Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ’لاپرواہ ‘ٹرمپ کیخلاف ریپبلکن پارٹی کی 50 شخصیتوں کا انتباہ

’لاپرواہ ‘ٹرمپ کیخلاف ریپبلکن پارٹی کی 50 شخصیتوں کا انتباہ

70 سالہ ریالیٹی ٹی وی اسٹار میں امریکی صدر بننے کے کردار، اقدار اور تجربہ کا فقدان ، کھلے خط میں تنقید

واشنگٹن ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) 50 سرکردہ ریپبلکن قومی سلامتی ماہرین جن میں نکسن سے لیکر بش نظم و نسق کے ویٹرنس شامل ہیں، پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار ڈونالڈٹرمپ کے خلاف کھلے طور پر آگے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہیکہ اگر منتخب ہوجائے تو وہ امریکی تاریخ میں سب سے لاپرواہ صدر ہوں گے۔ ریالیٹی ٹی وی اسٹار کے پاس درکار اوصاف، اقدار اور ضبط و تحمل کا فقدان ہے، یہ بات اس گروپ نے کہی اور اس شخصیت کی خطرناک باتوں کو پیش کیا جو صدر اور کمانڈرانچیف بننے کا خواہشمند ہے۔ جس کے پاس امریکی نیوکلیئر اسلحہ کی کمان رہے گی اور ایسی صورت میں ملک کی سلامتی کو جوکھم ہوسکتا ہے۔ اس گروپ نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دے گا۔ اس گروپ نے سابق سربراہان داخلی سلامتی، انٹلیجنس ڈائرکٹر، سینئر صدارتی مشیران اور ایک سابق امریکی تجارتی نمائندہ شامل ہے۔ اس گروپ کا بیان 70 سالہ ریئل اسٹیٹ بزنسمین سے سیاستدان بننے والے ٹرمپ کیلئے خود پارٹی سے ابھرنے والا بڑا جھٹکا ہے۔ گروپ والوں نے ایک کھلے مکتوب پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریالیٹی ٹی وی اسٹار صدر بننے کے لائق نہیں اور وہ امریکی اخلاقی نظام کو کمزور کردیں گے۔

خارجہ پالیسی کے تناظر سے ٹرمپ، صدر اور کمانڈرانچیف بننے کے اہل نہیں ہے۔ درحقیقت ہمیں یقین ہیکہ وہ خطرناک صدر ثابت ہوں گے اور ہمارے لک کی قومی سلامتی اور بھلائی کو جوکھم میں ڈال دیں گے۔ سب سے بنیادی بات یہ ہیکہ ٹرمپ میں کردار، اقدار اور صدر بننے کے تجربے کا فقدان ہے۔ اس مکتوب میں سوال اٹھایا گیا ہیکہ ٹرمپ کو امریکی دستور کا ضروری علم ہے اور نہ اس پر وہ یقین رکھتے ہے۔ وہ بارہا ظاہر کرچکے ہیں کہ انہیں ملک کے کلیدی قومی مفادات، اس کے پیچیدہ سفارتی چیلنجوں، اس کے ناگزیر حلیفوں اور جمہوری اقدار کا بہت کم ادراک ہے۔ اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا کہ ٹرمپ نے خود کو معلومات سے بہرہ مند کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ مکتوب پر دستخط کرنے والوں میں سابق سی آئی اے ڈائرکٹر مائیکل ہیڈن، سابق امریکی تجارتی نمائندہ کارلا ہلز، سابق امریکی سفیر برائے ہند رابرٹ بلیک ویل اور سابق اسوسی ایٹ ڈائرکٹر برائے امور قریب از مشرق، قومی سلامتی کونسل، وائیٹ ہاوز رچر ڈ فونٹین شامل ہیں۔ ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا لگا جب سرکردہ ریپبلکن سنیٹر سوزین کالنس نے کہا کہ وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گی کیونکہ ان میں اس جلیل القدر عہدہ کیلئے درکار ضبط و تحمل اور فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔

میری مخالفت کے سیاسی مقاصد: ٹرمپ
دریں اثناء ٹرمپ نے اپنے خلاف جاری کردہ مکتوب کو سیاسی مقصد براری پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستخط کنندگان اور ان کے ساتھ ہلاری کلنٹن ان تباہ کن فیصلوں کے ذمہ دار ہیںجن کی وجہ سے عراق پر حملہ کیا گیا، بن غازی میں امریکیوں کو مرنے دیا گیا اور وہی ہے جنہوں نے آئی ایس آئی ایس کو فروغ پانے کا موقع دیا۔ ان ناکامیوں کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ٹیکس کے فنڈس والی حکومت کے کنٹراکس پر کنٹرول برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ رجحان چلنے والا نہیں۔ ہلاری کلنٹن اور واشنگٹن کے دیگر ناکام شخصیتیں امریکی وسائل کو برباد نہیں کرسکیں گی۔
ٹرمپ کی معاشی پالیسی سے امیروں کو فائدہ : ہلاری
واشنگٹن ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے جو معاشی پالیسی پیش کی ہے، اس سے امیروں کو فائدہ ہوگا کیونکہ ان کے ٹیکسوں میں کٹوتی لائی جائے گی اور نوکریاں پیدا کرنے یا معیشت کو فروغ دینے کی سمت بہت کم پیشرفت ہوگی، ان کی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن نے یہ بات کہی۔ وہ سیاسی اعتبار سے کلیدی ریاست فلوریڈا میں منعقدہ الیکشن ریالی سے مخاطب تھیں۔ اس ریالی میں اچھی تعداد میں حامیوں نے شرکت کی۔ ہلاری نے کہا کہ ٹرمپ نے کچھ ایسے منصوبے اور پالیسیاں بیان کئے ہیں جنہیں منصوبے اور پالیسیاں کہنے میں تک عار محسوس ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر اس سے متمول لوگوں کے ٹیکسوں میں کٹوتی آئے گی اور وہ اپنی مرضی کے مطابق فنڈس استعمال کرپائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT