Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / لشکر طیبہ کا مبینہ کارندہ منسوب الزامات سے بری ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں دہلی پولیس ناکام

لشکر طیبہ کا مبینہ کارندہ منسوب الزامات سے بری ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں دہلی پولیس ناکام

نئی دہلی۔6 جون (سیاست ڈاٹ کام) لشکر طیبہ کے ایک مشتبہ کارندے جس پر ہند۔پاک سرحد سے ملک میں عسکریت پسندوں دراندازی ہے انعانت کا الزام ہے ، ایک عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کردیا۔ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پایا جاتا۔ ایڈیشنل سیشن جج رتیش سنگھ نے اترپردیش کے متوطن عرفان احمد کو ایک بڑی راحت فراہم کردی جس پر لشکر طیبہ کے مبینہ بم ساز عبدالکریم تونڈا کے قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد تھا۔ عدالت نے یہ نشاندہی کی جبکہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے محض اسلحہ وگولہ بارود کے ایک اور کیس میں گرفتار ملزمین کے انکشاف کی بنیاد پر عرفان احمد کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا ہے جو کہ قاتون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہوسکتے جبکہ استغاثہ بھی ٹھوس ثبوت (میٹرئیل) پیش کرنے سے قاصر رہا۔ جس کی بناء ملزم عرفان احمد کو بری کردیا گیا۔ 51 سالہ عرفان مختلف تخریبی کیسوں میں ملزم تھا۔ 1999 ء میں دہلی کی عدالت نے ایک کیس میں اسے قصور قرار دیا گیا تھا اور عرفان کو گزشتہ سال آبائی مقام سے اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ نیپال کی جیل سے فرار ہوکر پہنچا تھا جس پر عسکریت پسندوں کے تربیتی کیمپ اور فنڈس فراہم کرنے میں اعانت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے یہ بھی ادعا کیا تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کو ہندوستان میں داخل ہونے میں رہنمائی کی تھی جبکہ 6 ڈسمبر 1993 ء کو دہلی ہوڑہ راجدھانی ایکسپریس میں بم نصب کیا تھا اور اس کیس میں پیرول پر رہائی کے بعد نیپال فرار ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT