Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / لارڈس میں کپل دیوکے بعد آج متھالی کی ٹیم کو چیمپئن بننے کا موقع

لارڈس میں کپل دیوکے بعد آج متھالی کی ٹیم کو چیمپئن بننے کا موقع

فائنل کا آغاز سہ پہر 3 بجے ہوگا‘انگلینڈسے دلچسپ ٹکراؤ متوقع

لندن۔22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سال1983 میں کپل دیو کی کپتانی میں جس طرح مرد ٹیم نے آئی سی سی ورلڈ کپ خطاب جیت کر تاریخ رقم کی تھی اب لارڈس کے اسی میدان پر دوبارہ ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کامیابی سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے ۔متھالی راج کی کپتانی میں ہندستانی ٹیم نے صرف دوسری مرتبہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں داخلہ حاصل کیا ہے جہاں اس کے سامنے کل تین مرتبہ کی چمپئن انگلینڈ کا چیلنج ہوگا۔ہندستان نے سال2005 میں پہلی مرتبہ عالمی کپ فائنل میں جگہ بنائی تھی جہاں وہ آسٹریلیا سے شکست کے بعد رنر اپ رہی تھی۔خواتین ٹیم کی یہ ٹورنمنٹ میں بہترین کارکردگی رہی لیکن اس مرتبہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر پہلی مرتبہ خطاب حاصل کر کے ہندستانی خواتین سے کرکٹ تاریخ کے سنہری دور کا آغاز کرنے کی توقع ہے ۔مرد ٹیم کے لئے کپل 1983 میں لارڈس کے اسی میدان پر پہلے عالمی کپ فاتح کپتان بنے تو اب متھالی پر بھی کرکٹ کے ‘مرکز ‘ لارڈس میدان پر پہلی مرتبہ خواتین ٹیم کو عالمی فاتح بنانے کی ذمہ داری ہے ۔ ہندستانی خاتون ٹیم نے نہ صرف گزشتہ چند برسوں میں اپنی کارکردگی سے اپنے مختلف راستے بنائے ہیں بلکہ موجودہ ٹورنمنٹ میں بھی وہ آغاز سے لاجواب کارکردگی کی بدولت سب سے اوپر ٹیموں میں شمار رہی۔ہندستان نے یہاں اپنی شروعات ہی میں انگلینڈ کے خلاف 35 رنز کی کامیابی سے کی تھی اور اب اس کے عالمی کپ کا اختتام بھی میزبان انگلینڈ پر جیت سے کرنا ہوگا۔ ہندستان نے انگلینڈ کو 35 رنز، ویسٹ انڈیز کو سات وکٹ، پاکستان کو 95 رن، سری لنکا کو 16 رنز سے شکست دے کر مسلسل چار فتوحات حاصل کی لیکن اسے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے پھر دو میچوں میں شکست ملی لیکن اس نے کمال کی واپسی کرتے ہوئے کرو یا مرو کے میچ میں نیوزی لینڈ کو 186 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کیا اور پھر چھ مرتبہ کی چمپئن آسٹریلیا کو36 رنز سے دلچسپ میچ میں شکست دے کر فائنل میں جگہ پکی کر لی ہندوستانی ٹیم اپنی اس کامیابی کے بعد اعتماد سے لبریز ہے اور کپتان تو فائنل سے پہلے انگلینڈ کو متنبہ بھی کر چکی ہیں۔ہندستانی خاتون ٹیم انگلینڈ کو ٹورنمنٹ میں شکست دے چکی ہے

اور یہ بھی اس کی ایک وجہ ہے ۔اگرچہ ٹیم کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ میزبان ٹیم نے پہلا میچ ہارنے کے بعد زبردست واپسی کی اور جدول میں سب سے اوپر رہی۔انگلینڈ نے سال1973 میں سب سے پہلے نشانات کی بنیاد پر عالمی کپ جیتا اور اس کے بعد سال 1993 میں نیوزی لینڈ اور سال 2009 میں بھی نیوزی لینڈ کو شکست دے کر عالمی کپ جیتا لیکن ہندستان اب تک صرف دوسری مرتبہ ہی فائنل میں پہنچا ہے اور کبھی بھی عالمی کپ خطاب نہیں جیت سکا ہے ۔ہندوستانی کھلاڑیوں کی بات کریں تو اس کے پاس ٹیم میں تجربہ کار بیٹس ویمنس اور بولرس ہیں ۔ ہندستان سے پہلے میچ میں شکست کے بعد میزبان ٹیم نے پھر کوئی میچ نہیں ہارا ہے اور یہی اس کی طاقت ہے ۔اگرچہ ٹیم کے پاس 35 سالہ تجربہ کار کپتان اور متھالی ، لیڈی وریندر سہواگ پریت، سمرتی مدھانا، پونم راوت، دیپتی شرما اور ویدا کرشنا مورتی جیسی بہترین اسکورر ہیں تو بولروں میں اپنا آخری عالمی کپ کھیل رہیں جھولن گوسوامی، ایکتا بشٹ، دپتی ، شکھا پانڈے اور پونم یادو جیسی کھلاڑی موجود ہیں۔متھالی انگلش کپتان ہیتھر سے کہیںزیادہ تجربہ کار ہیں جو ہندوستان کا 108 میچوں میں قیادت کر چکی ہیں جس میں 67 جیتے ہیں اور 38 ہارے ہیں۔وہیں انگلش کپتان نے گزشتہ سال ہی انگلینڈ کی کپتانی سنبھالی ۔

TOPPOPULARRECENT