Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / لیبیائی طیارہ کے اغواء کا مالٹا میں پرامن اختتام

لیبیائی طیارہ کے اغواء کا مالٹا میں پرامن اختتام

اغوا کنندگان کی خودسپردگی، قذافی سے اظہار وفاداری
ولیٹا۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لیبیا کے ایک مسافر بردار طیارہ کے اغوا کا سنسنی خیز واقعہ بالآخر مالٹا میں آج پرامن طور پر اپنے اختتام کو پہنچا جہاں اغوا کنندگان نے تمام 118 مسافرین کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا کرتے ہوئے حکام کے آگے خود کو خودسپرد کردیا۔ ان اغواء کنندگان نے لیبیا کے مقتول ڈکٹیٹر معمر قذافی سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ ٹیلیویژن فٹیج میں دکھایا گیا کہ دو افراد کو جنہوں نے اس طیارہ کا اغوا کیا تھا ہتھکڑیاں پہنا کر طیارہ سے اتار کر باہر لایا گیا۔ بحرۂ روم کے چھوٹے جزیرہ مالٹا کے وزیراعظم جوزف مسکٹ نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’اغوا کنندگان نے خود کو حکام کے سپرد کردیا جنہیں تلاشی کے بعد تحویل میں لے لیا گیا۔ ایربس 320 طیارہ لیبیا میں جمعہ کی صبح اندرون ملک پرواز پر تھا کہ شمالی ساحلی لیبیا سے اس کا رخ مالٹا کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ ایک اغواء کنندہ شخص نے عملہ کو بتایا تھا کہ اس کے پاس دستی بم ہے۔ دوسرے شخص نے کہا تھا کہ وہ معزول لیڈر معمر قذافی کے وفادار ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مطالبات کی تکمیل پر تمام مسافرین کو بحفاظت چھوڑ دیا جائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ ان کے مطالبات کیا ہے۔ مالٹا انٹرنیشنل ایرپورٹ پر مغویہ طیارہ سے مسافرین کے اترنے کے بعد ایک اغوا کنندہ شخص طیارہ کی سیڑھیوں پر وہ سبز پرچم لہرا رہا تھا جو قذافی کے دورمیں لیبیا کا قومی پرچم تھا۔ ایک شخص نے اپنا نام موسیٰ شاہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ فتح جدید کا نیا سربراہ ہے۔ الفتح وہ نام ہے جو ستمبر کو قذافی نے دیا تھا کیونکہ 1969 کے دوران اس ماہ (ستمبر) میں قذافی نے بغاوت کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT