Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / لکھنؤ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیلئے اراضی الاٹمنٹ کا تیقن

لکھنؤ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیلئے اراضی الاٹمنٹ کا تیقن

چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ سے چانسلر یونیورسٹی ظفر سریش والا کی ملاقات
حیدرآباد۔14 اپریل (سیاست نیوز) اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنو میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے لیے 12 ایکڑ اراضی الاٹ کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ظفر سریش والا نے لکھنو میں یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں سے واقف کروایا۔ تقریباً نصف گھنٹے سے زائد جاری رہی انفرادی بات چیت میں مسلمانوں کے دیگر مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے اترپردیش میں اس کے کیمپس کے قیام کو منظوری دی اور کہا کہ ملک میں یونیورسٹی کا یہ 12 واں کیمپس ہوگا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلم قابل لحاظ آبادی والی اس ریاست میں یونیورسٹی کے کیمپس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ مسلمان مختلف شعبوں میں کافی پسماندہ ہیں جو ان کی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے ظفر سریش والا کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ کیمپس میں تعلیمی کورسس کے ساتھ ساتھ فنی مہارت کے کورسس شروع کیئے جائیں جس میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بھی شرکت کا یکساں موقع فراہم کیا جائے۔ اس طرح مسلم نوجوانوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ظفر سریش والا نے انہیں تعلیم و تربیت کے عنوان سے ملک بھر میں چلائی جارہی مہم کی تفصیلات سے واقف کروایا اور مئی کے تیسرے ہفتے میں لکھنو میں کانفرنس کے انعقاد کی اطلاع دی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس پروگرام میں شرکت اور خطاب سے اتفاق کیا۔ ظفر سریش والا کے مطابق چیف منسٹر اترپردیش نے دینی مدارس کو مستحکم کرنے کے لیے مدرسہ بورڈ کو متحرک کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اترپردیش میں 21 ہزار سے زائد مدارس ہیں اور ان میں بیشتر کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ آدتیہ ناتھ ان مدارس کو مدرسہ بورڈ کے تحت یو پی یا سی بی ایس سی نصاب کے تحت ترقی دینا چاہتے ہیں۔ ظفر سریش والا نے آدتیہ ناتھ سے ملاقات کو حوصلہ افزاء قرار دیا اور کہا کہ یوگی کے برسر اقتدار آنے کے بعد جن اندیشوں کا اظہار کیا جارہا تھا انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی کے کام انجام پائیں گے۔ ظفر سریش والا نے آدتیہ ناتھ کو اسلام میں تعلیم کی اہمیت اور دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کی تعلیمات سے واقف کرایا جس پر آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وہ اسلامی تعلیمات سے واقف ہیں اور کسی بھی مذہب میں نفرت کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ظفر سریش والا کے مطابق کشمیر کے برسر اقتدار پارٹی کے قائد سجاد لون نے سری نگر میں 6 ایکڑ اراضی پر لڑکیوں کے لیے پالی ٹیکنیک اور ہاسٹل کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ ظفر سریش والا نے امید ظاہر کی کہ اترپردیش اور کشمیر میں یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں وسعت دینے کے منصوبے کو جلد ہی کامیابی ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT