Monday , September 25 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا سے اپوزیشن پارٹیوں کا واک آوٹ

لوک سبھا سے اپوزیشن پارٹیوں کا واک آوٹ

مانسوں اجلاس کے آخری دن بھی سشما سوراج کا تنازعہ برقرار

نئی دہلی ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اپوزیشن جماعتوں کے متعدد ارکان نے آج لوک سبھا میں متفرق مسائل بشمول مرکزی وزیر سشما سوراج اور دو چیف منسٹرس کے خلاف للت مودی اور ویاپم تنازعہ سے متعلق الزامات پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ مانسون اجلاس کے آخری دن کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے ارکان کو مطلع کیا کہ انہوں نے کانگریس ، سی پی ایم ، ترنمول کانگریس ، ایس پی اور آر جے ڈی ارکان کی پیش کردہ تحریکات التواء کو مسترد کردیا ہے لیکن وہ یہ مسائل بعد ازاں اٹھانے کے لیے آزاد ہیں ۔ جس کے ساتھ ہی کانگریس ارکان نے پلے کارڈس تھامے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے بلند کرنے لگے ۔ اس احتجاج میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہوگئے ۔ اس وقت ایوان میں وقفہ صفر جاری تھا ۔

لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے نے یہ ادعا کیا کہ وزیر خارجہ سوراج نے ان 7 سوالات کا جواب نہیں دیا جو کہ للت مودی تنازعہ پر کل بحث کے دوران انہوں نے اٹھائے تھے ۔ کانگریس ارکان نے نعرے بلند کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ فی الفور لوک سبھا میں آکر سشما سوراج اور چیف منسٹرس مدھیہ پردیش اور راجستھان شیوراج سنگھ چوہان اور وسندھرا راجے کے خلاف الزامات پر وضاحت پیش کریں ۔ ایوان میں تقریبا دیڑھ گھنٹے تک نعرہ بازی کے بعد کانگریس ارکان نے لیفٹ اور ٹی ایم سی کے ساتھیوں کے ہمراہ ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو اور آر جے ڈی رکن جے پی این یادو بظاہر ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی رپورٹ کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ لیکن اسپیکر نے ان کی نوٹس کو بھی نا منظور کردیا ۔ جس پر وہ بھی واک آوٹ کر گئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT