Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / لندن کے ائمہ کا قابل ستائش اقدام

لندن کے ائمہ کا قابل ستائش اقدام

 

غضنفر علی خان
گزشتہ ہفتہ لندن کے مصروف علاقہ میں دہشت گردوں کا جو حملہ ہوا جس میں انسانی جانوں کی ہلاکت ہوئی اتنا ہی قابل مذمت واقعہ ہے جتنا کہ کسی اور شہر میں اس طرح کی ہلاکتوںکا واقعہ ہوسکتا ہے ۔ لندن کی اس واردات میں تمام حملہ آور مارے گئے ، وہ سب اپنے نام سے مسلمان تھے لیکن اپنے عمل سے اپنے اقدام سے اسلام دشمن تھے ۔ ان مہلوکین کی نماز جنازہ پڑھانے سے لندن جیسے شہر کی مساجد کے ائمہ نے انکار کردیا ۔ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ شخص یا وہ گروہ مسلمان ہی نہیں ہوسکتا جو کسی معصوم کا قتل عبث کرے ۔ اسلامی تعلیمات میں بے حد واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ ایک فردکی جان لینا ساری کائنات کی جان لینے اور ایک شخص کی جان بچانا سارے عالم کی جان بچانے کے مماثل ہے ۔ اب اس میزان پر کوئی دہشت گرد کسی بھی مقام پر ہلاکت خیز حملہ کرتا ہے تو وہ قاتل ہے، وہ ایک یا اس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے، وہ نہ غازی ہے اور نہ سپاہی ہے ، وہ محض قاتل ہے اور قتل کی سزا اسلامی قانون کے مطابق موت ہے ۔ لندن واقعہ کے قاتلوں کو تو وہاں کے سیکوریٹی کے لوگوں نے ہلاک کردیا ، یہیں حساب کتاب برابر ہوگیا ۔ رہا سوال ان قاتلوں کی نماز جنازہ کا تو یہ ایک نازک مسئلہ ہے۔ لندن شہر کے ائمہ نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا کہ ان کی نماز جنازہ نہ تو وہ پڑھیں گے اور نہ امامت کریں گے ۔ یہ ایک دانشمندانہ اورحکیمانہ فیصلہ ہے۔ موت کے بعد ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے ۔ ہر عام آدمی کیلئے خواہ وہ کسی ملک کا ہو مغفرت کی دعا کی جاتی ہے لیکن ان مہلوکین کے لئے ایسا کوئی عمل نہیں ہوسکتا کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اسلام کے عین برعکس ہے۔ ہمارا مذہب بنی نوع آدم کی فلاح کیلئے ہے اس میں خون خرابہ یا ایسی کوئی حرکت کو جائز نہیں سمجھا جاسکتا جس سے انسانیت کو کوئی گزند پہنچے ۔ اس طرح لندن ، پیرس یا کسی اور مقام پر دھماکہ کر کے معصوم اور بے قصور انسانوں کو ہلاک کرنے والے کبھی اسلام کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ یہ تو وہ گروہ ہے جو مذہب اسلام کی رسوائی کا باعث بن رہا ہے ۔ خواہ وہ شام ، عراق کا داعش گروہ ہو یا افغانستان کا طالبان یا پھر القاعدہ کا کوئی رکن ہو اگر اس نے اسلامی روایات و تعلیمات کے مغائر کوئی کام کیا تو وہ کسی قسم کے رحم و کرم کا مستحق نہیں ہے ۔ پشاور کے اسکول کے طلبہ کا قتل عام ہوا تو انسانیت اتنی ہی مغموم اور دل گرفتہ ہوجاتی ہے جتنی پیرس یا لندن کے دہشت گردوں کے حملہ کے مہلوکین کی ہلاکت پر ہوتی ہے ۔ ایسا سوچنا یکلخت غلط ہے کہ کسی جگہ پر ہوئے حملہ کے مہلوکین زیادہ ہمدردی کے حقدار تھے اور کسی اور جگہ کے مہلوکین کم تر ہمدردی کے مستحق ہیں۔ انسانی خون کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے ۔ انسان کی ہلاکت کے اثرات ہر علاقہ ،ہر شہر، ہر براعظم میں یکساں ہوتے ہیں، ان اثرات میں وہی سب کچھ دیکھا جاتا ہے جو ہر جگہ دیکھا جاتا ہے ۔ کسی کی موت کسی نہ کسی بچے کو یتیم ، کسی نہ کسی خاتون کو بیوہ ، کسی نہ کسی ماں کو خون کے آنسو رولاتی ہے۔ لندن کے مہلوکین کے ورثاء پر وہی سب کچھ بیتا ہوگا جو کسی اور جگہ دہشت گردوں کے حملوں کی صورت میں بیتا ہے ۔ کسی واقعہ کے تجزیہ میں کوئی نئی بات نہیں معلوم ہوتی لیکن

ایک بات طئے ہے کہ قتل و غارتگری کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ ان کا تعلق کسی ملک یا کسی تنظیم سے ہو، وہ انسانیت کے ملزم ہے اور ملزم کو سزا کے علاوہ اور کچھ نہیں دیاجاسکتا ۔ یہ لوگ جو اسلام کے نام پر خون خرابہ کرتے ہیں، وہ تو خاص طور پر سزا کے مستحق ہیں۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے محسن انسانیت کی تعلیمات قرآنی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایسے مذہب کو ساری دنیا میں رسوا کیا جو سراپا پیام محبت ہے، جس مذہب میں کہا گیا کہ ’’ہم نے انسان کو بہترین نمونہ پر پیدا کیا ‘‘ جس کے بانی نے ہر وقت صلہ رحمی سے کام لیا ، جس نے بدترین دشمنوں کو فراخدلی سے معاف فرمایا یہ دہشت گرد ان پاکیزہ تعلیمات سے بہت دور ہیں، انہیں اسلام کی کوئی سمجھ نہیں ہے اور نہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے ۔ آج ان کی وجہ سے دین اسلام رسوا ہورہا ہے تو یہ ہماری پنی ذمہ داری ہے کہ ان عناصر کی سخت مذمت کریں ۔ ان کی ہر حرکت پر تنقید کریں اور ایسا اس لئے نہ کریں کہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس یا یوروپ کا کوئی ملک ایسا کرنے کا تقاضہ کر رہا ہے بلکہ اس لئے کریں کہ اس دین کی نیک نامی متاثر نہ ہو۔ ان قاتلوں کو تمام مسلم ممالک کوئی پناہ نہ دیں، ان کے کسی ہلاکت خیز اقدام کی کھل کر مذمت کریں۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ آیا ہم مٹھی بھر دہشت گردوں کی تعریف ، تائید کرتے ہیں یا ان کو اسلام دشمن قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسلام کی رسوائی ہورہی ہے ۔ عالمی سطح پر مسلمان دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہیں۔ دنیا کو تمدن اور صحیح عقیدہ سے ہم نے متعارف کروایا ۔ ہمارا نظام حکومت ہماری بردباری ، ہماری شان و شوکت ، ہمارا عدل و انصاف تاریخ انسانیت کے روشن باب میں دنیا بھر میں ہمارے عقیدہ کے ماننے والے بستے ہیں، پچھلے چند برسوں سے چند راہ گمراہ افراد اسلام کے نام کا استحصال کر رہے ہیں ۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ کوئی دہشت گرد مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ وہ صرف انتہا پسند اور دہشت گردی ہی ہے ۔ اس کا نہ تو عقیدہ ہوتا ہے اور نہ کوئی وطن ہوتا ہے ۔ اس کی کوئی شناخت نہیں ہوتی ۔ اس لئے یہ کہنا کہ ’’ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہے‘‘ ۔ غلط اور گمراہ کن خیال ہے کیونکہ دہشت اور انتہا پسندی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ، یہ تو دلوں کو جوڑنے عقائد کو درست کرنے اور عالم انسانیت میں عدل و انصاف پیدا کرنے کیلئے آیا اور یہ سب کچھ انجام بھی دیا ہے ۔ کبھی زمانہ قدیم میں اسلام کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا گیا تھا پھر آج کیوں ہر قسم کی دہشت پسندی کو اسلام سے مربوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لندن کی مساجد کے ائمہ نے مہلوک دہشت گردوں کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کا فیصلہ کر کے ساری دنیا اور عالم اسلام کو پیام دیا ہے کہ دہشت گرد کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا اور اپنی موت کے بعد بھی وہ اسلام کی برکات سے بہرور نہیں ہوسکتا ہے ۔ وہ کسی ہمدردی کا حقدار نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT