Wednesday , October 18 2017
Home / سیاسیات / لوک سبھا میں گاندھی گری ، احتجاجی کانگریس ارکان کو گلاب کا تحفہ

لوک سبھا میں گاندھی گری ، احتجاجی کانگریس ارکان کو گلاب کا تحفہ

نئی دہلی 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک طنزیہ اقدام کرتے ہوئے بی جے پی کے بعض ارکان پارلیمنٹ نے اپنے حریف کانگریس ارکان کو جہاں وہ ایوان کے وسط میں جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے، کیوں کہ پنجاب میں دلت نوجوانوں پر مبینہ طور پر مظالم ڈھائے گئے تھے، گلابوں کا تحفہ پیش کیا۔ جب اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفہ سوالات کے التواء کے لئے دی ہوئی نوٹسوں کو مسترد کردیا ، جس میں سے ایک پنجاب کے دلتوں کے مسئلہ پر دی ہوئی نوٹس بھی تھی، کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور وزیراعظم اور پنجاب میں سمیکتہ اکالی دل ۔ بی جے پی مخلوط حکومت پر الزام عائد کررہے تھے کہ اُنھوں نے دو دلت نوجوانوں کے جسمانی اعضاء کاٹ دیئے ہیں، یہ واقعہ ابوہر میں ایک فارم ہاؤز میں پیش آیا تھا۔ کانگریس ارکان ’’وزیراعظم شرم کرو‘‘ کے نعرے لگارہے تھے، پنجاب حکومت کو برطرف کردو کا نعرہ بھی شامل تھا، اُسی وقت بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں داخل ہوئے اور احتجاجی کانگریسی ارکان پارلیمنٹ کو گلاب کے پھول پیش کئے۔ جلد ہی چند سینئر بی جے پی ارکان نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں کو ایوان کے وسط سے باہر کھینچ لیا۔ چند گلاب کے پھول لوک سبھا کی سکریٹریٹ کے عہدیداروں کی میزوں پر بھی ایوان کے وسط میں پڑے ہوئے دیکھے گئے۔ جیسے ہی ایوان کے اجلاس کا آغاز ہوا، اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ اُنھوں نے مختلف مسائل پر تحریکات التواء کو مسترد کردیا ہے۔ یہ مسائل بعد میں اُٹھائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ کانگریس قائد برائے لوک سبھا ملکارجن کھرگے نے کہاکہ دلت مسئلہ اہم ہے اور ان کی پارٹی کو اسے اٹھانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ جب کاشتکاروں کی حالت زار اور کپاس کی فصل پر کیڑوں کے حملہ کے بارے میں سوالات پوچھے جاسکتے ہیں تو اسپیکر یہ سوال تو کاشتکاروں کے بارے میں ہی ہے کانگریس ارکان کو اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسپیکر یہ اشارہ دے رہی تھیں جبکہ کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پرشور احتجاج کررہے تھے۔ جب انھوں نے وقفۂ سوالات جاری رکھا تو کانگریس ارکان نے تالیاں بجانا اور نعرے لگانا شروع کردیئے۔ وہ پرزور آواز میں سوالات پوچھ رہے تھے اور وزراء اُنھیں جواب دے رہے تھے۔ خلل اندازی کے دوران وقفہ سوالات جاری رہا۔ حالانکہ اسپیکر نے بار بار شوروغل پر اظہار تشویش کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ یہ مسئلہ وقفہ صفر کے دوران اُٹھایا جائے لیکن آپ نے نہیں سنا اور دیگر کئی ارکان کے حقوق سلب کرلئے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ آمریت ہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT