Friday , October 20 2017

لطائف

٭٭  ایک مقدمے میں بحث کے دوران دو وکیلوں نے لڑنا شروع کردیا۔ ایک بولا ’’دنیا میں تم جیسا بے وقوف کوئی نہ ہوگا‘‘۔
دوسرے نے طیش میں آ کر کہا : ’’اور تم جیسا بے وقوف اور گھٹیا انسان بھی اور کوئی نہ ہوگا ‘‘۔
یہ سن کر جج نے کہا : ’’آرڈر، آرڈر … تمہیں معلوم نہیں کہ یہاں میں بھی موجود ہوں‘‘۔
٭٭ استاد شاگرد سے : سب سے عجیب واقعہ جو تم نے دیکھا ہو بیان کرو۔
شاگرد : میں نے چند لوگوں کو گھوڑا بناتے دیکھا ہے۔
استاد : لکڑی کا گھوڑا …؟
شاگرد : جی نہیں۔ اصلی جیتا جاگتا گھوڑا۔ جب میں نے انھیں دیکھا تو وہ اُس کے کھروں میں کیل ٹھونک رہے تھے۔
٭٭ ڈاکٹر : (بچے سے) بیٹا خالی پیٹ آئے ہو؟
بچہ : نہیں … مار کھا کر آیا ہوں۔
٭٭ دو افیمی شکار کھیلنے گئے۔ ایک افیمی نے ایک مرغابی پر گولی چلائی۔ اس کو گولی نہ لگی اور وہ اڑ گئی۔ یہ دیکھ کر افیمی اپنے ساتھی سے کہنے لگا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے مری ہوئی مرغابی کو اڑتے   دیکھا ہے۔
٭٭ ایک شخص کی کار سے ٹکر ہوگئی اور وہ بچ گیا۔ کار ڈرائیور غصہ سے بولا:
’’اناڑی نہیں ہوں، بیس سال سے گاڑی چلارہا ہوں‘‘۔
راہگیر : ’’آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں، میں بھی پچاس سال سے پیدل چل رہا ہوں‘‘۔
٭٭  باپ نے بیٹے کو سالگرہ کے تحفے میں کتاب دیتے ہوئے کہا : ’’بیٹا میں تمہارے لئے علم کی روشنی لایا ہوں‘‘۔
بیٹا : ’’(معصومیت سے) ابو ! اس کتاب میں بلب تو ہے ہی نہیں، پھر روشنی کیسے ہوگی‘‘۔
٭٭ استاد : (بچوں سے) کون کون جنت میں جانا    چاہتا ہے؟
سب بچوں نے ہاتھ اٹھائے مگر ایک بچے نے ہاتھ نہیں اٹھایا تو استاد نے اس بچے سے پوچھا ۔ کیا تم جنت میں نہیں    جانا چاہتے؟
بچہ : ’’نہیں سر۔ میری امی کہتی ہیں کہ چھٹی کے بعد سیدھے گھر آنا اور کہیں نہ جانا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT