Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / قیدیوں کیلئے فلاح و بہبود کے اختراعی پروگرامس ، پٹرول پمپس کا قیام

قیدیوں کیلئے فلاح و بہبود کے اختراعی پروگرامس ، پٹرول پمپس کا قیام

انڈین آئیل کی جانب سے جیل کے احاطہ میں پمپس کی کشادگی اور روزگار کا انتظام
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان کی عالمی شہرت یافتہ تیل کی کمپنی انڈین آئیل نے سماجی خدمات کی غرض سے ایک اختراعی اور انوکھے نظریہ کے ساتھ تجارت کو قیدیوں کے ذریعہ فروغ دینے کا ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں آغاز کیا ہے ۔ ویسے تو انڈین آئیل کمپنی سماجی فلاح و بہبود کے لیے کئی ایک پروگرامس کو متعارف کرواچکی ہے اور اب اس کی تازہ کڑی جیل کے طور پر قیدیوں اور جیل کے حکام کے تعاون کے ذریعہ آئیل کے شعبہ میں ملازمتیں اور تجارت کا ایک اختراعی پروگرام شروع کردیا ہے ۔ انڈین آئیل کمپنی نے جیل حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے کہ جیل کے احاطہ میں جو کھلی اراضی موجود ہے اس میں پٹرول پمپ ڈالا جائے گا اور اس کی دلچسپ بات یہ ہوگی کہ اس پٹرول پمپ کو مکمل طور پر جیل کے قیدی چلائیں گے اس طرح نہ صرف جیل کے حکام کو قابل ذکر آمدنی حاصل ہوگی بلکہ قیدیوں کو اس ملازمت کے ذریعہ سماج کے اصل دھارے میں شامل ہونے کا ایک بہتر موقع دستیاب ہوگا ۔ قیدیوں کی اس طرح ملازمت انجام دینے سے نہ صرف ان میں ایک بہتر شہری بننے کا جذبہ اور سماج میں قابل قبول ملازمت انجام دینے ، موقع ملے گا بلکہ ان کی ملازمت سے عوام میں یہ پیغام پہنچے گا کہ ماضی کے جرم اور سزا کی تکمیل کے بعد وہ ایک بہتر شہری بننے کی کامیاب کوشش کرچکا ہے اور سماج بھی اسے بہتر شہری کے طور پر قبول کرے گا ۔ اس طرح کا پائیلٹ پراجکٹ جو انڈین آئیل کمپنی نے شروع کیا ہے اس کے قابل ستائش نتائج برآمد ہورہے ہیں جیسا کہ حیدرآباد کی چنچل گوڑہ جیل کے قیدیوں کے لیے یہاں 2013 میں ایک پٹرول پمپ کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ اپنی خدمات بخوبی انجام دے رہا ہے ۔ اس پٹرول پمپ کی خدمات سے نہ صرف قیدیوں کو ملازمت کرنے کا موقع اور جیل حکام کو زائد آمدنی حاصل ہورہی ہے بلکہ عوام میں بھی یہ مثبت تاثر جارہا ہے کہ اس پٹرول پمپ پر فراہم کیا جانے والا پٹرول اپنی مقدار میں صد فیصد مکمل ہوسکتا ہے ۔ بلکہ جو قیدی اس پٹرول پمپ پر ملازمت انجام دے رہے ہیں ان کے متعلق عوام کے ذہنوں میں یہ مثبت سوچ بڑھ رہی ہے کہ یہ قیدی ایک مرتبہ پھر بہتر زندگی بسر کرنے کے خواہاں ہیں اور انہیں موقع دیا جانا چاہئے ۔ عوام کی اس سوچ سے قیدیوں کو بھی خود کو پھر ایک مرتبہ بہتر شہری ثابت کرنے کا موقع ملے گا ۔ بہ ظاہر یہ پراجکٹ کافی آسان دکھائی دے رہا ہے لیکن کمپنی کے ذرائع کے بموجب اس پراجکٹ کو معیشت کا جامہ پہنانے میں کافی چیلنجس درپیش ہیں جیسا کہ قیدیوں کی 24 گھنٹے نگرانی ، بروقت پٹرول پمپ کو طلب کردہ پٹرول کی مقدار وغیرہ اہم چیلنجس میں شامل ہے ۔ ذرائع نے مزید کہا ہے کہ تمام چیلنجس کو قبول کرتے ہوئے جس مقصد کے تحت اس پراجکٹ کو شروع کیا گیا ہے اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں کیوں کہ اس پراجکٹ کے دامن میں کئی ایسی کامیاب کہانیاں تحریر ہورہی ہیں جن میں قیدیوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عنقریب سماج انہیں ایک بہتر شہری کے طور پر قبول کرے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ دونوں ریاستوں میں قیدیوں کی جانب سے مذکورہ پراجکٹ کے تحت ملازمتوں کی انجام دہی اور ان کی کامیابی کی کہانیوں کی فلم بندی کی جارہی ہے اور یہ فلم بندی ان پٹرول پمپس پر جب عوام کا ہجوم نہیں ہوتا ہے ان ہی اوقات میں ہورہی ہے ۔ علاوہ ازیں کولکتہ کے پی آر سی آئی ایونٹ میں ان کی نمائش ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT