Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / لاکھوں کروڑ کی دولت ‘ تحقیقات ضروری

لاکھوں کروڑ کی دولت ‘ تحقیقات ضروری

یہ مال و متاع یہ دھن دولت سب یوں ہی پڑی رہ جائے گی
کچھ بھی نہیں ہوگا ساتھ ترے جب لاد چلے گا بنجارہ
لاکھوں کروڑ کی دولت ‘ تحقیقات ضروری
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کے اعلان سے جو اتھل پتل شروع ہوئی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کے اثرات کافی دیر تک محسوس کئے جائیں گے ۔ سب سے پہلے تو اس اعلان کی وجہ سے غریب اور مفلوک الحال افراد کیلئے مسائل کا آغاز ہوگیا ہے ۔ عام آدمی کو چند سو روپیوں کیلئے کئی گھنٹوں تک بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اس کے باوجود بھی یہ یقین نہیں ہے کہ انہیں یہ رقم مل بھی پائیگی ۔ عوام کی مشکلات کو جب حکومت کے علم میں لانے کی کوشش کی گئی تو وزیر اعظم نے یہ تک کہدیا کہ یہ لوگ کالا دھن رکھنے والے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بینکوںا ور اے ٹی ایم مشینوں کی قطاروںمیں جو لوگ کھڑے ہیں ان کے پاس عام استعمال کیلئے اور گھریلو اشیا کی خریدی کیلئے تک پیسے نہیں رہ گئے ہیں۔ جو پرانے کرنسی نوٹ بند کردئے گئے ہیں ان سے یہ لوگ اپنے مریضوں کیلئے ادویات اور اپنے بچوں کیلئے دودھ تک خریدنے کے موقف میں نہیں رہ گئے ہیں۔ کالا دھن ان افراد کے پاس نہیں ہے بلکہ کالا دھن ان کے پاس جو بنگلوں میں سکون کی نیند سو رہے ہیں اور ان کے کالے دھن کو جائز دولت میں بدلنے کیلئے کئی راہیں کھل گئی ہیں۔ کوئی سوناخرید رہا ہے تو کوئی کمیشن ایجنٹ بن کر پرانے کرنسی نوٹوں کو نئے کرنسی نوٹوں میں تبدیل کر رہا ہے ۔ کوئی بے نامی جائیدادوں کی سودے بازیاں کر رہا ہے تو کوئی بینک مینیجرس یا پوسٹ آفس کے حکام سے ساز باز کرتے ہوئے اپنی کرنسی بدل چکا ہے ۔ اس کے باوجود بھی کچھ لوگ ایسے ہیں ہزاروں بلکہ لاکھوںکروڑ روپئے کی ناجائز دولت رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میںایک معمولی پراپرٹی ڈیلر نے 13 ہزار کروڑ سے زائد کی دولت کا انکشاف کیا ہے جبکہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے جو چار افراد پر مشتمل ہے 2 لاکھ کروڑ روپئے کی دولت کا انکشاف کیا ہے ۔ ان لوگوں نے حکومت کے مقرر کردہ ٹیکس ‘ جرمانے اور سیس وغیرہ کو ادا کرکے مابقی رقم کو جائز دولت میں تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم محکمہ انکم ٹیکس نے ان درخواستوں کو ابھی تک تو قبول نہیں کیا ہے ۔ ان کے انکشاف سے سارا ملک اور ملک کے تقریبا تمام گوشے حیران و پریشان ہوگئے ہیں۔
ایک عام سوچ کے مطابق یہ دولت کسی ایک فرد یا خاندان کی نہیں ہوسکتی ۔ گجرات کے جس شخص اور ممبئی کے جس خاندان نے اس بے تحاشہ دولت کا انکشاف کیا ہے وہ صرف ان تک محدود نہیں ہوسکتی ۔ یہ کئی با اثر اور معروف شخصیتوں کی دولت ہوسکتی ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ ان افراد کو کئی افراد نے یا کئی اداروں یا تنظیموں نے یا کاروباری گروپس استعمال کیا ہوگا ۔ ان افراد کو بلی کا بکرا بناتے ہوئے اصل چہروں کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اصل چہروں کو عوام کے سامنے پیش کیا جا ئے اور یہ تحقیقات بھی ضرور ہونی چاہئے کہ آخر اتنی ہزاروں لاکھوں کروڑ کی دولت آئی کہاں سے ہے اور یہ حقیقت میںکس کی ہے ۔ اس دولت کے ذرائع اور اس کے مالکین کے بے نقاب کرنا ضروری ہے ۔ حکومت کو ایسے معاملات میں صرف ٹیکس وصول کرنے یا جرمانہ عائد کرنے یا پھر 25 فیصد رقم کو چار سال کیلئے روک لینے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے ۔ اس دولت کے اصل ذرائع اور اس کے مالکین کو بے نقاب کئے بغیر محکمہ انکم ٹیکس یا حکومت کو چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے ۔ جو چہرے حقیقی ہیں ان کی سیاسی وابستگی بھی اگر ہو تو اس کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر یہ با اثر بیوروکریٹس ہوں تو بھی انہیں بے نقاب کیا جانا چاہئے ۔ اگر یہ سماج میں عزت کی نظر سے دیکھی جانے والی شخصیتیں ہوں تو بھی پردہ فاش ہونا چاہئے اور کارپوریٹس اگر ہوں تو بھی ان کے اثر و رسوخ کی پرواہ کئے بغیر انہیں منظر عام پر لانا چاہئے ۔
آج ملک کا عام اور غریب آدمی چند سو اور چند ہزار روپئے کیلئے کئی گھنٹوں تک قطار میںکھڑا ہونے پر مجبور ہے اور اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل تک آسانی سے نہیں ہو پا رہی ہے ایسے میں اگر چند مٹھی بھر افراد کے پاس لاکھوں بلکہ کروڑوں روپئے کی دولت پڑی ہوئی ہے اور اس کا کیسا استعمال ہو رہا ہوگا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ حکومت کو ان افراد کے سیاسی ‘ سماجی یا کاروباری رتبہ یا سرکاری عہدہ کا پاس و لحاظ کئے بغیر تحقیقات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ کسی سے کسی طرح کی نرمی برتنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ ملک کے عوام کے سامنے یہ حقیقت لانے کی ضرورت ہے کہ چند مٹھی بھر افراد نے کیسے ناجائز طریقے اختیار کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ روپئے کی دولت جمع کرلی تھی ۔ یہ بھی پتہ چلانے کی ضر ورت ہے کہ آیا ان افراد نے جتنا اعلان کیا ہے حقیقی دولت اتنی ہی ہے یا پھر انہوں نے اس وقت بھی اپنی دولت کا صرف ایک حصہ منظر عام پر لایا ہے ۔ جب تک غیر جانبداری سے تحقیقات نہیں ہونگی حقائق منظر عام پر نہیں آئیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT