Monday , August 21 2017
Home / مضامین / لاپروائی قوموں کی تباہی کا باعث

لاپروائی قوموں کی تباہی کا باعث

کے این واصف
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ پہلے چار خلفائے راشدین کے صرف 30 سالہ دور میں دو تہائی دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرا چکا تھا ۔ اس دور میں ہرسطح پر وسائل محدود ہونے کے باوجود نئے علاقوں میں اسلام کا فروغ اور فتوحات کا سلسلہ تیزی سے جاری تھا ۔ وسائل کی کمی تھی مگر عزائم بلند تھے ، ہر عمل میں سنجیدگی ، سچائی اور دیانتداری تھی ۔یہی وجہ تھی کہ کامیابیاں ان کے قدم چومتی تھیں ۔ مدینہ منورہ سے پھوٹیں انوار حق و صداقت کی کرنیں مشرق وسطی ، مشرق بعید ، ایشیا اور براعظم افریقہ تک پھیل گئیں ۔ تابعین و تابع تابعین نے اس سلسلے کو مزید دراز کیا ۔ ایک طرف ملک گیری کا حلقہ وسیع ہورہا تھا تو دوسری طرف اللہ والے دلوں کو جیت رہے تھے ۔ لوگ جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے ۔ فتح و کامرانی مسلمانوں کا مقدر بن گیا تھا ۔ پھر وقت کے گزرتے کہیں اقتدار تو کہیں  دولت کے نشہ میں مسلمانوں کے ہاتھ سے اللہ کی رسی پر گرفت کمزور ہوتی گئی ۔ ان کی غلطیوں ، کوتاہیوں اور لاپروائیوں کے نتیجہ میں مسلمان سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی طور پر کمزور ہونے لگے ۔ فاتح قوم شکستوں کا سامنا کرنے لگی ۔ حاکم ، محکوم ہوگئے ۔ ہماری لاپروائی نے ہمیں مجبور و لاچار بنادیا اور اب یہ حال ہے کہ ہم دنیا میں دہشت گرد قوم کہلائے جانے لگے ہیں۔ یہ سب ہمارے مزاج کی لاپروائی کا نتیجہ ہے ۔ بے شک یہ ایک عالمی سازش کا نتیجہ ہے ۔ اول تو ہر دہشت گردی کے واقعہ کو مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ چاہے اس سے ان کا تعلق ہو کہ نہیں ۔ دوسرے یہ کہ اگر پچھلے سو سال میں دہشت گردی کے واقعات جو دنیا میں وقوع پذیر ہوئے ، کی فہرست کا جائزہ لیا جائے تو اکثریت ان واقعات کی ملے گی جس میں کوئی مسلمان ملوث نہیں تھا ، لیکن آج تک کسی اخبار یا ٹی وی چینل نے ’’یہودی دہشت گردی‘‘ ’’عیسائی دہشت گردی‘‘ یا ’’ہندو دہشت گردی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جبکہ مسلم دہشت گردی کا لفظ زبان زد عام ہے ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے جس پر آئندہ کبھی تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی ۔ آیئے مسلمانان عالم کی لاپروائی پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ۔
پچھلے جمعہ کو حرمین شریفین کے ائمہ نے بھی مسلمانان عالم کو اپنی لاپروائی کے مزاج کو بدلنے ،اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے ، اپنی سوچ و فکر کو بدلنے ، اپنی کارکردگی اور معیار کو بلند کرنے ، اپنی اچھائیوں ، کمزوریوں کی نشاندہی کرنے ، مستقبل میں پھر سے عالمی طاقت بننے کا اہتمام کرنے پر زور دیا ۔ چونکہ ان خطبات میں ائمہ حرمین شریفین نے مسلمانان عالم کو مخاطب کیا ہے تو ہم نے مناسب سمجھا کہ قارئین سیاست تک ان خطبات کا متن پہنچادیں ۔

مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر سعود الشریم نے کہا کہ امت مسلمہ کی ہر مصیبت اور ہر ناکامی میں ان کی لاپروائی کا دخل ہے ۔ مسلم معاشرے کو ناکامی اور مصائب سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے لاپروائی سے نجات حاصل کرنی ہوگی ۔ مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبدالمحسن القاسم نے اللہ تعالی سے پناہ مانگنے پر زور دیا اور توجہ دلائی کہ جو شخص اللہ تعالی کی پناہ پائے گا شیطان اسے سرنگوں نہیں کرسکتا ۔ امام حرم نے روح پرور ماحول میں ایمان افروز خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ کمی اور کوتاہی انسانی فطرت کا حصہ ہے ۔ ہر انسان غلطی کرتا ہے ، اچھے خطاکار وہ ہیں جو خطا کرکے توبہ کرلیں اور آئندہ خطا نہ کرنے کا عہد کریں ۔ ہر خامی اور ہر کمزوری سے پاک ذات صرف اور صرف اللہ تعالی کی ہے ۔ اس کے سوا کسی کی نہیں ۔ گناہ سے پاک صرف پیغمبر اور نبی ہوتے ہیں ان کے سوا کوئی بھی انسان گناہوں سے پاک نہیں ہوتا ۔ امام حرم شیخ ڈاکٹر الشریم نے حاضرین حرم سے کہا کہ سب لوگ مسلمانان عالم کے حالات حاضرہ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں گے تو وہ افراد ، جماعتوں ، ملکوں اور اداروں کا مشاہدہ کرکے اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہماری دنیا دینی اور دنیاوی تقاضوں کے ہجوم میں گھری ہوئی ہے ۔ ایسے عالم میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات متعین کریں ۔

انتہائی اہم اور اہم امور اسی طرح ثانوی درجے کے امور اور لایعنی امور کے اندر خلط ملط نہ کریں ۔ امت مسلمہ کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کا معیار متعین کرے ۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ مثبت سوچ رکھنے والے معاشرہ میں آتا ہے یا منفی سوچ رکھنے والے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ سنجیدہ ہے یا لاپروائی اس کی پہچان بن چکی ہے  ۔امام حرم نے انتباہ دیا کہ جب تک اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ہم حالات کا معائنہ نہیں کریں گے اور جب تک ہم تمام امور کا سنجیدگی ، گہرائی اور اخلاص کے ساتھ مطالعہ نہیں کریں گے اس وقت تک ہم سچائی تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عام افراد اور مسلم معاشرہ کی بربادیوں اور مسائل کے حل کو امروز و فردا پر ڈالنے کی عادت کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔ امام حرم نے کہا کہ امت مسلمہ کے پاس بیشمار وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان کی بدولت امت عالمی تمدن کے قافلہ سالاروں سے ٹکر لے سکتی ہے ۔ امت مسلمہ میں اتنا دم ہے کہ وہ اپنے فرزندوں کے ذہنوں اور انکی کاوشوں کی بدولت خود کو مستقبل میں عالمی طاقت میں تبدیل کرے ۔ یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ لاپروائی کو پس پشت نہ ڈال دیا جائے  ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے پاس افکار ہیں ، صلاحیتیں ہیں لیکن حوصلہ نہیں جسے ہماری لاپروائی نے یرغمال بنارکھا ہے ۔ امام الشریم نے کہا کہ ظلم و ستم اور ناواقفیت و نادانی بھی انسانی فطرت کا حصہ ہیں ۔ لاپروائی میں ظلم بھی شامل ہے اور نادانی بھی اس کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ امام حرم نے بتایا کہ قرآنی آیات ، احادیث مبارکہ ، عقلی دلائل ، دانشوروں کے فرمودات ، شعراء کے اشعار اور ادیبوں کی تحریروں نے بتایا کہ امت کے تمام افراد ، قائدین ، علماء ، والدین ، اساتذہ ، دانشوروں اور سخنوروں حضرات کا فرض ہے کہ وہ لاپروائی کے مرض کے خطرات کا احساس کریں  ۔جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے تب تک تعمیر و ترقی کے کاروان کی گرد بنے رہیں گے ۔ جو لوگ ہماری اس دنیا میں ہم سے آگے بڑھے ہوئے ہیں وہ وہی ہیں جو لاپروائی کو شکست دیئے ہوئے ہیں ۔ اسلامی شریعت سکھاتی ہے کہ ہم سب لوگ فرد ، معاشرہ اور بنی نوع انسان کے حوالے سے سنجیدہ رہیں ،لاپروائی سے دور رہیں  ۔امام حرم نے اپنا خطبہ پیغمبر اعظم و آخر محمد مصطفیؐ کے اس ارشاد گرامی پر ختم کیا جس میں آقاؐ نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور مومن بہتر ہے اور اللہ تعالی کو کمزور مومن کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہے ۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا یوم تاسیس
جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی اسوسی ایشن ریاض ہر سال اپنی مادر درسگاہ کا یوم تاسیس شاندار پیمانے پر مناتی ہے ۔ اسوسی ایشن اس تقریب کیلئے ہر سال ہندوستان سے معروف شخصیات کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرتی ہے ۔ امسال اسوسی ایشن نے جامعہ کے 95 ویں یوم تاسیس تقریب کیلئے سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ سید شاہد مہدی اور جامعہ کے سپوت اور عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ آر جے نوید (ریڈیومرچی) کو بطور مہمانان خصوصی مدعو کیا تھا  ۔تقریب کی صدارت غزال مہدی نے کی ۔
تقریب کا آغاز قاری عبدالرحیم خان کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ نظامت کے فرائض سینئر جامعی محمد شہاب الدین نے انجام دیئے ۔ شہاب الدین نے ابتدائی کلمات کے بعد مختصر طور پر جامعہ کا تعارف اور مہمانان کا تعارف بھی پیش کیا ۔ غزال مہدی نے اپنے جامع انگریزی خطبہ صدارت میں جامعہ کے قیام کے مقاصد اور ان کے بانیوں کی کاوشوں کا ذکر کیا اور جامعہ کیلئے اسوسی ایشن کے تعلق خاطر کا ذکر کرتے ہوئے اسوسی ایشن کی جانب سے چند تجاویز بھی پیش کیں ۔

مہمانان خصوصی سید شاہد مہدی اور آر جے نوید نے اس موقع پر مخاطب کیا ۔ نوید نے حاضرین کے اصرار پر ٹی وی اور ریڈیو پر ان کے پیش کردہ کئی خاکے بھی پیش کئے ۔ اسٹیج پر صدر جلسہ ، مہمانان خصوصی کے علاوہ اسوسی ایشن کے عہدیداران عابد عقیل ، غیاث الدین اور عرفان الحق بھی موجود تھے ۔ غزال مہدی نے مہمانان خصوصی سید شاہد مہدی اور آر جے نوید کو یادگاری مومنٹوز پیش کئے ۔ اس کے علاوہ جامعہ کے سابق طلبہ جن میں وصی اللہ نقوی ، موسی رضا ، امداد علی ، معین الدین احمد اور محمد الیاس شامل تھے ، کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مومنٹوز پیش کئے گئے ۔ اسوسی ایشن کے دیگر اراکین میں ڈاکٹر نجیب قاسمی سنبھلی ، ایاز صدیقی ، مرشد کمال ، انور خورشید وغیرہ نے مہمانوںکا استقبال کیا ۔ آفتاب نظامی و ہمنوا نے جامعہ کا ترانہ پیش کیا ۔ آخر میں صدر غیاث الدین کے ہدیہ تشکر پر رات دیر گئے اس محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT