Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / لندن کی مسجد اور مرکز اسلامی میں آتشزنی

لندن کی مسجد اور مرکز اسلامی میں آتشزنی

گریٹر مانچسٹر پولیس مشتبہ واقعہ کی تحقیقات میں مصروف
لندن۔17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ مانچسٹر کی ایک مسجد کو آتشزنی کے ایک مشتبہ واقعہ شدید نقصان پہونچا ہے۔ شمالی انگلینڈ میں ڈروسلڈن روڈ پر واقع مانچسٹر اسلامک سنٹر میں پیش آئے آتشزنی کے بارے میں گریٹر مانچسٹر پولیس نے کہا کہ وہ مشتبہ اور مشکوک واقعہ کے طور پر اس تحقیقات کررہی ہے۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم پانچ پمپس جائے واقعہ پر روانہ کرچکے ہیں اور اب تحقیقات جاری ہیں۔ ہم اس کو مشتبہ واقعہ تصور کرتے ہیں اور گرٹر مانچٹسر پولیس اور گریٹر مانچسٹر فائر اینڈ ریسکیو سرویسس کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کی جارہی ہیں۔ نائجیریائی نصراللہی فتحی سوسائٹی (ناصفیٹ) نے 2009ء کے دوران مانچسٹر میں یہ مسجد اور ایک اسلامی مرکز قائم کیا تھا اور اس کے 300 ارکان ہیں۔ اس مسجد کے ترجمان شمس الدین رولادمیجر نے کہا کہ ’’اس (مسجد) کو بھاری نقصان پونچا ہے اور پولیس ہمیں اندر جانے سے روک رہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا۔ ہم اچھے پڑوسی رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم اپنی مقامی برادری کے ساتھ مل جل رہنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔‘‘ اسلامی مرکز کی سکریٹری منصورہ ادیبجانو، اریمو نے مانسٹر یوننگ نیوز سے کہا کہ گزشتہ روز کی آتشزنی رواں سال کے دوران بیان پیش آنے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے باہر بعض افراد نے پیشاب بھی کیا تھا۔ اس سے پہلے اس مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران حنزیروں کے دو سر ڈالے گئے تھے۔ 2014ء کے دوران آتشزنی حملے میں مسجد کی ایک منی بس تباہ ہوگئی تھی۔ تازہ ترین حملے کی تصویروں میں واحد منزلہ عمارت کے چھت سے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے وقت مسجد میں کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔

 

TOPPOPULARRECENT