Sunday , April 30 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ ،کارروائی درہم برہم اور ملتوی

لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ ،کارروائی درہم برہم اور ملتوی

ٹی ایم سی ارکان کا واک آئوٹ، سی بی آئی کے غلط استعمال کا الزام ،ای احمد کے ارکان خاندان سے نازیبا سلوک پر برہمی
نئی دہلی۔3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج بھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔ لوک سبھا کے سینئر ترین رکن ای احمد کے انتقال پر حکومت کے رویہ کے خلاف اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے تھے۔ متوفی قائد کے ارکان خاندان کے ساتھ حکمراں طبقے کا نازیبا رویہ افسوسناک تھا۔ جبکہ ترنمول کانگریس نے الزام عائد کیا کہ سی بی آئی کا سیاسی طورپر غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ایوان کی کارروائی ایک دن کے لیے ملتوی کردی گئی۔ ایوان میں جیسے ہی آج کارروائی کا آغاز ہوا اپوزیشن ارکان نے ای احمد کے مسئلہ صدائے احتجاج بلند کیا۔ ٹی ایم سی ارکان نے ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا اور واک آئوٹ کیا۔ ایوان کی کارروائی سب سے پہلے وقفہ صفر کے دوران 50 منٹ کے لیے ملتوی کی گئی اس کے بعد یہ کارروائی دو پہر تک التوا کا شکار رہی۔ ترنمول کانگریس کے ارکان نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے اندر مسلسل شور وغل پیدا کیا ۔ بعض ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے لگانے لگے۔ تلگودیشم پارٹی کے بعض ارکان نے بھی بینرس اٹھاکر احتجاج شروع کیا۔ یہ ارکان آندھراپردیش کے لیے خصوصی موقف کا مطالبہ کررہے تھے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان میں شور و غل کے درمیان کہا کہ میں آپ کو وقفہ صفر کے دوران اس مسئلہ کو اٹھانے کی اجازت دوں گی۔ وقفہ سوالات کے دوران یہ مسئلہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ میں آپ کو وارننگ دے رہی ہوں۔ اس کے باوجود ارکان کا احتجاج ختم نہیں ہوا ، اس کے بعد انہوں نے کارروائی ملتوی کردی۔ جب ایوان کی کارروائی دوپہر کے التوا کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے دوسری مرتبہ بھی کارروائی ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔ ایوان کارروائی کا جیسے ہی آغاز ہوا ایوان میں صرف چند وزراء دکھائی دیئے۔ پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر خاص کر کیرالا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر ای احمد کے انتقال پر حکومت کے رویہ پر تنقید کی۔ ای احمد سابق مرکزی وزیر اور انڈین یونین مسلم لیگ کے صدر تھے۔ دن کے ایک بجے ایوان کے اندر ایسے ہی مناظر دیکھے گئے۔ اس پر مسز سمترا مہاجن نے حکم دیا کہ صدر کے خطاب پر مباحث شروع کی جائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ نے خطاب کیا تھا، مرکزی وزیر مہیش شرما اس خطاب پر بحث کرنے کا اثرار کررہے تھے لیکن کئی اپوزیشن ارکان نے جن میں ریویلوشنری سوشلسٹ پارٹی کے رکن ایچ کے پریم چندرن، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وینوگوپال اور سی پی آئی ایم کے پی کروناکرن احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کے ارکان نے سی بی آئی کے مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا اور کہا کہ حکومت اس کے ارکان پارلیمنٹ کو نشانہ بنارہی ہے۔ پارٹی کے لوک سبھا لیڈر سدیپ بندھوپادیائے نے ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ مرکزی حکومت سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سی بی آئی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس کے ارکان پارلیمنٹ کو غلط نشانہ بنارہی ہے۔ سیاسی مقصد کے لیے سی بی آئی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ٹی ایم سی کے نائب لیڈر سوگوتا رائے نے کہا کہ بندھوپادیائے کے علاوہ ایک اور رکن پارلیمنٹ تپس پال کو بھی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار کیا ہے۔ ایوان میں شور و غل اور احتجاج کے جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT