Friday , October 20 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا میں مختلف مسائل پر اپوزیشن کا احتجاج، کارروائی میں خلل

لوک سبھا میں مختلف مسائل پر اپوزیشن کا احتجاج، کارروائی میں خلل

راجیہ سبھا میں جیٹلی کے ریمارکس پر شور و غل کے مناظر ، ایوان کے لیڈر کا تبصرہ حذف کرنے اپوزیشن کا مطالبہ
نئی دہلی۔26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج کانگریس سرکار نے مختلف مسائل پر مخالف حکومت نعرے لگاتے ہوئے اسے آمرانہ طرز عمل اختیار کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا لیکن ایوان کی کارروائی گڑبڑ کے دوران کسی طرح جاری رہی۔ ادھر راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی کے بعض ریمارکس پر ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا۔ لوک سبھا میں جیسے ہی وقفہ سوالات شروع ہوا، لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے گائو تحفظ کے نام پر دہشت گردی کا مسئلہ اٹھایا لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ وقفہ سوالات کے دوران جلد ہی کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور نعرے لگائے جیسے ’’پردھان منتری جواب دو‘‘، ’’تاناشاہی نہیں چلے گی‘‘، ’’ذات کے نام پر راج نیتی بند کرو‘‘۔ اسی دوران ترنمول کانگریس کے ارکان بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئے لیکن کانگریس اراکین کے ساتھ نعرے نہیں لگائے۔ وقفہ سوالات کے بعد کانگریس ارکان نے احتجاج جاری رکھا اور مختلف مسائل اٹھانے چاہے جیسے گائو تحفظ کے نام پر قتل اور کسانوں کی زبوں حالی۔ وزیر امور خارجہ سشما سواج عراق کے شہر موصل میں لاپتہ ہندوستانیوں کے بارے میں بیان دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کانگریس اراکین کا احتجاج جاری تھا اور کھرگے کو یہ کہتے سناگیا کہ وہ ہجوم کے تشدد اور قتل اور کسانوں سے متعلق مسائل اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس گڑبڑ کے دوران اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 12:45 بجے تک ملتوی کردی۔ راجیہ سبھا میں جیٹلی نے ریمارک کیا کہ التوا کی نوٹسیں محض تشہیر کے لیے دی جارہی ہیں۔ صبح 11 بجے دن کی کا رروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی جب کانگریس لیڈر آنند شرما نے قاعدہ 267 کے تحت ایک مسئلہ اٹھانا چاہا، جو کسی معاملہ کے لیے معمول کے کام کو معطل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ کئی دیگر ارکان نے بھی قاعدہ 267 کے تحت نوٹسیں دیئے تھے۔ ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے ان میں سے کسی نوٹس کو قبول نہیں کیا لیکن آنند شرما سے اپنا معاملہ بیان کرنے کے لیے کہا۔ شرما نے کہا کہ این ڈی اے حکومت گاندھی جی، نہرو اور اندرا گاندھی کی اہمیت گھٹانے کی کوششیں کررہی ہیں۔ اس پر جیٹلی نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ سستی شہرت کے لیے ہے جس کے ساتھ ہی پرشور احتجاج شروع ہوا اور اپوزیشن نے ایوان کے ریکارڈ سے جیٹلی کا تبصرہ حذف کردینے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT