Thursday , August 17 2017

لطائف

٭ڈاکو نے ایک آدمی کو پستول دکھاکر کہا ’’ جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے جلدی سے میرے حوالے کردو۔‘‘ آدمی نے ڈر سے کانپتے ہوئے کہا ’’ میں بہت غریب آدمی ہوںمیرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ ڈاکو نے کہا ’’ تم مجھ سے زیادہ غریب نہیں ہوگے۔ میں تو خالی پستول لے کر گھومتا ہوں، میرے پاس گولی خریدنے کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں۔‘‘
٭باپ ( بیٹے سے ) کیا تمہارے سالانہ امتحان ختم ہوگئے ؟ بیٹا : رزلت بھی نکل آیا۔باپ: مجھے بتایا کیوں نہیں۔بیٹا : اس لئے کہ کسی نئی کتاب کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
٭ مالک نے نوکر سے کہا ’ ’ اس قدر مہنگائی ہورہی ہے اور تم نے پراٹھے میں اتنا زیادہ گھی ڈالا ہے۔ نوکر نے ہچکچاتے ہوئے کہا ’’ معاف کیجئے گا مالک ، غلطی سے میرا پراٹھا آپ کے پاس آگیا۔‘‘
٭ بیٹے نے ماں سے کہا ’’ آج میں نے دعوت میں اتنا کھانا کھایا کہ مجھ سے چلا بھی نہیں گیا، رکشہ کرکے گھر آیا ہوں۔ ماں : ’’ تمہیں شرم آنی چاہئے کیونکہ تمہارے ابو جب دعوت میں جاتے تھے تو لوگ انہیں چار پائی پر ڈال کر گھر لاتے تھے۔‘‘
٭ایک میڈیکل کالج کے پروفیسر صاحب نے ایک جیب میں مینڈک رکھا اور دوسری جیب میں سینڈوِچ اور فیصلہ کیا کہ سینڈوچ راستہ میں کھائیں گے اور مینڈک کا پریکٹیکل کرائیں گے۔پروفیسر صاحب راستے میں جیب سے سینڈوچ نکال کر کھاتے رہے اور جب کلاس روم میں جاکر دوسری جیب سے مینڈک نکال کر میز پر رکھا تو حیران ہوکر بڑبڑائے ’’مینڈک کہاں گیا، میز پر تو سینڈوچ پڑا ہے‘‘۔
٭ مالک مکان (چور کو پکڑ کر ) : بہتری اسی میں ہے کہ تم سارا سامان یہیں چھوڑ کر بھاگ جاؤ۔چور: جناب! یہ کیسے ہوسکتا ہے، آدھا سامان تو آپ کے ہمسایوں کا ہے!

TOPPOPULARRECENT