Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / لالو پرساد اور نتیش کمار اٹھارہویں صدی کی ذہنیت کے حامل

لالو پرساد اور نتیش کمار اٹھارہویں صدی کی ذہنیت کے حامل

PATNA, OCT 25 (UNI)- Prime Minister Narendra Modi (C) greeting the crowd during an election rally in Hajipur on Sunday. UNI PHOTO-50U

جبر واستبداد کی پالیسی پر عمل پیرا ۔ آر جے ڈی ‘ راشٹریہ جادو ٹونا پارٹی ۔ انتخابی ریلیوں سے نریندر مودی کا خطاب

چھاپرا / نالندہ / پٹنہ 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار میں اپنے سیاسی مخالفین نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں جبر و استبداد کے ایجنڈہ پر عمل پیرا اور 18 ویں صدی کی ذہنیت رکھنے والے قائدین قرار دیا ۔ انہوں نے چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر تانترک سے ملاقات پر تنقید کی اور کہا کہ آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو جادو ٹونا پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ بہار میں تیسرے مرحلہ کی رائے دہی کے سلسلہ میںانتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے بی جے پی کے چھ نکاتی ترقیاتی ایجنڈہ کو پیش کیا اور کہا کہ یہ ایجنڈہ ریاست میں آر جے ڈی ‘ جے ڈی یو اور کانگریس کے عظیم اتحاد کا متبادل ہے ۔ بہار میں ابھی تین مراحل کی رائے دہی باقی ہے ۔ تیسرے مرحلہ میں 28 اکٹوبر کو چوتھے مرحلہ میں یکم نومبر کو اور آخری مرحلہ میں پانچ نومبر کو رائے دہی ہونی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کی جانب سے بی جے پی کو تحفظات مخالف قرار دئے جانے کی کوششوں پر تنقید کی اور کہا کہ یہ جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے لیڈر ڈاکٹر امبیڈکر نے سماج کے پچھڑے ہوئے طبقات کیلئے جو گنجائش فراہم کی ہے اسے کوئی چھو بھی نہیں سکتا ۔ نالندہ میں ‘ جو نتیش کمار کا آبائی مقام ہے ‘ عظیم اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ عظیم اتحاد میں تین ارکان ہیں۔ ایک بڑے بھائی ( لالو پرساد ) ایک چھوٹے بھائی ( نتیش کمار ) اور ایک کانگریس ۔ تاہم اب اس میں ایک تانترک بھی آگیا ہے ۔ انہوں نے عظیم اتحاد کو عظیم موقع پرستوں کا اجتماع قرار دیا ۔ انہوں نے یہاں ریلی میں موجود افراد سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا 21 ویں صدی کے بہار کی تعمیر ان قائدین کے ذریعہ ہوسکتی ہے جو آج بھی اٹھارہویں صدی کی ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنتر منتر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں کمپیوٹرس کی ضرورت ہے ۔

ہمارے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ رکھنے چاہئیں نہ کہ کوئی تعویذ ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقتدار رکھنے کے باوجود اپوزیشن نے اس علاقہ کی ترقی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ چھاپرا میں لالو پرساد یادو کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ لالو یادو کو چاہئے کہ وہ اپنی پارٹی کا نام راشٹریہ جادو ٹونا پارٹی رکھ لیں۔ انہوں نے لالو یادو سے راست خطاب میں کہا کہ لالو پراسد یادو کالے یا سفید کبوتر کی قربانی دنے یا مرچی کا دھواں دینے کیلئے آزاد ہیں لیکن ایسا کرنے کیلئے انہیں اپنی پارٹی کا نام راشٹریہ جادو ٹونا پارٹی رکھ لینا چاہئے اور چونکہ وہ پارٹی کے سربراہ ہیں اس لئے وہ دنیا کے سب سے بڑے تانترک بن جائیں گے ۔ لالو اور نتیش پر ذات پات کی سیاست کا زہر گھولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ( مودی کو ) اس لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ اس بات کو ہضم نہیں کرسکے ہیں کہ ایک انتہائی پسماندہ خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ نریندر مودی نے بہار کی پسماندگی اور مسائل کیلئے بڑے بھائی ( لالو پرساد ) اور چھوٹے بھائی ( نتیش کمار ) کو ذمہ دار قرار دیا اور ان انتخابات کو بہاری بمقابلہ باہری قرار دینے پر بھی تنقید کی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ بہار کے نوجوانوں کو باہری کس نے بنایا ۔ بہار کے نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک بھر میں جا رہے ہیں۔ انہیں ریاست میں مواقع فراہم نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے بہار کے عوام سے کہا کہ وہ گذشتہ 25 سال سے غلط حکمرانی کرنے والوں کو سزا دیں اور بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پر تحفظات مخالف ہونے کا الزام غلط ہے ۔ اس مسئلہ پر وہ بھی لالو پرساد یادو ‘ نتیش کمار اور کانگریس کے موقف کے ہی حامی ہیں اور تحفظات کو برقرار رکھا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT