Wednesday , September 20 2017
Home / عرب دنیا / لبنان کو ’’ایران کا صوبہ‘‘ نہیں بننے دیں گے: سعد الحریری

لبنان کو ’’ایران کا صوبہ‘‘ نہیں بننے دیں گے: سعد الحریری

حزب اللہ نے قومی مفاد کیخلاف لبنان کو علاقائی جنگوں میں ڈھکیل دیا
بیروت۔ 15 فروری (سیاست ڈاٹ کام) لبنان کے سابق وزیراعظم اور فیوچر موومنٹ کے سربراہ سعد الحریری نے اپنے والد رفیق الحریری(سابق وزیراعظم) کی ہلاکت کے 11 سال مکمل ہونے پر بیروت میں ہونے والی خصوصی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی شرکت کے ذریعہ “مارچ 14 الائنس” میں شامل سیاسی جماعتوں کے بعض ناراض قائدین کو جمع کرنے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بحال کرنے کی کوشش کی۔ سعد الحریری نے اپنی تقریر میں گزشتہ 21 ماہ کے دوران لبنان کو درپیش صورت حال کا وسیع تر جائزہ لیا جس میں صدارتی خلاء نمایاں ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر ’’حزب اللہ‘‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور لبنان میں حالیہ بحرانوں اور صدارتی خلاء کا ذمہ دار قرار دیا۔ سابق وزیراعظم کے نزدیک اس جماعت نے صدارتی بحران کے حل کیلئے کی جانے والی تمام تر کوششوں کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ لبنان میں صدر نہیں چاہتی اور اپنے اکلوتے صدارتی امیدوار کو ترجیح دیتی ہے اور وہ امیدوار ہے ’’خلاء ‘‘ سعد الحریری نے حزب اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’شام کی سرپرستی لبنان سے بڑی مصنوعی شخصیات نہیں تیار کرسکی اور ایران کی رہنمائی بھی اس وطن سے بڑے افراد تیار نہیں کرسکے گی‘‘۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان میں کوئی داخلی فریق “ہتھیار اور دہشت گردی کے ذریعہ جمہوریت پر شب خون مارنے میں کامیاب نہیں ہو گا‘‘۔حزب اللہ کے سکریٹری جنرل (حسن نصر اللہ) کا نام لیے بغیر سعد الحریری ان تمام عناصر سے براہ راست مخاطب ہوئے جنہوں نے اپنے سیاسی اور فرقہ وارانہ مفادات کی خاطر ملک کے مستقبل کو معلق کردیا ہے”۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ “ایسے وقت میں جب کہ ملک صدارتی خلاء سے دوچار ہے ،کسی کو بھی ’’سیاسی عیاشی‘‘ کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔ ان کے خیال میں حسن نصر اللہ نے “غلط نعروں کے تحت غلط جگہوں پر لڑنے کا فیصلہ کیا”۔ حزب اللہ جو کچھ کررہی ہے اس کا جواب دیتے ہوئے سعد الحریری نے باور کرایا کہ “مارچ 14 الائنس” میں شامل تمام تر سیاسی طاقتیں حزب اللہ اور ایران کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتی ہیں۔ اس اتحاد کا کہنا ہے کہ ” ہم سب سے پہلے عرب ہیں اور ہم کسی کو ہر گز یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ لبنان کو سعودی عرب اور اس کے برادر عربوں کی دشمنی کی بساط میں گھسیٹے”۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان “کسی صورت بھی ایران کی بالادستی قبول نہیں کرے ہو گا”۔

TOPPOPULARRECENT