Wednesday , April 26 2017
Home / اداریہ / لائین آف کنٹرول پر کشیدگی

لائین آف کنٹرول پر کشیدگی

یہ سمجھ کر ہی نظر پھر تری جانب پلٹی
کوئی صورت تری صورت کے مماثل نہ ملی
لائین آف کنٹرول پر کشیدگی
ہندوستان و پاکستان کے مابین کشیدگی میں کسی طرح کی کمی نہیں آ رہی ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین حالانکہ کشیدگی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے ۔ کسی نہ کسی وجہ سے یہ ممالک ایک دوسرے پرا لزامات و جوابی الزامات کا حصہ بنے رہے تھے لیکن کچھ وقت کے بعد خاموشی چھا جاتی اور پھر کسی پس پردہ چینل کے ذریعہ کوئی نہ کوئی پہل ایسی ہوتی کہ دونوں ملک ایک دوسرے سے بات چیت کے عمل میں بھی شریک ہوجاتے ۔ ایسا کئی موقعوں پر ہوتا رہا ہے ۔ کارگل کی جنگ کے بعد بھی دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کو کم کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔ تاہم موجودہ کشیدگی کا سلسلہ طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین ایسے واقعات اور سرحدات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی جا رہی ہیںجن کے نتیجہ میںکشیدگی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے ۔ لائین آف کنٹرول کے پار سے فائرنگ اور پھر ہندوستان کی جوابی فائرنگ کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں دونوں جانب جانی نقصانات بھی ہو رہے ہیں اور سپاہی بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین طویل سرحد ہے اور لائین آف کنٹرول کا علاقہ بھی بہت وسیع ہے ۔ اس کے پار سے فائرنگ اور جنگ بندیوں کی خلاف ورزیوں کے واقعات نے ہر دو جانب بے چینی کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ ہندوستان کی جانب سے بارہا پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ سرحد پار سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سلسلہ کو فوری روک دے ۔ پاکستان اس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے اور وہ بھی ہندوستان پر جواب میں الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کرچکا ہے ۔ دونوں جانب سے اس طرح کے الزامات کے نتیجہ میں حالات کے بگڑنے کی امید فضول ہی ہوسکتی ہے اور فضول ہی ہے ۔ اس کے نتیجہ میںکشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان اسی کشیدگی کو بنیاد بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورموں میں اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ بارہا اقوام متحدہ سے اپیل کر رہا ہے کہ اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کو فوری مداخلت کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ حالانکہ باہمی مسئلہ ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوسکتی ۔
پاکستان در اصل سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور لائین آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے مسئلہ پر بین الاقوامی برادری میں پیدا ہونے والی ناراضگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح کشمیر مسئلہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے مداخلت کی کوشش ہوجائے ۔ اقوام متحدہ نے حالانکہ کئی مرتبہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن اس نے یہاں کسی طرح کی مداخلت سے انکار کردیا ہے ۔ امریکہ نے بھی ایک سے زائد بار کہہ دیا ہے کہ وہ ضرور چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تاہم یہ حل دونوں متعلقہ ملکوں کے مابین آپسی بات چیت کے ذریعہ ہونا چاہئے ۔ امریکہ نے بھی اس مسئلہ میں کسی طرح کی مداخلت سے انکار کردیا ہے ۔ امریکہ ‘ ہندوستان کے ساتھ اپنے بہترین اور مستحکم تعلقات رکھتا ہے اور وہ اس مسئلہ میں کسی طرح سے ملوث ہوتے ہوئے یہ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا ۔ دوسرے بین الاقوامی فورموں میں بھی پاکستان کی کوششیں اب تک ناکام ہوتی رہی ہیں۔ کئی ممالک نے پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ بند کرنے کی تاکید کی ہے اور انہوں نے ہندوستان کے موقف کی راست یا بالواسطہ طور پر تائید ضرور کی ہے ۔ ایسے میں پاکستان عملا بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ اپنی خفت کو مٹانے کیلئے لائین آف کنٹرول پر حالات کو سدھرنے کا موقع نہیں دے رہا ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسی کو بنیاد بناتے ہوئے وہ اقوام متحدہ میں بار ہا کوشش کر رہا ہے کہ اس مسئلہ پر مداخلت کی جائے ۔
پاکستان کی اپنی کوششوں اور اس کی ناکامیوں سے قطع نظر یہ ضروری ہے کہ لائین آف کنٹرول پر صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے ۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران لائین آف کنٹرول پر جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں جانی نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان ہندوستان کو اور ہندوستان ‘ پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے رہے تو انسانی جانوں کے اتلاف کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوسکتا ۔ ہندوستان کی فوج اپنی سرحدات کا تحفظ کرنے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کریگی اور وہ اپنی دلیرانہ اور بہادری والی کارروائیوں کی مثالیں بھی رکھتی ہے ۔ اس کے باوجود کوشش فریقین کو یہ کرنی چاہئے کہ سیاسی کشیدگی کو سیاسی میدان تک محدود رکھا جائے لائین آف کنٹرول کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے ہر ممکن کوششیں ہونی چاہئیں تاکہ انسانی جانوں کے اتلاف کا سلسلہ بند ہوسکے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT