین مسائل کو شعری تخلیقی اظہار عطا کرنا اختر الایمان کا اہم کارنامہ ہے ۔ اس لحاظ سے ان کو ایک عظیم انسان دوست اور ملک و وطن کا ہمدرد کہنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT