Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج جاری ، اجلاس دو گھنٹے کیلئے ملتوی

لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج جاری ، اجلاس دو گھنٹے کیلئے ملتوی

ایوان کے وسط میں اپوزیشن ارکان کا راہول گاندھی کی زیرقیادت پرشور احتجاج ، اسپیکر کی اپیلیں بے اثر
نئی دہلی ۔ 3 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن ارکان کے کانگریس زیرقیادت پرشور احتجاج کا سلسلہ لوک سبھا میں آج بھی جاری رہا ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے انتباہ دیا کہ ارکان کے خلاف اگر وہ پلے کارڈ لہرانا بند نہ کریں تو کارروائی کی جائے گی ۔ اس کے بعد ایوان کا اجلاس دو گھنٹے کیلئے ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئیںکیونکہ ایوان کے اجلاس کے آغاز کے فوری بعد پرشور مناظر دیکھے گئے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں سمندری طوفان اور سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصان پر اظہاررنج و غم کیا گیا تھا۔ وقفۂ سوالات شروع کیا گیا ۔ 30 سے زائد کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور پلے کارڈس تھامے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان و مدھیہ پردیش کے چیف منسٹرس کے خلاف قرارداد کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کرنے لگے ۔ وہ للت مودی تنازعہ اور ویاپم مسئلہ پر ان تینوں قائدین کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے ۔ سماج وادی پارٹی ، راشٹریہ جنتادل اور جنتادل ( یو ) کے ارکان پلے کارڈس تھامے ہوئے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار کا برسرعام اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کرنے لگے ۔ چند ٹی آر ایس ارکان بھی پلے کارڈس تھامے ہوئے جن پر تلنگانہ کیلئے علحدہ ہائیکورٹ کا مطالبہ درج تھا ، ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی اپنی نشست سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے ۔ انھوں نے اپنی پارٹی کے ارکان سے ایوان کے وسط میں نعرہ بازی جاری رکھنے کی خواہش کی جبکہ یہ اراکان اُس وقت اپنے ڈسک تھپتھپا رہے تھے ۔ اسپیکر کی بار بار احتجاج ترک کردینے کی اور پلے کارڈس رکھ دینے کی اپیل کو ارکان نے توجہ نہیں دی ۔ انھوں نے اُن میں سے کئی افراد بشمول گورو گگوئی ، سشمیتا دیو ، دیپندر ہوڈا ، کے سی وینوگوپال اور راجیو ستاؤ کے نام لئے اور بعد ازاں انھیں کارروائی کی دھمکی دی ۔ پرشور احتجاج کے دوران مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ وقفۂ سوالات جاری رہے ۔ اس کے بعد اسپیکر نے ان افراد کے ناموں کا اعلان کیا جنھیں سوالات پوچھنے کی آج کے پروگرام میں اجازت دی گئی تھی ۔ وقفۂ سوالات بعد سوالات کے وزراء کی جانب سے جوابات کے ساتھ شروع ہوا لیکن شوروغل میں زیادہ تر سوال اور جواب سنائی نہیں دیئے ۔ اپوزیشن ارکان خاص طورپر کانگریس کے ارکان حکومت کے خلاف للت مودی تنازعہ اور ویاپم اسکام کے سلسلے میں احتجاج کررہے تھے جبکہ مانسون اجلاس گزشتہ ماہ شروع ہوا تھا ۔ جب کانگریس کے ارکان نے مرکزی وزیر مہیش شرما کے روبرو پلے کارڈس لہرائے جبکہ وہ ایک سوال کا جواب دے رہے تھے تو بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی اپوزیشن ارکان سے مرکزی وزیر کی تقریر میں دخل اندازی سے منع کیا ۔ شرما جنھیں اپنی سُبکی کا احساس ہورہا تھا ، جو وزیر مملکت برائے سیاحت و ثقافت ہیں ، کہا کہ وہ کسی بھی رکن کا جو اُن سے سوال کررہا ہے چہرہ نہیں دیکھ سکتے ۔ انھوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وزیر کو پہلے سوال سننے کا موقع دیا جائے ۔ اسپیکر نے بار بار احتجاجی ارکان سے اپنے پلے کارڈس نیچے رکھ دینے کی اپیل کی بلکہ اُن کے نام لیکر اُن سے اپیل کی ۔ قبل ازیں اسپیکر نے تحریکات التواء جو مختلف موضوعات پر تھیں بشمول کانگریس قائد ملک ارجن کھرگے کی تحریک التواء مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ ایسی نوٹسیں روزآنہ دی جاتی ہیں ۔ جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو ارکان نے سیلاب اور سمندری طوفانوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں جانی نقصان پر اظہارتشویش کیااور مختصر سے وقت کیلئے خاموش کھڑے رہے ۔

TOPPOPULARRECENT