Wednesday , July 26 2017
Home / مضامین / لالو کو مسلم دوستی کی سزا

لالو کو مسلم دوستی کی سزا

 

ظفر آغا
’’ سنو مودی اور امیت شاہ، پھانسی کے پھندے پر لٹک جائیں گے لیکن تمہارا اہنکار ( غرور ) اور تمہاری بنیاد ختم کردیں گے۔‘‘
پہچانا آپ نے ، یہ کس کے الفاظ ہیں، بھلا مودی اور امیت شاہ کو اس طرح للکارنے والا اس ملک میں لالو پرساد یادو کے علاوہ اور کون ہوسکتے ہیں، اور وہ بھی لالو نے یہ للکار اس وقت لگائی جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سی بی آئی کے نرغے میں تھے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اچھے اچھوں کے ہوش و حواس اُڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی لالو پرساد یادو کے حواس درست تھے اور وہ کھڑے ہوکر اپنے دشمنوں کو للکاررہے تھے۔

ہندوستانی سیاست کا یہ مردِ آہن صرف لالو پرساد یادو ہی ہوسکتا ہے، اور لالو میں یہ ہمت کوئی اب ودیعت نہیں کرگئی ہے بلکہ لالو پرساد تو نام ہی سرتا پا ہمت کا ہے تب ہی تو1990 میں لال کرشن اڈوانی رتھ پر سوار ہوکر سارے ہندوستان میں مسلم دشمنی کا ڈنکا بجاکر ایودھیا کی جانب مانند بھگوان روا ں دواں تھے تو اس وقت بھی لالو پرساد یادو نے ہی اڈوانی کی رتھ روک کر انہیں گرفتار کیا تھا۔ جب مسلمانوں کے خلاف نرسمہا راؤ نے بی جے پی کی ملی بھگت سے بابری مسجد شہید کروائی تھی تب بھی لالو پرساد یادو نے نرسمہا راؤ کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیںلالو پرساد یادو آزاد ہندوستان کے وہ واحد لیڈر ہیں جن کے اقتدار میں آنے کے بعد بہار میںایک بھی بڑا فساد نہیں ہوا۔یہی تو پرخاش ہے سنگھ کو لالو پرساد سے کہ آخر یہ کیسا ہندو ہے جو مسلمانوں کا ’’ انگ رکھشک‘‘ ( محافظ) بن گیا ہے، اور وہ بھی علی الاعلان مسلمانوں کی خیر خواہی کرتا ہے۔ تب ہی تو محض بہار ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے غریب عوام کا ہردلعزیز لیڈر آئے دن جیل جاتا ہے، کبھی چارہ گھوٹالہ کا شور ہوتا ہے تو کبھی تین ایکڑ کے ایک معمولی سے پلاٹ کی خریداری کے معاملہ میں لالو پرساد کو سی بی آئی عدالت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔

دراصل ہندوستانی نظام کی سربراہی اب آر ایس ایس کرتی ہے اس کی نظر میں لالو پرساد نے محض مسلم حفاظت کا ہی جرم نہیں کیا ہے بلکہ لالو تو پسماندہ ذاتوں کے بھی خیر خواہ ہیں۔ انہوں نے یادو اور دوسری پسماندہ ذاتوں کو ہزاروں سال کی نیند سے جگاکر آریا ورٹ کی ذات پات پر مبنی نظام کی بنیاد ہلادی ہے۔ آج بہار کا پسماندہ طبقہ سربلند ہے اور وہ سر اُٹھاکر کھلی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔ یہ وہی یادو ہے جس کو لالو سے قبل وہاں کے بھومہاروںکے سامنے پلنگ پر بیٹھنے تک کی اجازت نہیں تھی۔
بس یہی تو گناہ ہے لالو پرساد یادو کا، کیونکہ اعلیٰ ذات کی برتری پر مبنی ہندوتوا پر اس خیال سے آنچ آتی ہے کہ اس ملک میں لالو پرساد یادو یا پھر ان کے اہل خانہ نہ صرف اقتدار پر فائز ہوں بلکہ کھل کر وہ اعلیٰ ذات کے دبدبے کو چیلنج کریں۔ سنگھ کو یہ برداشت نہیں کہ کسی حد تک ملائم اور مایاوتی نے اکیسویں صدی کا ہندوستان بدل دیا۔ یوں تو ہندوستان میں ملک کے آئین کے نفاذ کے وقت سے ہر ہندوستانی کو ووٹ کی برابری کے تحت برابری حاصل ہے لیکن یہ خیال 1990 کی دہائی کے اولین دور تک محض ایک کتابی خیال تھا۔ سماجی اور سیاسی دونوں سطح پر اس ملک میں یہ رجحان تھا کہ ملک کے اقتدار اور سماج پر اعلیٰ ذاتوں کو باقی تمام سماجی طبقات پر فوقیت اور برتری حاصل ہوگی۔ اگر بھولے بسرے کہیں کوئی دوسری ذات یا طبقہ کا شخص اقتدار کی اعلیٰ منزل تک پہنچ بھی جائے تو اس کو اعلیٰ ذات کے مفاد میں ہی کام کرنا ہوگا جیسا کہ اس وقت نریندر مودی کررہے ہیں۔ وہ یوں تو پسماندہ ذات کے فرد ہیں لیکن مودی کی سیاست پوری طرح اعلیٰ ذات کے مفاد کی سیاست ہے۔

لالو پرساد نے ہندوستانی اقتدار پر اعلیٰ ذات کی اجارہ داری توڑ دی، انہوں نے خود ایک یادو ہوکر اقتدار حاصل کیا اور صرف بہار ہی نہیں بلکہ کسی حد تک پورے ہندوستان کے پسماندہ طبقات میں یہ فکر پیدا کردی کہ ہر انسان اس دور میں برابر ہے۔ انسانی برابری کا تصور ہی منوواد اور ہندوتوا نظریہ کے خلاف ہے۔ منوواد ذات پات کے ذریعہ انسانی اونچ نیچ کا بھرم پھیلاکر اعلیٰ ذاتوں کا راج ہونے کا نام ہے اور مسلم منافرت پھیلا کر پسماندہ ہندوؤں اور دلتوں کو اعلیٰ ذاتوں کے جال میں پھنسائے رکھنے کا نام ہندوتوا ہے، اور دونوں ہی آریاورٹ قائم رکھنے کی ایک سازش ہے۔
بھلا ایسا لیڈر جو کھل کر اعلیٰ ذات کے دبدبہ کے خلاف کام کرے اس کی مخالفت مودی سرکار نہیں تو اور کون کرے گا۔ بس یہ جان لیجئے کہ لالو پرساد یادو کو پٹنہ میں 3 ایکڑ کے ایک پلاٹ کی ہیرا پھیری کے جرم میں سی بی آئی نے عدالت میں کھینچا ہے۔ لالو پرساد یادو کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے گجرات کی طرح بہار کے بے گناہ مسلمانوں کا قتل کیوں نہیں کروائے۔ آخر بہار میں مسلمان فسادات میں کیوں زندہ نہیں جلایا گیا ، لالو پرساد کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے صدیوں پرانی ہندوستانی ذات پات پر مبنی نظام کی چولیں کیوں ہلادیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جس شخص نے بھی انسانی برابری کی آواز اٹھائی ہے اس کو نظام نے ہمیشہ پریشان کیا ہے۔ لالو پرساد یادو اسی تاریخ کی تازہ ترین کڑی ہیں۔ لالو پرساد پر مقدمہ اور قید اس لئے نہیں لگائے جارہے ہیں کہ وہ بدعنوان ہیںبلکہ اگر یہی لالو پرساد 100ایکر زمین کی ہیرا پھیری کرتے اور بی جے پی میں ہندوتوا کے گن گارہے ہوتے اور بہار میں فساد کروارہے ہوتے تو لالو پرسادپر مودی حکومت انگلی بھی نہیں اٹھاتی۔ مگر لالو پرساد یادو بہار میں فساد روکتے ہیں اور لالوانسانی برابری کی بات کرتے ہیں اس لئے لالو مجرم ہیں اور وہ ایک بارنہیں بلکہ ہزار بار جیل بھیجے جائیں گے صرف اس لئے کہ لالو پرساد یادو کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ سنگھ کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ کیا انگریزوں نے آزادی کا نعرہ بلند کرنے پر گاندھی جی کو دسیوں بار جیل نہیں بھیجا تھا؟ بس آج کا نظام لالو کے ساتھ بھی وہی کررہا ہے جو انگریزوں نے گاندھی جی کے خلاف کیا تھا ، لیکن لالو پرساد یادو مردِ آہن ہیں، انہیں مسلم منافرت کی سیاست سے نفرت ہے۔ لالو پرساد ذات پات پر مبنی نظام کو توڑ کر سماج میں انسانی برابری پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ سرقلم کروانے کو تیار ہیں لیکن گھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں ہیں۔ تب ہی تو سی بی آئی کے نرغے میں بھی لالوپرساد یادو للکارتے ہوئے کہہ رہے تھے ’’ سنو مودی اور امیت شاہ، پھانسی چڑھ جائیں گے لیکن تمہارا غرور توڑ دیں گے۔‘‘ یہ جرأت موجودہ ہندوستان میں لالو پرساد یادو کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ اس لئے ہمارے جیسے کروڑوں ہندوستانیوں کا لالو پرساد یادو کو سلام اور یہ دعا کہ اللہ لالو پرساد یادو کی ہمت برقرار رکھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT