Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / لندن میں پہلی مرتبہ مسلم میئر کا انتخاب متوقع

لندن میں پہلی مرتبہ مسلم میئر کا انتخاب متوقع

حریف لیڈر مودی کارڈ استعمال کرکے ہندوؤں کو رجھانے کوشاں
لندن 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی نژاد صادق خان لندن کے نئے میئر منتخب ہوسکتے ہیں۔ ان کے حریف کنزرویٹو لیڈر زیاک گولڈ اسمتھ نے وزیراعظم ہند نریندر مودی کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ہندوؤں اور سکھ رائے دہندوں کو رجھانے کی کوشش کی۔ میئر کے عہدہ کے لئے جمعرات کے دن انگلینڈ میں رائے دہی ہوئی۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ اور والس کو بھی میئرس منتخب کرنا ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستیں پُر کرنی ہیں۔ لندن کی میئرشپ کے لئے انتخابی مقابلہ سخت ترین رہا۔ اس میں اعلیٰ سطحی امیدواروں نے حصہ لیا ہے۔ نتائج کے تعلق سے تمام اشارے یہ مل رہے ہیں کہ 45 سالہ پاکستانی نژاد سابق انسانی حقوق کے وکیل اور 2005 ء سے لیبر پارٹی کے ایم پی رہے صادق خان کامیاب بن کر اُبھریں گے۔ اس کے ساتھ ہی سابق بس ڈرائیور کے فرزند کو یوروپ کی سب سے طاقتور مسلم سیاسی شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ صادق خان 2009 ء میں اس وقت کے وزیراعظم گواؤن براونس کی حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ رہے ہیں۔

وہ پہلے مسلم وزیر تھے جو کابینی اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔ انھوں نے سالیسٹر سعدیہ احمد سے شادی کی تھی اور ان کی دو لڑکیاں ہیں۔ صادق خان کو اپنی برطانوی وابستگی پر فخر ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ میں ایک اسلامی عقیدہ پر قائم رہنے والا پابند صوم و صلوٰۃ مسلم ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں لندن کا شہری، یوروپی اور برطانوی وطنیت کے ساتھ انگلش میان ہوں۔ ایشیائی نژاد کے ساتھ پاکستانی میراث میرا وطیرہ ہے۔ میں اپنے بچوں کا شفیق باپ ہوں اور ایک اچھا شوہر بھی ہوں۔ صادق خان کے دادا دادی 1947 ء میں تقسیم ہند کے بعد پھوٹ پڑنے والی خون ریزی کے دوران برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ لیبر پارٹی کے میئر امیدوار صادق خان نے جنوبی لندن کے ایسٹرٹھم میں مقامی پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالا جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی اہلیہ کے ساتھ سانستھا میں ووٹ ڈالا۔ صادق خان اگر منتخب ہوتے ہیں تو وہ یورس جائسن کے لندن کے میئر کی حیثیت سے جائزہ لیں گے۔ خان نے لندن میں اپنی جدوجہد اور ورکنگ کلاسیس سے نکل کر لندن کونسل تک پہونچنے کے سفر کو بھی جذباتی انداز سے بیان کیا ہے البتہ ان کے حریف امیدوار گولڈ اسمتھ نے مودی کا حوالہ دے کر ہندو اور سکھ ووٹرس کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی ہے لیکن کامیابی صرف صادق خان کے حصہ میں آنے کا قوی امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT