Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ’لوجہاد ‘کی بی جے پی مہم بے اثر ثابت ہوئی

’لوجہاد ‘کی بی جے پی مہم بے اثر ثابت ہوئی

اجتماعی عصمت ریزی کی جھوٹی تشہیر ، گھر والوں کو بی جے پی لیڈرس کی رقمی امداد
میرٹھ ۔16 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سہارنپور میں گزشتہ سال جولائی میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ’’لو جہاد ‘‘ کا مبینہ طورپر ایک واقعہ منظرعام پر آیا تھا ۔ 22 سالہ ہندو ٹیچر نے جو ایک مدرسہ سے وابستہ تھی ، اُس کا 10 افراد پر مشتمل ٹولی نے اغواء کرلیا اور اجتماعی عصمت ریزی کی ۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اُسے اسلام قبول کرنے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ بی جے پی قائدین بالخصوص گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے کو کافی اُچھالا اور ہر وقت یہی مثال دیا کرتے تھے ۔ اُن کا یہ کہنا تھا کہ ایسے جبری مذہبی تبدیلی کے بیشمار واقعات ہیں جہاں مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو پھنساکر اُن سے تعلقات استوار کرتے ہیں اور مذہب تبدیل کرنے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ یہ خاتون تقریباً ایک سال ناری نکیتن میں رہنے کے بعد کل اپنے مسلمان عاشق کے گھر چلی گئی ۔ اس سے بی جے پی قائدین کی جھوٹ بیانی واضح ہوگئی ہے ۔ اس نوجوان خاتون نے کہا کہ مختلف سیاسی قائدین جیسے بی جے پی کے ونیت اگروال نے انھیں اور ارکان خاندان کو رقم کی پیشکش کی ۔ جس وقت عصمت ریزی کا یہ مقدمہ چل رہا تھا ، اُن کے گھر والوں کو رقم برابر ملتی رہی، لیکن جیسے ہی ارکان خاندان کو رقم ملنی بند ہوگئی تب گھر والوں نے اپنا موقف بدل دیا اور اُس (خاتون ) کے خلاف ہوگئے ۔ اس 22 سالہ ٹیچر نے کہاکہ پولیس کو اس نے سچائی بتائی اور حقائق کو پیش کیا ۔ ڈسٹرکٹ پروبیشن آفیسر پشپندر سنگھ نے کہاکہ 15 اکٹوبر کو مبینہ طورپر اجتماعی عصمت ریزی میں بچ جانے والی کو آلہ آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا ، جہاں اُس نے بتایا کہ وہ مسلم نوجوان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔ عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ چونکہ وہ بالغ ہے لہذا اُسے اپنی مرضی سے انتخاب کی آزادی حاصل ہے ۔ اس طرح عدالت نے 22 سالہ اس ہندو ٹیچر کو مسلم نوجوان کے ساتھ رہنے کی اجازت دیدی ۔ جب یہ واقعہ منظرعام پر آیا ، اُس وقت یہ الزامات عائد کئے گئے تھے کہ مظفرنگر کے مدرسہ میں اس خاتون کو محروس رکھا گیا ہے اور اُس کی عصمت ریزی کی گئی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان مدرسوں میں دیگر کئی لڑکیوں کو بھی اسی طرح محروس رکھتے ہوئے انھیں مذہبی تبدیلی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ اس خاتون کے وکیل کرشنا کمار نے بتایا کہ جن 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا وہ سب ضمانت پر ہیںاور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب کو کلین چٹ ملے گی اور یہ مقدمہ بند کردیا جائے گا ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ سے جب تازہ صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہاکہ اُنھیں اس کی اطلاع نہیں ہے اور وہ تمام تفصیلات ملنے کے بعد ہی تبصرہ کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT