Saturday , July 22 2017
Home / مضامین / لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

محمد عثمان شہید، ایڈوکیٹ

بھارت امن کا علمبردار۔بھارت امن عالم بقائے باہم کانعرہ لگانے والا۔ بھارت کثرت میں وحدت کی تصویر۔ بھارت جہاں گائے کو ماں کا درجہ حاصل ہے ۔ اس کی پوجا کی جاتی ہے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اس کو انسان سے زیادہ حقوق حاصل ہیں، اس کو مارنے والے کو سزائے عمر قید دی جائے گی۔ بھارت جہاں گائے کا پیشاب دواؤں میں استعمال ہوتا ہے اور صحت کیلئے مفید سمجھا جاتا ہے ۔ بھارت اہنسا کے گیت گانے والا۔ بھارت جہاں مسلمانوں نے اقتدار ہاتھ میں لیا سربر آرائے سلطنت ہوئے ، سیاہ و سفید کے مالک بنے تو کبھی کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں کی ۔ کسی کو مذہبی اصولوں پر چلنے سے منع نہیں کیا ۔ کسی کے مقدمے میں ازروئے اسلامی قانون فیصلہ صادر نہیں کیا ۔ کسی کی عبادت گاہ کو مسمار نہیں کیا ۔ کسی کو زبردستی حلقہ بگوش اسلام نہیں کیا ۔ مختلف مذہب کے ماننے والوں میں نفرت پیدا نہیں ہونے دیا اور کہا   ؎
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
فرقہ وارانہ خطوط پر یہاں کے شہریوں میں کشیدگی پیدا ہونے نہیں دیا ۔ گائے کو ماتا کہنے والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے گاؤکشی پر امتناع عائد کردیا ۔ مغلیہ سلطنت کے بانی بابر نے یہی پالیسی اختیار کی ۔ اکبر نے اس پر عمل کیا اور اتنا آگے بڑھ گیا کہ زندگی  بھرگوشت کھانے سے پرہیز کرتا رہا ۔ والی دکن میرمحبوب علی پاشاہ نے بھی گائے کشی پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ نظام دکن میر عثمان علی خاں بہادر نے بھی یہی عمل دہرایا ۔ اکثریت کو ناراض ہونے نہیں دیا ۔ شہنشاہ عالمگیر اورنگ زیب نے بھی اس امتناع کو برقرار رکھا ۔ مسلمانوں کی طاقت کے مظہر ان  شہنشاہوں اور بادشاہوں نے کبھی بھی اکثریت کے مذہبی جذبات و احساسات کو پامال نہیں کیا ۔ اس کی مکمل پاسبانی کی ۔ کسی کی مذہبی بنیادوں پر دل شکنی یا ناانصافی نہیں کی ۔ فرقہ وارانہ نفرت کو جنم لینے نہیں دیا ۔ مندروں کو ایکروں زمین اور لاکھوں روپئے کا عطیہ دیا اور اسی بھارت پر جب انگریزوں نے حکومت کی تو ان کی قلیل فوج اتنے بڑے ملک پر اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں ناکام رہی ۔ تب انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کے بیج بوئے ۔ اس نفرت کے بیج سے جو پودا سر ابھارا اس کی آبیاری نفرت کی کوکھ سے پیدا ہونے والی تنظیموں جیسے ’’ہندو مہا سبھا‘‘ ، ’’آر ایس ایس‘‘، ’’بجرنگ دل ‘‘، ’’ وشوا ہندو پریشد‘‘ نے خوب کی ۔ مسلمانوں کو ملیچ (ناپاک) کہا گیا ۔ ان کے مذہب کے خلاف ستیارتھ پرکاش، بنچ آف تھاٹس ، رنگیلا محمد، انڈیا نائزیشن اور آنند مٹھ جیسی نفرت سے بھرپور اہانت آمیز خون کو کھولانے والی جذبات کو مجروح کرنے والی کتابیں لکھی گئیں۔ اس نفرت کے زہر کو آر ایس ایس نے اپنی شاکھاؤں کے ذریعہ خوب خوب پھیلایا۔ نتیجتاً 70 سال کے بعد بی جے پی نے مکمل سیاسی اقتدار حاصل کرلیا ۔ اس اقتدار کے نشے میں وہ اتنے مدہوش ہوگئے کہ وہ بھول گئے کہ یہاں 25 کروڑ مسلمان بھی رہتے بستے ہیں جن کی علحدہ شناخت ہے ، جن کے آبا و اجداد نے 25 اگست 1947 ء کی صبح یہ قسم کھائی تھی کہ وہ بھارت میں ہی رہیں گے  اور اسی ملک کی دو گز زمین لیکر مریں گے  اور صبح آزادی سے تادم تحریر مسلمان اپنے آبا و اجداد کی قسم کی لاج رکھتے آئے ہیں ۔ انہوں نے عہد کرلیا ہے کہ ’’اب دوسری ہجرت نہیں ہوگی‘‘۔ افسوس کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا دامن مسلم کش فسادات میں مارے جانے والے بے گناہ معصوم و مظلوم مسلمان کے خون سے آلودہ ہے ۔ ہزاروں فسادات اور ایسی لوٹ مار مارکاٹ زندہ جلادینے والے اور عصمت دری کے انسانیت سوز واقعات کے بعد کوئی اور قوم ہوتی تو یا اپنا مذہب بدل دیتی یا اس ملک کو خیر باد کہہ دیتی۔ لیکن مسلمانوں نے اپنے گلے ذبح کرنے کیلئے پیش کردیتے۔ اپنے سینے گولیوں سے چھلنی کرنے کیلئے پیش کردیئے اور یہی کہتے رہے۔
تیر پر تیر چلاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
سینہ کس کا ہے میری جان جگر کس کا ہے
بچیوں کی عصمت دری ہوئی ، دکانات ، مکانات اور کھیت جلائے گئے ۔ مذہبی عمارتیں تباہ کی گئیں۔ قرآن کی بے حرمتی کی گئی لیکن انہوں نے ’’جئے شری رام‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا ۔ انہوں نے دامن اسلام کو نہیں چھوڑا۔ اپنی تہذیب اپنے کلچر اپنے مذہبی اصولوں کو گلے سے لگا رکھا اس لئے کہ
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
مسلمانوں کو یقین ہے کہ ٹھنڈی ہوا کا مطلب کوئی انقلاب کی پیش گوئی ہے جس کیلئے ہم کو مصیبتوں اور ظلم کے آگ میں تپایا جارہا ہے تاکہ ہم اچھی طرح تپ کر کندن بن کر نکلیں۔ ہم کو قدرت پرخار راہوں پرچلنے کیلئے مجبور کر رہی ہے ۔ شہادت کے جام پلائے جارہے ہیں کیونکہ
یہ شہادت کہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا اگر مسلمان کو چیونٹی بھی کاٹ لے تو اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔  پھر ایسی تکالیف ، مصیبتیں ، درد و غم سہنے کے بعد ہمارا کیا حشر ہوگا ۔ میدانِ حشر میں ؟
آج اقتدار کے نشہ میں بی جے پی کے بعض کرتا دھرتاؤں نے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ دینے والے ’’رام زادے‘‘ ہیں اور نہ دینے والے ’’حرام زادے‘‘ ہیں۔ اس طرح ہماری ماؤں کے عمصت پر انگشت نمائی کی گئی ۔ اس گالی کو مسلمان جیسی عالی ہمت بلند حوصلہ و بلند عزائم رکھنے والی قوم ہی برداشت کرسکتی تھی ۔ برداشت کیا۔ گھر واپسی کا نعرہ لگاکر بعض نام نہاد مسلمانوں کو شدھی کرن کیا گیا اور ہندو مذہب میں داخل کرلیا۔ اور ہم نے برداشت کرلیا ۔ مسجدوں پر حملے کئے گئے ۔ نماز پڑھنے نہیں دیا گیا ۔ ہم نے برداشت کرلیا ۔ اخلاق کو صرف گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں قتل کردیا گیا ۔ ہم نے برداشت کرلیا ۔ ایک مسلمان کو گوبر کھانے پر مجبور کیا گیا ۔ ہم نے برداشت کرلیا ۔ جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے والوں پر گجرات میں شدید مارپیٹ کی گئی ہم نے برداشت کرلیا ۔ کشمیرمیں نوجوان اور معصوم نوجوانوں پر پلیٹ گنس سے فائرنگ کی گئی اور وہ عمر بھر کیلئے اندھے ہوگئے ۔ یہ بھی برداشت کرلیا ۔ اب ہمیں وندے ماترم پڑھنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے  اور کہا جارہا ہے کہ وندے ماترم نہ پڑھیں تو پاکستان چلے جاؤ۔ وندے ماترم میں مشرکانہ کلمات ہیں  جو مسلمان نہیں پڑھ سکتا جنہیں پڑھنے سے مسلمان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ اس میں کیا گیا ہے کہ میں زمین کی پوجا کرتا ہوں ۔ یہاں تک کہ یوگی ادتیہ ناتھ نے پاکستان جانے کیلئے مسلمانوں کو کرایہ دینے کی پیش کش کردی ۔
اسکولی طلباء کو ’’سوریہ نمسکار‘‘ جیسی مشرکانہ رسم ادا کرنے کیلئے کہا جارہا ہے  جو اسلامی تعلیم وحداینیت کے خلاف ہے۔ مذہب اسلام کی قرآنی تعلیمات جیسے حلالہ اور وراثت پر عمل کرنے سے روکا جارہا ہے ۔ یہ قوانین اپنی ظالمانہ اکثریت  کی بنیاد پر بی جے پی لوک سبھا میں راجیہ سبھا میں بل پیش کر کے قانون مدون کرسکتی ہے لیکن مسلمان سچا مسلمان ایسے کسی فیصلہ یا قانون کو قبول نہیں کرے گا ۔ اب برداشت کی حد ختم ہورہی ہے ۔ ’’طلاق ثلاثہ‘‘ قرآنی قانون نہیں ہے لیکن اس پر ’’اجماع‘‘ ہے اس کو غیر قانونی قرار دینا شریعت محمدی میں مداخلت ہے ۔ نام نہاد مسلمان اکثریت کے مدون قوانین کو قبول کرلیں گے لیکن یاد رہے کہ اسلامی قوانین پر عمل نہ کرنے والا مسلمان باقی نہیں رہتا۔ مسٹر ’’مودی‘‘ تم اقتدار کے نشہ میں کچھ بھی کرسکتے ہو لیکن اس سے قبل تاریخ پر نظر ڈال لو ، بغداد میں تاتاریوں نے ایک ہی دن میں دو لاکھ سے زائد مسلمان عورتوں بچوں بزرگوں جوانوں کو قتل کردیا لیکن مسلمان نہیں مٹے۔ اسپین میں مسلمانوں کو حرف غلط کی طرح مٹادیا گیا لیکن مسلمان نہیں مٹے۔ فرعون نے ایک بچے کو ہلاک کرنے کیلئے ستر ہزار بچوں کو ہلاک کردیا لیک موسیٰ کو ہلاک نہ کرسکا۔ ابراہیمؑ کو آگ میں پھینک دیا گیا اور آگ گلزار بن گئی ۔
مسلمانوں کی حفاظت ان کا خالق ایزدی کرنے والا ہے جس نے یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے زندہ برآمد کیا۔ وہ اللہ آج بھی زندہ ہے جس نے ابراہیمؑ پر آگ کو گلزار کردیا ۔ وہ اللہ آج بھی زندہ ہے ۔ مودی ادتیہ ناتھ تم اپنی پوری  طاقت استعمال کرلو لیکن مسلمانوں کو ملک بدر نہیں کرسکتے۔ نہ انہیں مٹایا جاسکتا ہے نہ اسلام کے دامن پر شکن پڑسکتی ہے۔ مظلوم کی آہ سے بچو، یہ کاخِ ایوان کو ہلادیتی ہے۔ یہ ظالم کے موت کا سامان ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT