Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / لالو یادو بی جے پی کی راہ کا مشکل کانٹا نتیش کمار کا بھی امتحان

لالو یادو بی جے پی کی راہ کا مشکل کانٹا نتیش کمار کا بھی امتحان

 

امیتابھ سریواستو
لالو پرساد یادو کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ادارہ (سی بی آئی) کی 27 رکنی ٹیم کے بڑے پیمانے پر دھاوؤں نے نہ صرف راشٹریہ جنتا دل سربراہ کے خاندان کو یکایک اضطراب میں مبتلا کردیا بلکہ بہار میں آر جے ڈی، جنتادل (یونائیٹیڈ) اور کانگریس پر مشتمل ’مہاگٹھ بندھن‘ کا استحکام بھی خطرے میں پڑگیا ہے کیونکہ اس اتحاد کی سیاسی قیادت کے حامل چیف منسٹر نتیش کمار نے اپنے حلیف لیڈر کو مصیبت کی گھڑی میں عملاً تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اتنا نہیں بلکہ انھوں نے ’مہا گٹھ بندھن‘ کے کٹر حریف و وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کی بھارتیہ جنتا پارٹی زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے تئیں یکایک نرم گوشہ اختیار کرلیا ہے جو کم از کم سکیولرازم کے معاملے میں واحد ’’ثابت قدم‘‘ لیڈر لالو پرساد اور اُن کے سیاسی نوارد بیٹوں کیلئے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ان حالات میں لالو پرساد کیلئے پٹنہ میں 27 اگست کو گاندھی میدان ریلی بہت بڑا موقع ہے جس کا وہ موجودہ صورتحال اُبھرنے سے بہت پہلے اعلان کرچکے تھے۔ صدر آر جے ڈی نے گزشتہ دنوں اپنی پٹنہ قیامگاہ پر پارٹی لیجسلیٹرز کے ساتھ مل بیٹھ کر ریلی کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور انھیں تاکید کی ہے کہ گاندھی میدان پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں عوام کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ عوام ہی کسی بھی لیڈر کی اصل طاقت ہوا کرتے ہیں اور لالو پرساد پر تقریباً ہر سمت سے مشکل آن پڑی ہے، چنانچہ وہ پھر ایک بار عوام کے درمیان جاکر اُن کی تائید و حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگر بہار کے عوام اب بھی لالو پرساد کا ساتھ دیتے ہیں تو یقینا انھیں اس میں کچھ فائدہ معلوم ہوتا ہوگا اور اس کے نتیجے میں خود لالو پرساد کا نہیں تو کم از کم اُن کی اگلی نسل کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔

جہاں تک سی بی آئی دھاوے کے پس منظر کا معاملہ ہے، اس سلسلہ میں قبل ازیں درج ایف آئی آر میں سی بی آئی کا الزام ہے کہ لالو نے 2005ء میں وزیر ریلوے رہتے ہوئے ایک ٹنڈر میں چالبازی سے کام لے کر رانچی اور پوری میں دو ریلوے ہوٹلوں کے ذیلی ٹھیکہ اپنی پسند کے ایک ہوٹل بزنسمین کو عطا کردیئے جس نے اس مہربانی کے عوض یادو فیملی کو پٹنہ میں تین ایکڑ قیمتی اراضی بے نامی کمپنی کے ذریعے منتقل کردی۔ یہ الزامات تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 420 (دھوکہ دہی) اور 120B (مجرمانہ سازش) اور قانون اِنسدادِ بدعنوانی کی گنجائشوں کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ لالو کی شریک حیات رابڑی دیوی اور فرزند تیجسوی یادو ( نتیش کمار حکومت میں ڈپٹی چیف منسٹر) بھی ملزمین نامزد کئے گئے ہیں۔
سی بی آئی کارروائی کے پس منظر میں حلیف جنتا دل (یو) نے 11 جولائی کو اپنے قائدین کے طویل اجلاس کے بعد یہی تاثر ظاہر کیا کہ نتیش کو تیجسوی سے ازخود مستعفی ہوجانے اور اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کی عوام کیلئے وضاحت کرنے کی توقع ہے۔ اس میٹنگ کے بعد جے ڈی (یو) نے میڈیا کو بریفنگ کی ذمہ داری پانچ ترجمانوں کے سپرد کی، جن میں سے ایک نیرج کمار نے کہا کہ پارٹی کو توقع ہے کہ جن کو بھی الزامات کا سامنا ہو انھیں ضرور عوام کا سامنا حقائق کے ساتھ کرتے ہوئے نکتہ بہ نکتہ وضاحت کرنا چاہئے۔ تاہم ، یہ حقیقت کہ تیجسوی کیلئے عہدہ چھوڑنے کی کوئی قطعی مہلت مقرر نہیں کی گئی، نتیش کی طرف سے بہار میں مہا گٹھ بندھن کو بچانے کی کوشش مانا جارہا ہے۔

جے ڈی (یو) کا مشورہ ظاہری طور پر تیجسوی پر کوئی اثر ڈالنے میں ناکام ہوا۔ لالو کے بظاہر وارث نے اگلے ہی روز کابینی اجلاس میں شرکت کی اور ٹکراؤ کے موڈ میں نظر آئے۔ ’’ایف آئی آر ایک سازش اور بی جے پی کی انتقامانہ سیاست کا حصہ ہے‘‘ ان الفاظ کے ساتھ تیجسوی نے واضح کردیا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ ’’میں نے ڈپٹی سی ایم کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد سے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ سی بی آئی کیس کا تعلق اُس وقت سے ہے جب میں 14 سال کا تھا۔ مجھے خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ میرا تعلق پسماندہ ذات کے خاندان سے ہے۔‘‘
اگرچہ لالو اس شدید بحران کے درمیان ہمت دکھا رہے ہیں، لیکن وہ واقف ہیں کہ بہار میں مہا گٹھ بندھن جوکھم پر ہے۔ نتیش کابینہ سے تیجسوی کے اخراج کا مطالبہ اور آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد ختم کرلینے کی صورت میں جے ڈی (یو) کو باہر سے تائید کی پیشکش کرتے ہوئے بی جے پی نے سیاسی ماحول کو پراگندہ کردیا ہے۔ نتیش کو اپنے امیج کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کے معاملے میں اٹل سیاستدان سمجھا جاتا ہے اور یہ لالو کیلئے فکرمندی کی بات ہے۔ ایک سینئر جے ڈی (یو) لیڈر کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کبھی ایسا تاثر پیدا ہونے نہیں دیں گے کہ انھوں نے چیف منسٹر بہار کی حیثیت سے کسی ایسے شخص کو بچانے کی کوشش کی جو قانون کی نظر میں غلط سمت پر ہو۔ یہ بات ماضی کے واقعات سے عیاں ہوتی ہے۔ نومبر 2005ء میں نتیش نے وزیر جیتن رام مانجھی کو حلف لینے کے چند گھنٹوں میں مستعفی کرایا کیونکہ اُن کے خلاف ویجلنس کیس معرض التوا ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ 2011ء میں چیف منسٹر نے وزیر امداد باہمی رام دھر سنگھ سے ایک کیس میں مفرور پائے جانے کے بعد استعفیٰ طلب کرلیا تھا۔
تیجسوی سے ویسے مجرم قرار پانے تک کوئی قانونی تقاضہ نہیں کہ اپنا عہدہ چھوڑ دے۔ چونکہ آر جے ڈی اُن کے استعفے کو خارج از امکان قرار دے رہی ہے، اس لئے نتیش کو نہ صرف اس بات کا مخمصہ ہے کہ کرپشن کے الزامات والے ایک وزیر کو برداشت کرتے رہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر آر جے ڈی کا متبادل تلاش کرنے کا پیچیدہ مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔ جے ڈی (یو) ذرائع کا کہنا ہے کہ نتیش جو 2013ء تک بی جے پی کے ساتھ 17 سال اتحاد میں رہے، موجودہ حالات میں نریندر مودی اور امیت شاہ کے تحت بی جے پی کے ساتھ دوبارہ اتحاد قائم کرنے کے تعلق سے کچھ خاص اعتماد میں دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

دوسری طرف ، متواتر قانونی رکاوٹوں کے باوجود لالو پرساد بدستور قابل لحاظ طاقت ہیں۔ چارہ اسکام کیس میں سپٹمبر 2013ء میں سزادہی نے انھیں انتخابات لڑنے کیلئے نااہل کیا، لیکن اس کے تین ماہ بعد وہ ضمانت پر جیل سے باہر آئے اور 2014ء لوک سبھا انتخابات میں بہار میں بڑی مخالف بی جے پی طاقت بن کر اُبھرے۔ این ڈی اے نے 40 نشستوں میں سے 31 جیت لئے اور آر جے ڈی چار کیساتھ دوسرے مقام پر آئی۔ تاہم، 2015ء بہار اسمبلی انتخابات میں لالو نے جے ڈی (یو) اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے بی جے پی کی بہت بُری حالت بنادی۔
آر جے ڈی کی اقتدار پر واپسی 2005ء اسمبلی چناؤ میں صفایا ہونے کے بعد سے سیاسی محاذوں پر طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ اب اُن کی پارٹی کا 29 رکنی نتیش کابینہ میں 12 بڑے قلمدانوں پر کنٹرول ہے اور دو فرزندان سینئر وزراء مقرر ہیں، اس طرح لالو نے منظم انداز میں تیجسوی اور تیج پرتاپ کو سیاست اور حکمرانی میں جما دیا ہے۔ لالو کی پارٹی کے 80 ایم ایل ایز ہیں، جو جے ڈی (یو) کی عددی طاقت سے 9 زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود لالو فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں، نتیش کے ساتھ اقتدار اور اتھارٹی بانٹتے ہوئے چیف منسٹر بہار کو اکثر پیچیدہ مسائل پر قطعی فیصلے کرنے دیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ڈھلتی عمر میں لالو اپنے بیٹوں کو نتیش کے تحت تیار کرنا چاہتے ہیں۔
تیجسوی کی آخرکار نتیش حکومت میں برقراری ہوتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر لالو کے پاس ظاہر طور پر بہت کم موقع ہے کہ وہ خود کو بی جے پی کی انتقامانہ سیاست کا شکار بتاسکیں۔ وہ مودی اور امیت کو انھیں جیل بھیجنے کی کوشش کرنے کا موردِ الزام ٹھہرا چکے ہیں، اور اب دیکھنا ہے آیا وہ پٹنہ میں اپنی 27 اگست کی ’’بی جے پی بھگاؤ‘‘ ریلی کے ساتھ سیاسی حالات کا رُخ بدلتے ہیں، جس کیلئے کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی اپنی حاضری کی توثیق کردی ہے۔ لالو نے کہا: ’’میں سی بی آئی سے 20 سال سے لڑرہا ہوں۔ میری طاقت اور جوانی مقدمات لڑنے میں صَرف ہوگئے۔ یہ (ریلوے ٹنڈر) کیس 2019ء (لوک سبھا چناؤ) کی تیاری ہے۔ لالو بھلے ہی ناکام ہوجائے لیکن یقینی بناؤں گا کہ بی جے پی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔‘‘
آر جے ڈی سربراہ کو کسی حد تک راحت اس حقیقت سے حاصل ہوسکتی ہے کہ کرپشن کے الزامات سے شاید اُن کے وسیع تائیدی گوشے میں کوئی فرق نہیں پڑتا … آر جے ڈی کا 2015ء کے انتخابات میں جملہ محصلہ ووٹ کا تناسب 18.4 فیصد رہا، لیکن اسے چناؤ کیلئے الاٹ کردہ 101 نشستوں میں 44.4 فیصد ریکارڈ ہوا۔ نیز این ڈی اے کیلئے بہار میں 31 نشستوں کی اپنی گزشتہ لوک سبھا کی عددی طاقت کا اعادہ کرنا آسان نہیں رہے گا تاوقتیکہ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) متحد رہیں۔ دونوں پارٹیوں نے مل کر 2015ء میں زائد از 35 فیصدووٹ حاصل کئے۔ حال میں جس مستعدی سے بی جے پی نے نتیش کو باہر سے تائید کی پیشکش کردی، وہ اس کی مایوسی کو آشکار کررہی ہے۔
جہاں تک جے ڈی (یو) کا معاملہ ہے تیجسوی کے خلاف کیس ممکنہ الجھن کا ذریعہ ہے، لیکن فیصلہ اب لالو کو کرنا ہے … انھیں اپنے فرزند کو عہدہ چھوڑ دینے اور نتیش کی بی جے پی کی طرف حرکت کا جوکھم مول لینے کے درمیان کوئی فیصلہ کرنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT