Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / قوی سہارا تو بس اللہ تعالیٰ کا ہے

قوی سہارا تو بس اللہ تعالیٰ کا ہے

تکثیرات اربعہ کا دوسرا مجاہدہ ’’استعاذہ‘‘ ہے، جس کے معنی ہیں پناہ مانگنا۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ دعائیں دو طرح کی ہیں، ایک مثبت اور دوسری منفی۔ مثبت دعائیں وہ ہیں، جن میں اللہ تعالی سے کوئی چیز مانگی جاتی ہے، مثلاً صحت، روزگار، اولاد، دنیا و آخرت کی بھلائی، عافیت یا اور کوئی حاجت و ضرورت وغیرہ۔ منفی دعائیں وہ ہیں، جن میں کسی چیز سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالی سے پناہ مانگی جائے۔ قرآن و حدیث میں یہ دونوں قسم کی دعائیں ہمیں بکثرت ملتی ہیں۔
ہماری یہ دنیاوی زندگی مختلف قسم کے حادثات اور سانحات کی زندگی ہے۔ زندگی کیا ہے، حادثات اور سانحات کا ایک طوفان ہے۔ ہر وقت کسی نہ کسی حادثہ اور سانحہ کا اندیشہ درپیش رہتا ہے۔ زندگی کے معاملات میں نقصانات کے خدشے لگے رہتے ہیں، انسان مستقبل کی غیر یقینی کیفیات سے دو چار رہتا ہے اور ان اندیشوں اور خدشوں سے بچنا چاہتا ہے۔ انسان کمزور اور ضعیف البنیان ہے، وہ ان حادثات، سانحات، خدشات اور اندیشوں سے بچنے کے لئے پناہ گاہیں ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن اس عالم کون و مکاں میں اللہ تعالی کی پناہ گاہ سے زیادہ مضبوط اور طاقتور پناہ گاہ اسے کوئی اور نظر نہیں آتی۔ اس پناہ گاہ کی تلاش اس کی فطرت میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی اچانک حادثہ یا خطرہ کے وقت اس کی زبان سے بے اختیارانہ ’’اللہ‘ نکلتا ہے۔ ایسے وقت اس کو ہر سہارا تار عنکبوت محسوس ہوتا ہے، مضبوط اور قوی سہارا بس اللہ تعالی ہی کا ہوتا ہے۔
فتح مکہ کے موقع پر ابوجہل کے بیٹے عکرمہ فرار ہوکر جدہ پہنچ گئے تھے اور کچھ مفرور لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہوکر سمندری سفر اختیار کرلیا۔ یہ تمام لوگ کسی محفوظ مقام پر جاکر پناہ لینا چاہتے تھے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سمندر میں طوفان آگیا، پہاڑ جیسی موجوں کے مقابلہ میں کشتی تنکے کی طرح ڈولنے لگی۔ کشی کے مسافروں میں سے ہر شخص جس کو اپنا معبود مانتا تھا، اسی کو پکارنے لگا، لیکن طوفان تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ جب لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کو پکار پکارکر تھک چکے اور کوئی بھی ان کی مدد کو نہ آیا تو کچھ لوگوں نے کہا: ’’یہ وقت اللہ کو پکارنے کا ہے، اللہ کو پکارو‘‘ اور وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس وقت عکرمہ نے کہا: ’’خدا کے بندو! یہی بات تو اللہ کا ایک بندہ ہم کو ۲۵سال سے سمجھا رہا ہے، لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے‘‘۔ پھر انھوں نے کہا کہ ’’طوفان سے نجات مل جائے تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گا‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ کاش ابوجہل کو کوئی ہماری یہ پیغام پہنچا دے کہ آج ہم اس کے فرزند کو عکرمہ نہیں، بلکہ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو اچھی طرح بے نقاب کردیتا ہے کہ پناہ صرف اللہ کے دامن رحمت ہی میں مل سکتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کی پناہ مانگو بلا کی سختی سے اور بدبختی سے، بری تقدیر سے اور دشمنوں کی طعنہ زنی سے‘‘ (متفق علیہ) یہ حقیقت ہے کہ برے وقت میں، خوف اور اندیشوں کے گھیروں میں اللہ تعالی کی پناہ مانگ لینے سے دل کو بڑی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ کسی مالی نقصان کا خطرہ ہو یا کسی بیماری سے پریشانی کا اندیشہ، دین و دنیا کی کسی مضرت کا خطرہ ہو یا نفس و شیطان کی طرف سے کسی برائی میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ، یا کوئی برا خیال دل میں آجائے تو ایسے تمام حالات میں اللہ تعالی کی طرف رجوع ہو جائیں، دل ہی دل میں یا زبان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ لیں، ان شاء اللہ تعالی ذہنی اور قلبی سکون حاصل ہو جائے گا، کیونکہ خدا کی پناہ میں آجانے کے بعد کسی اور پناہ گاہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ جب بندہ اللہ تعالی کی پناہ مانگ لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے: ’’اس نے میری کمر توڑدی‘‘۔

اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ایک ریاست کے راجا کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت اس کا اکلوتا بیٹا صرف سات یا آٹھ برس کا تھا۔ راجا کے بھائی نے سوچا کہ اب یہ ریاست مجھے مل جائے گی، چنانچہ اس نے کوشش شروع کردی، لیکن راجا کے وفادار وزراء اور عمائدین ریاست چاہتے تھے کہ ریاست کی تولیت راجا کے کمسن بیٹے کو ملے، چنانچہ انھوں نے اس کے لئے کوشش شروع کردی۔ بہرصورت مغل امپائر سے ریاست کی تولیت کا پروانہ حاصل کرنا ضروری تھا۔ راجا کے وفادار مصاحبین راجا کے بیٹے کو لے حضرت عالمگیر کی خدمت میں پہنچ گئے۔ جس وقت وہ شاہی محل میں پہنچے، عالمگیر دربار ختم کرکے اندر جا چکے تھے اور اندرونی حوض پر غسل کی تیاری کر رہے تھے۔ وہیں شہنشاہ عالمگیر کو بچے کے آنے کی اطلاع دی گئی اور مقصد بتایا گیا، تو انھوں نے بچے کو اندر ہی بلالیا۔ وہ حوض پر کھڑے کھڑے ہی بچے سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے، پھر بچے کے دونوں بازو پکڑکر ازراہ مذاق کہا: ’’تجھے حوض میں پھینک دوں؟‘‘۔ بچہ ہنسنے لگا۔ عالمگیر نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: ’’حضور! آپ کی ہستی وہ ہستی ہے کہ اگر آپ کسی کی انگلی بھی پکڑلیں تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، آپ نے تو میرے دونوں بازو پکڑ لئے ہیں، اب میں حوض میں کیسے ڈوب سکتا ہوں!!‘‘۔ عالمگیر کو بچے کا جواب بہت پسند آیا، اس کی ذہانت سے متاثر ہوکر انھوں نے ریاست اسی کے نام کردی۔ بچے کی وہ بات جو اس نے عالمگیر کے متعلق کہی تھی، کاش یہی بات ہم کو اللہ تعالی کے حوالے سے سمجھ میں آجائے۔ عالمگیر ایک ملک کے بادشاہ تھے، چند لوگوں کے بادشاہ تھے، جب کہ اللہ تعالی ساری کائنات کا بادشاہ ہے اور تمام انسانوں کا بادشاہ ہے، پھر اس کی پناہ میں آکر ہمیں تحفظ کیوں نہ حاصل ہوگا، صرف یقین کی ضرورت ہے۔ اگر ایمان و یقین کے ساتھ اس کی پناہ میں آجائیں تو دہکتی آگ بھی گلزار بن سکتی ہے۔ بقول علامہ اقبال:
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

TOPPOPULARRECENT