Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / لوک ایوکت اترپردیش کے تقرر پر تنازعہ برقرار راج بھون سے پانچویں مرتبہ سفارش کی فائیل واپس

لوک ایوکت اترپردیش کے تقرر پر تنازعہ برقرار راج بھون سے پانچویں مرتبہ سفارش کی فائیل واپس

لکھنو ۔ 25 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : لوک ایوکت کے تقرر پر گورنر اترپردیش رام نائک اور ریاستی حکومت کے درمیان رسہ کشی آج اس وقت نیا موڑ اختیار کر گئی جب راج بھون نے پانچویں مرتبہ ریٹائرڈ جسٹس رویندرا سنگھ کے نام کی سفارش سے متعلق فائل واپس کردی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گورنر نے اس مسئلہ پر اکھلیش یادو حکومت کو جواب دینے کے لیے گذشتہ دو یوم سے ماہرین قانون سے مشاورت کی اور ریاستی حکومت کو آج صبح یہ فائل واپس کردی ۔ پانچویں مرتبہ فائل کی واپسی کے لیے وجوہات اور استدلال کے بارے میں فی الفور معلوم نہیں ہوسکا ۔ گذشتہ مرتبہ فائل واپس کرتے ہوئے گورنر نے کہا تھا کہ لوک ایوکت کے لیے جس نام کی سفارش کی گئی ہے اسے سلیکشن کمیٹی میں منظوری کے بغیر روانہ کی گئی ہے ۔ گورنر کا یہ نقطہ نظر ہے کہ لوک ایوکت کے تقرر کا مسئلہ جلد از جلد حل کرلیا جائے جب کہ حکومت کی یہ رائے ہے کہ چونکہ ریاستی کابینہ میں جسٹس رویندر سنگھ کے نام کی منظوری دیدی گئی ہے ۔ لہذا راج بھون کو اس کی توثیق کردینی چاہئے ۔ اپنے تازہ جواب میں گورنر نے کہا کہ لوک ایوکت کے انتخابات کے لیے چیف منسٹر اور اپوزیشن لیڈر پر مشتمل صرف 2 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس نے پہلے ہی اپنا اجلاس منعقد کرلیا ہے ۔ تاہم حکومت کا یہ استدلال ہے کہ جہاں تک چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ کا رول ہے سلیکشن کمیٹی نے رسمی طور پر مشاورت کی گئی ہے ۔ حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ اگرچیکہ چیف منسٹر سے مشاورت کی گئی ہے لیکن حکومت ان کے مشورہ اور رائے کی پابند نہیں ہے تاہم اپوزیشن لیڈر اور سلیکشن کمیٹی کے رکن سوامی پرساد موریہ کا یہ اصرار ہے کہ لوک ایوکت کے انتخاب پر تمام تینوں ارکان کا اتفاق رائے ضروری ہے۔۔

TOPPOPULARRECENT