Saturday , May 27 2017
Home / اضلاع کی خبریں / لفٹ اریگیشن پلانٹ کو دانستہ نقصان پہنچانے کی کوشش

لفٹ اریگیشن پلانٹ کو دانستہ نقصان پہنچانے کی کوشش

کلواکرتی میں رکن اسمبلی چلا ومشی چندر ریڈی کا میڈیا  سے خطاب
کلواکرتی۔ 13 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کلواکرتی ایم ایل اے ڈاکٹر چلا ومشی چند ریڈی نے آج گیسٹ ہاؤز میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یتی چوتلہ پراجیکٹ کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور آندھرائی کنٹراکٹرس کو مالی فائدہ پہنچانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایم ایل اے کے مطابق کلواکرتی پتی پوتلہ پراجیکٹ کے ذریعہ کلواکرتی لفٹ اریگیشن کے تحت یہاں کی ایک لاکھ ایکر زمین کو سیراب کیا جانے والا تھا جوکہ سابق چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی کے دور اقتدار میں ترتیب دیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت اور ضلع کے ذمہ دار وزراء دانستہ طور پر کلواکرتی کو پانی کی فراہمی کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ ریاستی چیف منسٹر کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے ذمہ داران پنٹا ریڈی اڈوائزر TS لفٹ اریگیشن اسکیم اور چیف انجینئر PRLIS رنگاریڈی نے صاف طور پر کہا کہ سابقہ نقشہ پر ہی عمل کرتے ہوئے کاموں کو انجام دیا جائے، ورنہ کافی تاخیر اور کثیر رقم کا اسراف ہوگا جبکہ سابق نقشہ کے حساب سے سری سیلم ڈیم سے شمالی جانب پالمور لفٹ اریگیشن کے ذریعہ نرملا پورم ریزروائر کو پانی فراہم کرنا تھا اور دوسری جانب سے جنوبی حصہ سے کلواکرتی لفٹ اریگیشن کے ذریعہ یلوریزروائر کو پانی فراہم کرنا تھا، اس نقشہ کے تحت کنٹراکٹرس کو کام دیا گیا تھا اور اس پر عمل لازمی تھا، لیکن کنٹراکٹرس نے شمالی جانب سے PLI کو پانی فراہم کیلئے راستہ بنانے میں کافی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے KLI کے بازو سے جنوبی جانب سے پانی فراہمی کیلئے راستہ بنانے کے لئے ایک نیا پلان تیار کرتے ہوئے حکومت کو روانہ کیا جس پر حکومت نے ایک کمیٹی بناکر اس پر عمل کیلئے کمیٹی کی منظوری لازمی قرار دی لیکن کمیٹی نے اس پلان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کافی سرمایہ اور کافی تاخیر کے ساتھ ساتھ کلواکرتی لفٹ اریگیشن جوکہ تعمیر ہوچکا ہے، اس کو شدید نقصان ہونے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے اس پلان کو مسترد کردیا تھا، اس کے باوجود یہ کنٹراکٹرس اس کمیٹی کے فیصلہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی جانب سے بنائے گئے پلان پر ہی عمل کررہے جبکہ اس کی اطلاع KLI کے اطراف موجود کسانوں کے ذریعہ ہی عام ہوئی جس پر حکومت سے سوال کیا گیا تھا تو ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی گئی جس پر قانون حق معلومات کے تحت جب میں نے اس کام کی تفصیل مانگی تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی لہذا ہم حکومت اور ضلع انچارج وزراء سے خواہش کرتے ہیں کہ وہ ایسے غلط قدم ہرگز نہ اٹھائے، ورنہ ہم سب کسانوں کے ہمراہ سخ، اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے اور حکومت کے خلاف سخت احتجاج پر اُتر آئیں گے۔ اس موقع پر ایم ایل اے کے ہمراہ چیرمین بلدیہ سری سیلم، منڈل صدر پون کمار ریڈی ٹاؤن صدر، سرینواس ریڈی، عبدالقدیر، محمد عارف و دیگر کئی ایک قائدین موجود تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT