Tuesday , September 19 2017
Home / دنیا / لاؤس کی قیادت سے نائب صدرجمہوریہ کی بات چیت

لاؤس کی قیادت سے نائب صدرجمہوریہ کی بات چیت

دو معاہدات پر دستخط، باہمی دلچسپی کے تمام مسائل پر حامد انصاری اور لاؤس کے قائدین کا تبادلہ خیال
وینٹیان ۔ 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے آج لاؤس کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے باہمی دلچسپی کے کئی مسائل پر بشمول باہمی تجارت و سرمایہ کاری میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ آسیان ممالک کے ساتھ ہندوستان کے معاشی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے ہندوستان کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔ حامد انصاری دو روزہ سرکاری دورہ پر کل یہاں پہنچے تھے۔ یہ ہندوستان کے کسی نائب صدر کا اولین دورہ ہے۔ انہوں نے اپنے ہم منصب بون ہانگ وورچی سے قصرصدارت میں بات چیت کی۔ قبل ازیں وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ مفاہمت کی دو یادداشتوں بشمول تیز رفتار اثرانداز ہونے والے پراجکٹس اور فضائی خدمات معاہدہ پر دونوں ممالک نے مذاکرات کے بعد دستخط کئے۔ ہندوستانی کمپنی واپ کاس نے چمپاسک آبپاشی پراجکٹ کی تکمیل کا صداقتنامہ حاصل کیا۔ حامد انصاری نے لاؤسکے صدر چومالی سیاسون اور وزیراعظم تونگ سنگھ، وونگ سے ملاقات کی۔ نائب صدرجمہوریہ کا قصرصدارت میں آج صبح روایتی استقبال کیا گیا۔ لاؤس کے سورماؤں کی یاد میں فوجیوں کی ایک تاریخی یادگار پر نائب صدر نے پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ لاؤسی قومی علامت یہ مقدس اسٹوپا ایک دستاویز ہے کہ دوستی اور تعاون کے مستحکم بندھن دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں۔ حامد انصاری نے سیاحوں کی کتاب میں تحریر کیا کہ دونوں ممالک کے مستقبل زمانہ قدیم سے باہم مربوط ہیں اور مربوط رہیں گے اور مستقبل قریب میں پروان چڑھائے جائیں گے۔ حامد انصاری کا دورہ لاؤس اور کمبوڈیا ہندوستان کی جانب سے آسیان ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات میں اضافہ کی کوشش کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے دورہ کے موقع پر حامد انصاری نے اس اہمیت پر زور دیا جو ہندوستان خاص طور پر آسیان ممالک کو دیتا ہے اور کمبوڈیا ، لاؤس، میانمار اور ویتنام کے ساتھ خاص طور پر اپنے تعلقات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ لاؤس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر حامد انصاری نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن چھوٹے ممالک کا بھی مقام ہے اور ہندوستانی عوام اس کا احساس رکھتے ہیں۔
بہار میں صرف ایک محاذ ، ایس پی کا
اتحاد مسترد : جے ڈی (یو)
نئی دہلی ۔ 18 ستمبر (سیاست ڈا ٹ کام) جنتادل (یو) کے صدر شردیادو نے آج ایس پی زیرقیادت تیسرے محاذ کو جو بہار انتخابات کیلئے قائم کیا گیا ہے، مسترد کردیا اور کہا کہ ریاست میں صرف ایک محاذ کا وجود ہے اور وہ آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ ان کی پارٹی کا اتحاد ہے۔ رکن راجیہ سبھا نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی نے امیدواروں کی ایک فہرست کو قطعیت دے دی ہے اور کانگریس کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کے مذاکرات عنقریب ختم ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT