Sunday , May 28 2017
Home / Top Stories / لکھنؤ میں انسداد دہشت گردی کارروائی ختم، ایک مشتبہ دہشت گرد ہلاک

لکھنؤ میں انسداد دہشت گردی کارروائی ختم، ایک مشتبہ دہشت گرد ہلاک

سیف اللہ کو زندہ پکڑنے کی کوشش ناکام، ٹرین دھماکے سے مشتبہ طور پر مربوط نوجوان کا داعش سے تعلق ہونے کا دعویٰ

لکھنؤ ۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے دعویٰ کیا ہیکہ ایک مشتبہ دہشت گرد اس کو زندہ پکڑنے کیلئے کی گئی 12 گھنٹوں کی انسداد دہشت گردی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگیا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس (امن و قانون) دلجیت چودھری نے کہا ہیکہ ’’اس گھر کے دروازے کھولنے کے بعد (جہاں دہشت گرد روپوش تھا) سیکوریٹی فورسیس اندر داخل ہوئے اور مشتبہ شخص اپنے اسلحہ کے ساتھ مردہ پایا گیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وقت کے ایک مرحلہ پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اس گھر میں ایک سے زائد افراد روپوش ہیں‘‘۔ چودھری نے کہا کہ ’’اب یہ کارروائی ختم ہوچکی ہے‘‘۔ ماباقی قانونی کارروائیاں مابعد تکمیل پائیں گی۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے انسپکٹر جنرل اسیم ارون نے توثیق کی کہ مہلوک مشتبہ دہشت گرد آئی ایس آئی ایس کا سرگرم کارکن تھا۔ ارون نے کہا کہ ’’مقتول مشتبہ دہشت گرد آئی ایس آئی ایس (داعش) کے خراساں موڈیل سے تعلق رکھتا تھا اور وہ اس کا سرگرم رکن تھا لیکن اس نے بیعت لیا تھا یا نہیں اس کی توثیق ہنوز باقی ہے‘‘۔ مدھیہ پردیش کے ضلع شجاپور میں جابڈی ریلوے اسٹیشن کے قریب بھوپال ۔ اجین پاسنجر ٹرین میں دھماکہ سے مشتبہ طور پر مربوط اس نوجوان کو پکڑنے کیلئے انسداد دہشت گردی کارروائی کی گئی تھی۔ اس ٹرین دھماکہ میں 10 افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں 3 کی حالت تشویشناک ہے۔ انسداد دہشت گردی کارروائی کے اختتام کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ارون نے کہا کہ ’’مشتبہ دہشت گرد کو (جس کی شناخت سیف اللہ کی حیثیت سے کی گئی ہے) زندہ پکڑنے کی کوشش کی گئی

لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ ہم نے آنسو گیس اور آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والے بموں کا استعمال کیا تھا تاکہ وہ باہر آ سکے لیکن وہ باہر نہیں آیا‘‘۔ بعدازاں (مشتبہ نوجوان کو وارننگ دیتے ہوئے) اے ٹی ایس کمانڈوز گھر میں گھس پڑے اور مشتبہ دہشت گرد نے اے ٹی ایس کمانڈوز پر فائرنگ کی جس کے بعد جواب میں کمانڈوز نے بھی فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ بعدازاں دو کمروں کی تفصیلی تلاشی لی گئی اور ایک شخص مردہ پایا گیا، جس کی شناخت سیف اللہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ارون نے کہا کہ اس کے قبضہ سے ایک پستول، ایک ریوالور، چاقو اور گولہ بارود برآمد ہوئے ہیں۔ ارون نے مزید کہا کہ کمانڈوز نے دیکھا کہ سیف اللہ کے پیٹ سے ایک تار باندھا ہوا تھا ’’ہمیں شبہ ہیکہ یہ (تار) دھماکہ خیز مواد کا حامل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ بموں کو ناکارہ بنانے والا دستہ طلب کیا گیا ہے جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوگا‘‘۔ اس گھر میں دو دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق پہلے دی گئی اطلاعات کے بارے میں آئی جی اے ٹی ایس نے کہاکہ ’’ہم چونکہ (مشتبہ دہشت گردی کی) تفصیلات کو یقینی بنانے کیلئے ٹیوب کیمرہ استعمال کررہے تھے۔ تصاویر زیادہ واضح نہیں تھیں۔ ایک مرحلہ پر ایسا محوس ہوا کہ اس گھر میں غالباً دو دہشت گرد موجود ہیں لیکن جب تلاشی اور صفائی کی مہم مکمل ہوگئی تو صرف ایک نعش ہی دستیاب ہوئی۔ مہلوک دہشت گرد کے دہشت گردوں سے امکانی رابطوں کے بارے میں تبصرہ کی خواہش پر ارون نے جواب دیا کہ دوران تحقیقات تفصیلات منظرعام پر آئیں گی۔

 

’’غدار بیٹے کی نعش نہیں لوں گا‘‘، میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں :سرتاج
کانپور، 08 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے لکھنؤ میں انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) کی کارروائی میں مارے گئے دہشت گرد سیف اللہ کے والد نے نعش لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی سے کھلواڑ کرنے والے سے میرا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے ۔ اسے تو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا۔چکیری علاقے کے جاج مؤ ٹیلہ میں رہنے والے سیف اللہ کے والد سرتاج نے کہا ‘تقریباً ڈھائی ماہ پہلے وہ گھر سے ممبئی جانے کی بات کہہ کر نکلا تھا۔ وہاں سے وہ ویزا لے کر دبئی جانے والا تھا،جس کے بعد سے اس نے ہم سے کبھی رابطہ نہیں کیا۔میں نہیں جانتا کہ وہ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے کیسے وابستہ ہوگیا۔اپنے وطن کی مٹی کے ساتھ غداری کرنے والے کے والد کہتے ہیں کہ مجھے ذلت محسوس ہوتی ہے ۔ میرے کنبہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیف اللہ کے لاش نہیں لیں گے ۔ اسے تو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا۔’باپ کے علاوہ ارد گرد رہنے والے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں نے بھی انکاؤنٹر میں مارے گئے سیف اللہ کے دہشت گرد ہونے کی اطلاع پر دوریاں بناتے ہوئے اس موضوع پر کچھ بھی معلومات ہونے سے انکار کر دیا۔ اے ٹی ایس کی مہم میں مارے گئے دہشت گرد سیف اللہ کے بھائی خالد نے بھی لاش لینے سے انکار کیا ہے ۔خالد نے بتایا سیف اللہ نے بی کام کی تعلیم حاصل کی تھی۔ فی الحال اے ٹی ایس اور پولیس کی جوائنٹ ٹیم کے ساتھ انٹیلی جنس، ایل آئی یو نے انکاؤنٹر میں مارے گئے دہشت گرد کے اہل خانہ کے گھر کے باہر محاصرہ کر رکھا ہے اور ان کی ہر سرگرمی کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے ۔

میرے بیٹے بے قصور ہیں
دیگر دو مشتبہ افراد کے والد کا دعویٰ
کانپور۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے ایک گھر میں انسداد دہشت گردی مہم میں ہلاک واحد مشتبہ دہشت گرد سیف اللہ کے والد سرتاج نے اگرچہ اپنے بیٹے کو غدار قرار دیتے ہوئے اس کی نعش لینے سے بھی انکا ر کردیا ہے لیکن دہشت گردی کے دیگر دو مشتبہ ملزمین کے والد نے دعویٰ کیا ہیکہ ان کے بیٹے بے قصور ہیں اور انہوں نے الزامات کی منصفانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT