Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / لاء کمیشن کے سوالنامہ سے رام مندر کی تعمیر تک

لاء کمیشن کے سوالنامہ سے رام مندر کی تعمیر تک

ہندوستان کا مسلمان ، دیگر اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے مسلمانوں کے بالمقابل اپنی عددی طاقت و قوت کے علاوہ فہم و فراست ، حکمت و تدبیر میں قائدانہ مقام رکھتا ہے۔ وہ اندرونی و بیرونی سازشوں سے بالعموم چوکنا رہتے ہیں اور دشمن کو مکمل طورپر کامیاب ہونے اور غالب آنے کا موقعہ نہیں دیتے ۔ اس کے برخلاف دیگر اسلامی ممالک کو دیکھیں تو نہایت افسوس ہوتا ہے کہ وہاں کی عوام بالکل عاجز و مجبور معلوم ہوتی ہے ۔ افغانستان تباہ ہوا ، عراق برباد ہوا ، لیبیا ختم ہوا ، شام اور یمن تباہی کے دہانے پر ہیں ، اس سے بڑھ کر افسوس پاکستان کا ہے کہ پاکستان کے مسلمان ساٹھ سال میں بھی کسی قابل ، قوم کے مخلص افراد کو منتخب کرکے کرسیٔ اقتدار تک پہنچا نہیں سکتے ۔ پاکستان کو اس کے حکمرانوں کی طرف سے نقصان پہنچا ، اس کے برخلاف ہندوستان میں حکومتوں کا رویہ آزادی سے تاحال معاندانہ رہا ، کبھی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ نہیں کیا گیا ۔ ان کو تعلیم ، معیشت ہر میدان میں پسماندہ بنانے کیلئے ہرممکنہ کوشش کی گئی اس کے باوجود ہندوستان کا مسلمان نہایت بلند ہمتی اور استقلال سے باطل کا مقابلہ کرتا ہے ۔
مسلمانوں کا درمیان مسلکی اختلافات مسلم ہیں ، سابق میں رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ۔ وہ ختم ہونے والے نہیں ہیں، لیکن نظریات کے اختلافات کی بناء اُمت کے شیرازہ بکھیردینا غیرمعقول ہے ۔ ہندوستان کے مسلمان نے ’’طلاق ثلاثہ ‘‘ کے مسئلہ پر جو اتحاد کا نمونہ پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لئے اعلیٰ نمونہ ہے ۔ حکومت ہند نے ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کے مسئلہ پر مسلمان خواتین کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لاء کمیشن سے سفارشات طلب کئے ہیں تاکہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کی جاسکی اور ایک یونیفارم سیول کوڈ کو نافذ کیا جاسکے ۔
جو لوگ قانون سے واقف ہیں وہ حضرات بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ یونیفارم سیول کوڈ یہ ہندوراشٹرا کی ذہنیت کو مضبوط کرنے کیلئے قطعاً نہیں ہے ، وہ ہندو میریج لاء کو نافذ کرنے کے لئے کوشاں نہیں ہیں، کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اس میں کتنی پیچیدگیاں ہیں اور خود ہندو قوم ذات اور طبقات میں بٹی ہوئی ہے ، جن کے پاس صرف رسوم و رواج ہی مذہب کا درجہ رکھتے ہیں اور ہر طبقہ کے رسوم و رواج مختلف ہے ۔ ان کو پتہ ہے کہ یکساں سیول کوڈسے ہندؤوں کو مضبوط کرنے سے زیادہ مسلمانوں کو عاجز و مجبور بتانا ہے کیونکہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آج ہندوستان کی حکومت اپنے برے ارادے سے مسلمانوں کو پھر ایک بار ذلیل و رسواء کرنا چاہتی ہے ، وہ لوگ مسلمانوں کو ہندوستان میں ان کی حیثیت اور وقعت یاد دلانا چاہتے ہیں اور ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اب ہمیں نہ تمہارے ووٹ کی ضرورت ہے اور نہ ہمیں تمہارے وجود سے کوئی خوف و مسئلہ ہے ۔ لاء کمیشن کے سوالنامہ اور حکومت کے سینئر قائدین و وزراء کے بیانات سے معلوم ہوتا ہیکہ حکومت ’’طلاق ثلاثہ ‘‘ کے مسئلہ پر اپنا ذہن بناچکی ہے اور وہ ہرحال میں اس کو نافذ و جاری کریگی ، مسلمان اپنے وجود کا احساس دلارہے ہیں ، اپنے اتحاد کا مظاہرہ کررہے ہیں ، اپنی ناراضگی جتارہے ہیں لیکن وہ کر کیا سکیں گے ۔ نہ ان کے پاس حکومت ہے ، نہ ان کے پاس حکومت پر دباؤ بنانے کیلئے کوئی طاقت و قوت ہے ، نہ پولیس ہے ، نہ فوج ہے ، ہندوستان کا سادہ لوح مسلمان کس طرح جمہوریت میں ان باطل طاقتوں سے مقابلہ کرے گا ۔
جمہوریت میں قانون ، عدالت ، پولیس ، سرکاری محکمہ جات ہی مظلوم کو انصاف دلاسکتے ہیں لیکن جب ظلم قانون کے دائرہ میں ، قانون دانوں کے توسط سے ، عدالت کے ذریعہ سے نافذ ہو تو مسلمان کہاں جائیں گے ؟ کس سے فریاد کریں گے ؟ سوائے جانی اور مالی نقصان کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ خاص بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو جس قدر رسوا و بے آبرو کیا جائے گا حکومت کا ووٹ بینک اتنا ہی مضبوط و مستحکم ہوگا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکومت مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرے گی ، مسلمانوں کااحتجاج نظرانداز ہوگا ۔ یاد رکھ لیجئے کہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت پہلا زینہ ہوگی جوکہ ایک ٹرائیل ہوگا پھر حقیقی مرحلہ رام مندر کی تعمیر کا آئیگا اور وہ حکومت کے بھرم پر اس ناپاک منصوبہ کو روبعمل لانے کے لئے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑیں گے ۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ غیرقوم نے کبھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی بات نہیں کہی ہے ۔ صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیمیں ہیں جو سپریم کورٹ پر انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم نے اس آنے والے طوفان کو روکنے کیلئے کیا تدابیر اختیار کی ہیں ۔ ہمارے مذہبی قائدین کے پاس رام مندر کی تعمیر روکنے کے لئے کیا حکمت عملی ہے ۔ جب طوفان سر پر آئیگا تبھی بیدار ہوں گے تو سوائے ڈوبنے کے کچھ نہیں رہیگا ۔
اگرچہ یہ وقت نہیں کہ میں یہ بات ذکر کروں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مسلم تنظیموں کو جلسے جلوس کرنے کے لئے ایک عنوان کی تلاش ہے اور جب کوئی عنوان مل جاتا ہے تو وہ کوئی موقعہ گنوانا نہیں چاہتے ، وہ عوام الناس تک پہنچ کر اپنے اخلاق اور جذبہ  دینی کا اظہار کرتے ہیں ، ہمیں اقدام کی ضرورت ہے، مسلمان قوم میں افراد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔
’’طلاق ثلاثہ‘‘ کے موضوع پر کتنے ایک debates ہورہے ہیں ، ہر چینل پر پروگرام ہورہے ہیں لیکن ایک عالم خواہ کسی بھی مکتب فکر کا ہو نظر نہیں آیا جو ہندوستان کے قومی میڈیا پر آکر تشفی بخش جواب دے سکے اور ہمارے غیرقوم سیکولر ہندو برادران وطن کو مطمئن کرسکے ۔ یہ اس وقت تک نہیں ہوسکے گا جب تک کہ دینی مدارس و جامعات اپنے نصاب تعلیم پر نظرثانی نہیں کریں گے اور اپنے نصاب میں دستور ہند اور تاریخ ہند کے اہم گوشوں پر مشتمل مضامین کو شامل نہیں کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT