Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا سے کانگریس اور ٹی ایم سی کا بائیکاٹ

لوک سبھا سے کانگریس اور ٹی ایم سی کا بائیکاٹ

راہول گاندھی کیخلاف بی جے پی رکن کے ریمارک پر اپوزیشن کا احتجاج
نئی دہلی۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں نیشنل ہیرالڈ مسئلہ سے توجہ ہٹاکر کانگریس نے آج راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی کے ایک رکن کے قابل اعتراض بعض ریمارکس پر احتجاج کیا اور ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر سے کہا کہ وہ بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کرے جس کے بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے رکن پارلیمان کو خبردار کیا اور کہا کہ ان کا تبصرہ ’’غلط‘‘ ہے۔ کانگریس ارکان نے ترنمول کانگریس کے ساتھ مل کر ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کیا اور ایوان کا دن بھر کیلئے بائیکاٹ کیا۔ کانگریس نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ویریندر سنگھ کی جانب سے معذرت خواہی نہ کرنے پر برہمی ظاہر کی۔ پارلیمانی اُمور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کسی بھی قسم کے ذاتی ریمارکس کی مذمت کی جاتی ہے۔ ویریندر سنگھ نے جو اُترپردیش کے حلقہ بھدوائی کی نمائندگی کرتے ہیں، کل ایوان میں راہول گاندھی کے خلاف ریمارک کیا تھا جبکہ وہ خشک سالی کی صورتحال پر مباحث میں حصہ لے رہے تھے۔ کانگریس جس نے تحریک التواء پیش کی تھی، کارروائی کا آغاز ہوتے ہی اس مسئلہ کو اُٹھایا۔ کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ راہول گاندھی، جیوتر آدتیہ سندھیا اور سابق وزرائے اعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے خلاف بی جے پی رکن کے ریمارکس فطری طور پر قابل اعتراض اور صدمہ خیز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ وزراء کے بشمول حکمراں پارٹی کے ارکان ویریندر سنگھ کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کیا جاتا ہے اور انہیں انتباہ دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کانگریس کے ارکان خاموش نہیں رہے اور ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی کی جبکہ ایوان میں وقفہ صفر پر بحث جاری تھی۔نیشنل ہیرالڈ کیس کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں بھی آج تیسرے دن ہنگامہ آرائی دیکھی گئی اور حکمراں پارٹی کے ارکان نے ایوان کو عملاً یرغمال بنالیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT