Wednesday , August 23 2017

لطائف

٭ ایک صاحب نے اپنے دوست سے کہا تم کہہ رہے تھے کہ بلی کو کہیں جنگل میں چھوڑ آؤ گے ۔ یہ تو یہیں نظر آرہی ہے ۔ دوست نے جواب دیا ہاں میں اسے چھوڑتو آیا تھا مگر میں ہی راستے بھول گیا اور گھر واپس آنے کیلئے اس کا پیچھا کرنا پڑا ۔
٭دروازے کی سیڑھیوں پر ایک بچہ بیٹھا دیکھ کر سیلزمین نے پوچھا تمہاری امی گھر پر ہیں ۔ ہاں ، بچے نے فرمابرداری سے کہا سیلزمین دیر تک دروازہ کھٹکھٹاتا رہا مگر کوئی باہر نہیں آیا ۔ سیلزمین نے غصے سے بچے کی طرف دیکھا اور کہا تم تو کہہ رہے تھے کہ تمہاری امی گھر پر ہیں ۔ ہاں میری امی گھر پر ہی ہیں لیکن یہ گھر میرا نہیں ہے بچے نے معصومیت سے جواب دیا ۔
٭وکیل ( اپنے موکل سے ) اچھا تو تم مجھے اپنا وکیل مقرر کرنا چاہتے ہو ۔ کتنی فیس دوگے ؟۔موکل : میرے پاس ایک خچر ، چند مرغیاں اور دو بھیڑیں ہیں وہ آپ کی نذر کردوں گا ۔ وکیل ، کافی ہے ۔ اچھا یہ بتاؤ تم پر الزام کن چیزوں کی چوری کا لگایا گیا ہے ۔ موکل ، صرف ایک خچر ، چند مرغیاں اور دو بھیڑوں کی چوری کا ۔
٭دو آدمی لڑ رہے تھے ایک کہنے لگا میں نے آپ کو شریف آدمی سمجھا تھا ۔ دوسرا آدمی میں نے بھی آپ کو بہت شریف آدمی سمجھا تھا ۔ پہلا آدمی آپ تو درست سمجھے تھے ۔ غلطی پر میں ہی تھا ۔
٭ ایک سیاح ریگستان سے گذر رہا تھا ۔ اس نے ایک جگہ ایک شخص کو گردن تک ریت میں دھنسے ہوئے دیکھا ۔ کہنے لگا ۔ فکر نہ کرو میں ابھی تم کو ریت ہٹا کر نکالتا ہوں ۔ ٹرسکٹر لانا پڑے گا ۔ میں اپنے اونٹ پر بیٹھا ہوں ، دوسرے شخص نے کہا ۔
٭ایک دوست دوسرے دوست سے ، مجھے انگلش کے استاد بہت پسند ہیں ۔ دوسرا دوست وہ کیوں ؟پہلا دوست کلاس میں داخل ہوتے ہی وہ مجھے کلاس سے باہر نکال دیتے ہیں ۔
٭استاد ( شاگرد سے ) فلاسفر کے معنی بتاؤ ، شاگرد : جناب فلاں شہر میں سفر کرنے والے کو فلاسفر کہتے ہیں
٭مہمان اپنے دوست کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اپنے میزبان کا انتظار کر رہا تھا ۔ اس کے میزبان دوست کا بیٹا آیا اور اس سے باتیں کرنے لگا ۔ اچانک چھت کے اوپر شور ہونے لگا ۔ مہمان نے حیرت سے پوچھا یہ چھت پر شور کیسا ہے ۔ بچہ بولا ۔ کوئی خاص بات نہیں ہوسکتا ہے مما ، ابو کے کپڑؤں کو فرش پر پٹخ رہی ہوں ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ مہمان بوالا لیکن کپڑے پٹخنے سے اتنا شور تو نہیں ہوگا ۔ بچہ سنجیدگی سے بولا ۔ ہوسکتا ہے کپڑوں کو ابو نے پہن رکھا ہو ۔

TOPPOPULARRECENT