Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / لندن میں خاندانی عزت کیلئے ہندوستانی عورت کا قتل

لندن میں خاندانی عزت کیلئے ہندوستانی عورت کا قتل

عرب مسلم سے تعلقات پر ارکان خاندان کی ناراضگی اصل وجہ

لندن 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک 19 سالہ ہندوستانی نژاد مسلم لڑکی کو ایک عرب مسلم سے معشوقہ پر خاندانی عزت کیلئے ہلاکت کے ایک مشتبہ واقعہ میں اغوا اور عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا گیا۔ ایک برطانوی عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول عورت کو کسی دوسری عورت کیساتھ جبری طور پر جنوب مغربی لندن میں کنگسٹن ۔ تھیمس کے علاقہ کو لایا گیا جہاں اُس کی عصمت ریزی کی گئی اور وہ چہارشنبہ کو فوت ہوگئی۔ روزنامہ مرر نے خبر دی ہیکہ اسکی نعش 15 لاکھ پاؤنڈ مالیتی گھر میں دستیاب ہوئی جب 20 سال سے زائد عمر کی ایک دوسری خاتون نے جس کا گلہ چاقو سے کٹا ہوا تھا، ہاسپٹل سے پولیس کو یہ اطلاع دی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گلے پر ضربات کے سبب اس عورت کی موت ہوئی ہے۔ متوفی لڑکی ایک میک اپ آرٹسٹ بننا چاہتی تھی اور ایک تھرلر فلم کے بناؤ سنگھار سے متعلق شعبہ میں کام کررہی تھی۔ ومبلڈن مجسٹریٹ کی عدالت میں 33 سالہ مجاہد ارشد کو پیش کیا گیا جس پر اس عورت کے اغوا، عصمت ریزی اور قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیخلاف دوسری عورت کے اغوا، عصمت ریزی اور اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ استغاثہ بنیٹا راسکو نے کہاکہ ’’متوفی عورت کے ایک عرب مسلمان کیساتھ تعلقات تھے اور اسکے خاندان کو یہ تعلقات اسلئے پسند نہیں تھے کہ وہ (عورت) ہندوستانی مسلم ہے‘‘۔ استغاثہ نے کہاکہ دو افراد 19 جولائی کو اس گھر میں داخل ہوئے تھے جہاں واردات پیش آئی۔ بنیٹا روسکو نے کہاکہ مجاہد ارشد کیساتھ 28 سالہ انسٹنٹ پٹو بھی تھا۔ اس عورت کے منہ پر ٹیپ چسپاں کردیا گیا تھا۔ ہاتھ کیبل وائر سے باندھ دیئے گئے تھے۔ اسکے حلق میں پاتابہ (جراب) ٹھونس دیا گیا تھا۔ دوسری عورت جو حمام میں تھی اس عورت کی چیخوں کی آواز سنی تھی۔ ارشد کے علاوہ ٹپو کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

انٹونیو گوٹیرس نے کابل اور لاہور دھماکوں کی مذمت کی
اقوام متحدہ ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے کابل اور لاہو ر میں ہوئے دھماکوں کی شدید مذمت کی اور خاطیوں کو جلد سے جلد گرفتار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کابل میں کئے گئے دھماکوں کو ہیبت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو قصداً نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون انسانی کے بھی مغائر ہے۔
جسے جنگی جرم سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔ یاد رہیکہ کل کابل میں طالبان کے ذریعہ کئے گئے ایک کار بم دھماکہ میں ایک بس کو نشانہ بنایا گیا جس میں سرکاری عہدیدار سوار تھے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس میں 26 افراد ہلاک اور 41 دیگر زخمی ہوگئے۔گوٹیرس نے پاکستان کے شہر لاہور میں کئے گئے دھماکوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کی عاجلانہ گرفتاری کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جس طرح دہشت گردی سے نمٹنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے ضوابط پر عمل پیرا رہتے ہوئے جواقدامات کررہا ہے وہ (گوٹیرس) اس کی تائید کرتے ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT