Wednesday , September 27 2017
Home / پاکستان / لڑکے کو ہاتھ قلم کرنے پر اکسانے والے عالم دین کی گرفتاری

لڑکے کو ہاتھ قلم کرنے پر اکسانے والے عالم دین کی گرفتاری

لاہور۔17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں ایک مسجد کے ایک عالم دین کو دہشت گردی کے الزام کے تحت گرفتار کرلیا گیا جس پر ایک کمسن بچہ کو گستاخی کا مرتکب بناتے ہوئے اس کو مبینہ طور پر اپنا ہاتھ قلم کرنے کے لئے اکسایا تھا۔ اس عالم دین شبیر احمد کو کل نیشنل ایکشن پلان کے تحت گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر گزشتہ ہفتہ صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑھ کی ایک مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے شرکاء سے کہا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہاتھ اٹھائیں جو پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ سے (نعوذو باللہ) محبت نہیں کرتے جس پر 15 سالہ کمسن لڑکا محمد انور جو وہاں موجود تھا اس (عالم) کا سوال پوری طرح سمجھے بغیر غلطی سے اپنا ہاتھ اٹھادیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ ’’اس پر عالم دین اور دیگر چند افراد نے فوری طورپر اس لڑکے پر گستاخی کا الزام لگادیا۔ عالم نے لڑکے سے کہا تھا کہ وہ صرف ’’اپنا گستاخ ہاتھ قلم‘‘ کرتے ہوئے ہی اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرسکتا ہے۔‘‘ بعدازاں لڑکا اپنے گھر گیا اور وہ ہاتھ کا قلم کردیا جو اس نے خطبہ کے دوران اٹھایا۔ اس نے اپنا کٹا ہوا ہاتھ ایک پلیٹ میں رکھ کر عالم دین کو پیش کیا۔ لڑکے کے اس اقدام پر ان کے والدین اور پڑوسیوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مقامی پولیس سربراہ نوشاد احمد نے کہا کہ لڑکے کے خاندان نے پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کروائی اور دعوی کیا کہ لڑکے نے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ سے اپنی محبت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ قلم کیا ہے اور عالم دین کا اس عمل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ عالم دین کے خلاف کاروائی سے لڑکے کے خاندان کے انکار کے بعد پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے بشمول دہشت گردی مختلف قانونی دفعات کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ بعدازاں اس عالم دین کو جوڈیشیل مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا گیا جنہوں نے اس کو مزید پوچھ گچھ کی غرض سے دو روزہ تحویل میں دے دیا۔ پاکستان میں گستاخی ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے جہاں کسی الزام پر ثبوت کے بغیر پرہجوم کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشدد اور الزام کا سامنا کرنے والوں کو مارمار کر ہلاک کردینے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT