Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / لڑکیوں کی بہتری کیلئے پرکشش نعرے لیکن عمل نہیں

لڑکیوں کی بہتری کیلئے پرکشش نعرے لیکن عمل نہیں

اکشیاترتیا کے موقع پر ملک بھر میں کمسن لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں،سپریم کورٹ کی مرکز پر تنقید
نئی دہلی ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بہبود اسکیمات اور دلفریب نعرے کسی بھی بیداری مہم کیلئے بہت اچھے ہیں لیکن ان پر مؤثر عمل آوری پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ لڑکیوں کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہیں۔ سپریم کورٹ نے آج کم عمر بیوی کے ساتھ شوہر کی مباشرت کو ’’ازدواجی عصمت ریزی‘‘ قرار دینے کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے یہ ریمارک کیا۔ عدالت نے کہاکہ حکومت نے کم عمری میں شادی کے خطرات کو تو محسوس کیا لیکن اس کا اثر زائل کرنے کیلئے اس نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے تاکہ لڑکیوںکو ازدواجی عصمت ریزی سے بچایا جاسکے۔ عدالت کا یہ تبصرہ اس لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ حکومت لڑکیوں کی بہتری کیلئے سرگرم مہم چلارہی ہے۔ دو ججس نے اپنے فیصلہ میں حکومت کے ان پروگرامس پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ عمل آوری کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ملک میں کمسن لڑکیوں کی شادی کے رواج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں کو چاہئے کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی کی روک تھام کیلئے اقدامات کریں۔ سپریم کورٹ نے موسم بہار کے تہوار اکشیاترتیا کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کم عمر لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور حکومت پر زور دیا کہ اسے اس طرح کی شادیوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں کمسن لڑکیوں کی شادیاں انجام پاتی ہیں اور کمسنی میں شادیوں پر امتناع قانون کی دفعہ 13 میں یہ اشارہ دیا گیا ہیکہ اکشیاترتیا کے موقع پر کمسن لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں انجام دی جاتی ہیں۔ واضح رہیکہ اکشیاترتیا موسم بہار کا تہوار ہے جو ہندو مناتے ہیں۔سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ مباشرت کو خواہ وہ شوہر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، جرم نہ قرار دینے پر بھی مرکز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔عدالت نے اس سنگین جرم کو محض اس بنیاد پر درست قرار دینے کو بھی مسترد کردیا کہ یہ رواج طویل عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ حکومت ہند نے کیا کیا؟ کیا اس نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی کوشش کی؟ عدالت نے کہا کہ قانون میں کسی بھی عذر کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا اور اسے قبول کرنا مشکل ہے۔

TOPPOPULARRECENT