Thursday , June 29 2017
Home / شہر کی خبریں / لوگ ہنوز مطمئن ہیں پی وی کونڈل راؤ

لوگ ہنوز مطمئن ہیں پی وی کونڈل راؤ

ورنگل ۔ 5 ۔ جون : مشن بھاگیرتا درمیانی مرحلہ میں ہے ، مشن کاکتیہ کے بلز مختلف سطحوں پر زیر التواء ہیں ۔ بے روزگار نوجوان رکروٹمنٹ کے لیے اعلامیہ کے جاری ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔ نئے اضلاع کی تشکیل اور اضلاع کی تعداد میں اضافہ کرنے سے عوام کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں آسکی ہیں ۔ اب بھی دیہی تلنگانہ میں موجودہ حکومت اور اس کی پالیسیوں سے اطمینان محسوس کیا جارہا ہے اگر کوئی ورنگل ریجن میں دیہی عوام کے احساسات سے واقف ہو تو یہ معلوم ہوگا ۔ آسرا پنشنس ، کے سی آر کٹس اور آنگن واڑی ورکرس ، آشا ورکرس اور ولیج ورکرس کی تنخواہوں میں حالیہ اضافہ سے ریاست میں حکومت کی تین سالہ بہتر کارکردگی کا ثبوت ملتا ہے ۔ یہ بات موجودہ ورنگل اربن ڈسٹرکٹ میں مپارم کے ایک شخص ایکل کیداری نے کہی ۔ وہ ایک ریٹائرڈ تاڑی تاسندہ کے طور پر 1000 روپئے پنشن حاصل کررہا ہے ۔ اس 60 سالہ تاڑی تاسندہ کا کہنا ہے کہ وہ بے کار ہوگیا ہے اور 60 سال کی عمر میں کوئی چھوٹا کام تلاش کرنے شہری علاقہ کو جانے پر مجبور ہوا تھا ۔ اس شخص نے کہا کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد میرا خاندان گھر واپس ہوگیا اور اس طرح حکومت کی جانب سے ضروری مدد فراہم ہورہی ہے ۔ نارائن گیری اور کوملاپلی ولیجس کے چند مزید لوگوں نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا جنہوں نے کہا کہ پنشنس کی ادائیگی سے اگرچیکہ سرکاری خزانہ پر بار ہوگا تاہم اس سے حکومت کے لیے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور انتخابات میں اس کا اثر ظاہر ہوگا ۔ عمر رسیدہ اشخاص ، تاڑی تاسندوں اور تنہا رہنے والی خواتین کو پنشن کی ادائیگی سے انتخابات میں حکمران جماعت ٹی آر ایس کو یقینا فائدہ ہوگا اور اس کی وجہ اسے ووٹ حاصل ہوں گے ۔ مپارم ، نارائن گیری اور کوملا پلی کا تجربہ کئی پہلووں سے سچائی کا آئینہ دار ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد زبردست تبدیلی محسوس کررہے ہیں ۔ تاہم ان کا احساس ہے کہ بعض اسکیمات پر عمل درآمد نہ ہونے سے حکومت کے لیے کچھ مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی ہے لیکن حکومت بعض اسکیمات کو جلد روبہ عمل لانے کے سلسلہ میں اقدامات کررہی ہے اس لیے اس کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگی ۔ تجزیہ کار وینکٹ نرسمہا راؤ کا کہنا ہے کہ بعض لوگ اس ریجن میں اپوزیشن پارٹی کے داخلہ کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں ۔ وہ ان کے مسائل پر توجہ دینا چاہتے ہیں اور اس کی تفصیلات سے اپوزیشن کو واقف کروانا چاہتے ہیں لیکن نئی ریاست میں ذمہ دار اپوزیشن نہیں ہے ۔ موجودہ چیف منسٹر نے تلنگانہ مومنٹ کے دوران جابس میں ایک لاکھ کے اضافہ کا تیقن دیا تھا لیکن تاحال یہ تیقن پورا نہیں ہوا اور حقیقت نہیں بنا ۔ جس کی وجہ کئی دیہی علاقوں میں بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اسے ایک فائدہ کے طور پر نہیں لے سکتی ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT