Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / لوک ایوکتہ میں اردو کتابوں کا رسم اجراء خوش آئند : جناب زاہد علی خان

لوک ایوکتہ میں اردو کتابوں کا رسم اجراء خوش آئند : جناب زاہد علی خان

اردو زبان سے میرے خاندان کا قریبی تعلق: جسٹس سبھاش ریڈی، جسٹس ای اسماعیل کی خدمات کو خراج تحسین
حیدرآباد۔19اگست(سیاست نیوز) صدرنشین لوک ایوکتہ تلنگانہ و آندھرا جسٹس بی سبھاش ریڈی نے کہاکہ اُردو زبان سے ان کا قریبی تعلق ہے ان کے دادا اور والد اُردو داں تھے جبکہ انہیںاُردو پڑھنے کا موقع نہیںملا۔ انہوں نے کہاکہ اُردو کتابوں کی اشاعت کم ہوتی جارہی ہے اور ان حالات میںدوکتابوں کی رسم اجرائی ایک بڑا کام ہے ۔ وہ آج یہا ں لوک ایوکتہ میں جسٹس ای اسماعیل پر لکھی گئی کتاب کی رسم اجرائی تقریب سے خطاب کررہے تھے جبکہ دوسری کتاب شام سحر کی رسم اجرائی ایڈیٹر جناب زاہد علی خان کے ہاتھوں عمل میںآئی۔ جسٹس سبھاش ریڈی نے مزید کہاکہ جسٹس ای اسماعیل کی شخصیت قابل احترام ہے ۔انہو ںنے کہاکہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جسٹس ای اسماعیل پر لکھی ہوئی کتاب کی رسم اجرائی کا انہیںموقع ملا ہے ۔ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جنا ب زاہد علی خان نے لو ک ایوکتہ میںاُردو کتابو ںکی رسم اجرائی کو خوش آئند اقدام قراردیتے ہوئے کہاکہ مستقبل میںبھی اُردو کے متعلق تقاریب کا لوک ایوکتہ میںانعقاد اُردو کی ترقی وترویج کے لئے چلائی جارہی تحریکات کو جلا بخشے گا۔انہوں نے جسٹس سبھاش ریڈی کی ستائش کی او رکہاکہ وہ گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار شخصیت ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے جسٹس ای اسماعیل احمد کی بھی ستائش کی او رانہیںملت کی ہمدرد اور فرض شناس شخصیت بھی قراردیا۔جناب جسٹس ا ی اسماعیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین تقریب جناب افتخار حسین او رخواجہ کمال الدین کا شکریہ ادا کیا اور دونوں کتابوں کے مصنف پروفیسر مقبول فاروقی کی بھی ستائش کی ۔ جناب جسٹس ای اسماعیل نے کہاکہ صدرنشین لوک ایوکتہ سے وہ 1965سے واقف ہیںاو ران کے ساتھ پانچ سالوں تک ہیومن رائٹ کمیشن میں کام کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ پروفیسر مقبول فاروقی نے کہاکہ وہ جسٹس ای اسماعیل کی شخصیت سے کافی متاثر ہیںاو رانہیںوشاکھاپٹنم سے واقف ہیں۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ ای اسماعیل پر کتاب لکھنے کا رحجان ان کے بھائی مسعود فاروقی ایڈوکٹ سے ملا ۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس ای اسماعیل کی سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔جسٹس ای اسماعیل ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ او رسیشن جج کے علاوہ ریٹائرڈ چیرمن سنٹرل انڈسٹریل ‘ سابق رکن اے پی ہیومن رائٹس کمیشن کے علاوہ دیگر شعبوں سے وابستہ رہے ہیں۔ عوام کی کثیرتعداد نے اس تقریب میںشرکت کی جبکہ لاء کی طالب علم آمینہ سحر نے کاروائی چلائی ۔

TOPPOPULARRECENT