Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / لاس ویگاس کے موسیقی پروگرام میں وحشیانہ فائرنگ 58 ہلاک 515 زخمی

لاس ویگاس کے موسیقی پروگرام میں وحشیانہ فائرنگ 58 ہلاک 515 زخمی

امریکی میوزک فیسٹول میں آہ وزاری اور کربناک صداؤں کی گونج ، حملہ آور کی نعش کی شناخت

l دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں : ایف بی آئی
l حملہ آور مشرف بہ اسلام ہوچکا تھا : داعش
l بندوق بردار کا اقدام ’خالص بدی‘ : ٹرمپ
l کوئی بھی ہندوستانی متاثر نہیں ہوا

لاس اینجلس ۔2 اکٹوبر۔( سیاست ڈاٹ کام) امریکی شہر لاس ویگاس میں موسیقی کے ایک پروگرام میں ایک بندوق بردار کی اندھادھند وحشیانہ فائرنگ کے نتیجہ میں کم سے کم 58 افراد ہلاک اور دیگر 515 زخمی ہوگئے ۔ امریکہ کی جدید تاریخ میں شوٹنگ کا یہ سب سے بڑا اور بدترین ہلاکت خیز حملہ ہے ۔ پولیس نے کہا کہ بندوق بردار 64 سالہ مقامی شخص اسٹیفن پیڈاک کی نعش موسیقی کے مقام سے متصلہ ہوٹل کسینومنڈالے بے کی 32ویں منزل میں واقع اس کے کمرہ میں دستیاب ہوئی ۔ ابتداء میں سمجھا جارہا تھا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم ساوٹ نے گولی مارکر ہلاک کردیا۔لاس ویگاس کے شیروف نے کہاکہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس فرد نے غالباً ہمارے پہونچنے سے قبل ہی خود کو ہلاک کرلیا۔ اس کمرہ سے جو پیڈاک نے کرایہ پر حاصل کررکھا تھا کم سے کم آٹھ رائفلس برآمد ہوئے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس واقعہ کو ’خالص بدی‘قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔ آئی ایس آئی ایس (داعش) نے لاس ویگاس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا کہ حملہ آور بندوق بردار اسلامک اسٹیٹ کا سپاہی تھا جس نے جہادیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ملوث ممالک کو نشانہ بنانے کی اپیل پر یہ حملہ کیا تھا۔ داعش کے پروپگنڈہ شعبۂ اعمق نے دعویٰ کیا کہ اسٹیفن پیڈاک پہلے ہی اسلام قبول کرچکا تھا ۔ تاہم ایف بی آئی کے تحقیقات کنندگان نے کہا ہے کہ اس واقعہ سے تاحال کسی بین الاقوامی دہشت گرد گروپ کے کسی ربط کا پتہ نہیں چلا ہے ۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نئی دہلی میں کہا کہ لاس ویگاس واقعہ میں کوئی بھی ہندوستانی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ۔ اسمارٹ فون پر فلمبند کئے گئے ویڈیو فٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ موسیقی کا جشن منانے والے ہزاروں مداح بے پناہ خوف وسنسنی کی حالت میں اپنی جان بچانے کیلئے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے ۔ اس دوران خودکار بندوق سے فائرنگ کی خوفناک گھن گرج جاری تھی ۔ یہ المناک واقعہ امریکی مقامی وقت کے مطابق اتوار کو 10 بجے رات ( عالمی معیاری وقت کے مطابق 5بجے صبح ) پیش آیا ۔ لاس ویگاس پولیس شیروف جوزف لومبارڈو نے گیمبلنگ کے مرکز نیویڈا میں ماقبل طلوع پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ فی الحال 50 سے زائد افراد ہلاک اور دیگر 406 زخمی ہوئے ہیں۔ یقینا یہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے اور ماضی میں ہمیں ایسے کسی واقعہ کا سابقہ نہیں پڑا‘‘ ۔ لومبارڈو نے کہاکہ پولیس اور ایف بی آئی ہنوز بندوق بردار حملہ آور پیڈاک کے پس منظر کا پتہ چلارہے ہیں۔ لیکن ہوٹل کے اس کمرہ میں جہاں حملہ آور مقیم تھا متعدد آتشیں اسلحہ دستیاب ہوئے ہیں۔ پولیس نے کہاکہ پیڈاک نے مشہور و معروف لاس ویگاس اسٹرپ پر واقع بڑی ہوٹل کی 32 ویں منزل سے ہجوم پر فائرنگ کررہا تھا ۔ لومبارڈو نے کہاکہ پیڈاک کی ایک خاتون ساتھی کی نشاندہی کرلی گئی ہے جس کو پولیس نے اپنے لئے اطلاع فراہم کرنے میں معاون افراد کی فہرست میں شامل رکھا تھا ۔ منڈالا بے سے متصلہ اس مقام پر ہزاروں افراد موسیقی کے پروگرام سے محظوظ ہورہے تھے جو روٹ 91 سے موسوم تین روزہ دیسی موسیقی فیسٹول کا حصہ تھا ۔صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹر پیام میں مہلوکین کے ورثاء سے دلی تعزیت اور زخمیوں سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ عینی شاہدین نے کہاکہ پیڈاک نے پہلے ایک طویل میگزین کے ساتھ اندھا دھند فائرنگ شروع کی بعد ازاں وہ وقفہ وقفہ سے کارتوس لوڈ کررہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT