Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / لالو پرساد کے افراد خاندان کو بے نامی معاملتوں پر نوٹس

لالو پرساد کے افراد خاندان کو بے نامی معاملتوں پر نوٹس

محکمہ انکم ٹیکس کو ٹیکس چوری کا بھی شبہ ۔ اثاثہ جات ضبط بھی کئے جاسکتے ہیں۔ تحقیقات میں شدت
نئی دہلی 20 جون ( سیاست ڈاٹ کا م) محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کے افراد خاندان بشمول ان کی اہلیہ ‘ فرزند اور دختران پر بے نامی معاملتوںکا الزام عائد کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ معاملتیں 1000 کروڑ روپئے تک کی ہوسکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ لالو یادو پر ٹیکس چوری کا شبہ کیا جا رہا ہے ۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے لالو پرساد یادو کی دختر میثا بھارتی اور ان کے شوہر شیلیش کمار ‘ لالو پرساد یادو کی شریک حیات و سابق چیف منسٹر بہار رابڑی دیوی ‘ ان کے فرزند و ڈپٹی چیف منسٹر بہار تیجسوی یادو اور دختران چندا اور راگنی یادو کو نوٹسیں جاری کی ہیں۔ ان سب پر بے نامی معاملتیں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اثاثہ جات ضبط کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہ نوٹسیں بینامی معاملتوں ( کے انسداد ) قانون کے دفعہ 24(3) کے تحت جاری کی گئی ہیں ۔ ان نوٹسوں میں ادعا کیا گیا ہے کہ لالو پرساد یادو کے افراد خاندان ان بے نامی معاملتوں کے استفادہ کنندگان رہے ہیں۔ محکمہ کی جانب سے دہلی اور پٹنہ میں اراضیات ‘ پلاٹس اور عمارتوں کی قرقی عمل میں لائی گئی ہے جن کی مالیت دستاویزات میں 9.32 کروڑ دکھائی گئی ہے جبکہ محکمہ انکم ٹیکس کا ادعا ہے کہ مارکٹ میں ان اثاثہ جات کی قیمت 170 تا 180 کروڑ روپئے کی ہوسکتی ہے ۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے پٹنہ میں پھلواڑی شریف علاقہ میں نو پلاٹس کو بھی ضبط کرلیا گیا ہے ۔ کہا جا رہا تھا کہ ان پلاٹس کی اراضی پر ایک مال تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا ۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے اس کیس میں گذشتہ مہینے ملک بھر میں دھاوے کئے گئے تھے ۔ بے نامی جائیدادیں وہ ہوتی ہیں جن کے حقیقی مالک وہ نہیں ہوتے جن کو دستاویزات میں مالک دکھایا جاتا ہے ۔ اس طرح کے مقدمات میں خاطی قرار دئے جانے پر سات سال تک کی سزا ہوسکتی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT